پشاور: پشاور پریس کلب اور ہب آف پرائیویٹ ایجوکیشن (ہوپ) خیبر پختونخوا کے درمیان ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت صحافیوں کے بچوں کو نجی تعلیمی اداروں میں نمایاں مالی رعایت فراہم کی جائے گی۔
یہ معاہدہ پشاور پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران طے پایا، جس میں پریس کلب اور ہوپ کے اعلیٰ عہدیداران سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں پریس کلب کے صدر ایم ریاض، نائب صدر و چیئرمین ایجوکیشن کمیٹی ضیاء الحق، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، فنانس سیکرٹری ارشاد علی اور گورننگ باڈی کے رکن سیف الاسلام سیفی شریک ہوئے۔ جبکہ ہوپ کی نمائندگی صدر عقیل رزاق، سینئر نائب صدر انعام اللہ، ٹاؤن ون کے صدر محمد عدیل اور ٹاؤن تھری کے صدر ارسلا خان سمیت دیگر عہدیداران نے کی۔
معاہدے کے مطابق ہوپ کے تحت رجسٹرڈ تمام نجی اسکولوں میں پشاور پریس کلب کے ممبر صحافیوں کے بچوں سے داخلہ فیس وصول نہیں کی جائے گی، جبکہ ماہانہ ٹیوشن فیس میں کم از کم 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، پریس کلب ہوپ کی مثبت تعلیمی سرگرمیوں کو میڈیا میں اجاگر کرنے میں تعاون فراہم کرے گا، جبکہ ہوپ کو پریس کلب میں پریس کانفرنسز اور سیمینارز کے انعقاد کے لیے ہال اور دیگر سہولیات بغیر کسی فیس کے مہیا کی جائیں گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایم ریاض نے کہا کہ صحافی برادری کی فلاح و بہبود موجودہ باڈی کی اولین ترجیح ہے، اور یہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے ایجوکیشن کمیٹی، خصوصاً ضیاء الحق کی سربراہی میں ہونے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ ممبران کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط طبقے، خصوصاً صحافیوں، کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں یہ معاہدہ نہ صرف صحافی خاندانوں کے لیے ریلیف فراہم کرے گا بلکہ تعلیم تک رسائی کو بھی آسان بنائے گا۔
ماضی میں بھی پشاور پریس کلب کی جانب سے اپنے ممبران کے لیے فلاحی اقدامات کیے جاتے رہے ہیں، تاہم تعلیمی شعبے میں اس نوعیت کا باقاعدہ اور جامع معاہدہ ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ ماڈل دیگر شہروں اور اداروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، جس سے صحافی برادری کے سماجی و معاشی حالات میں بہتری آئے گی۔
یہ معاہدہ صحافیوں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات میں نمایاں بہتری کی جانب ایک مثبت قدم ہے، جس کے دور رس اثرات نہ صرف صحافتی برادری بلکہ مجموعی معاشرے پر بھی مرتب ہونے کی توقع ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے