
پشاور (امجد ہادی یوسفزئی) پشاور سے تعلق رکھنے والی کمسن طالبہ ارفع ملک کو ترکی میں زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے اپنی جمع پونجی عطیہ کرنے پر ترک سفارتخانے کی جانب سے خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔ بچوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب میں ان کے جذبۂ انسانیت کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ای سمارٹ کاروبار کی سی ای او صائمہ محبوب کی بیٹی ارفع ملک نے تقریباً تین سال قبل ترکی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے دوران اپنی گلک توڑ کر جمع شدہ رقم متاثرین کے لیے عطیہ کی تھی۔ اس وقت وہ تیسری جماعت کی طالبہ تھیں۔ ارفع نے نہ صرف مالی مدد فراہم کی بلکہ ترک عوام کے نام اپنے ہاتھ سے ایک خط بھی تحریر کیا، جس میں ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ خط ترکی کے سفارتخانے میں خصوصی طور پر فریم کر کے آویزاں کیا گیا، جبکہ یہ پیغام اعلیٰ حکام تک بھی پہنچا جہاں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ حالیہ دنوں میں ترک سفارتخانے نے صائمہ محبوب سے رابطہ کر کے ارفع ملک کو بچوں کے عالمی دن کی تقریب میں مدعو کیا، جہاں انہیں خصوصی پروٹوکول اور اعزاز دیا گیا۔
تقریب میں موجود حکام نے ارفع ملک کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جذبے نہ صرف انسانیت کی بہترین مثال ہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور ہمدردی کے رشتے کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ ان کے مطابق کم عمری میں ایسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مثبت تربیت اور شعور بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ارفع ملک کی والدہ صائمہ محبوب نے اس موقع پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات نہیں ہو سکتی کہ اس کی اولاد انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ پہچانی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں ہمدردی، ایثار اور خدمتِ خلق کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پس منظر کے طور پر، ترکی میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر سے امدادی سرگرمیاں شروع کی گئیں۔ پاکستان سے بھی سرکاری اور عوامی سطح پر امداد اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں بچوں کی جانب سے ایسے انفرادی اقدامات خاص طور پر قابلِ ذکر رہے۔
ماہرین کے مطابق ارفع ملک کا یہ عمل نہ صرف بچوں کے لیے ایک مثالی کردار پیش کرتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت اقدار کے فروغ کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔ یہ واقعہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ عمر سے قطع نظر، نیکی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کیے گئے اقدامات عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر، ارفع ملک کی اس کاوش نے نہ صرف پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ خدمتِ انسانیت کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ مستقبل میں اگر اس طرح کے جذبات کی حوصلہ افزائی جاری رہی تو معاشرہ مزید باہمی ہمدردی اور یکجہتی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔
![]()