
پشاور (خیبر نامہ رپورٹ) عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیرِ اہتمام پشاور پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے آزادی صحافت، صحافیوں کے تحفظ اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اتوار 3 مئی 2026ء کو منعقد ہونے والی اس واک کی قیادت خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد اور جنرل سیکرٹری ارشاد علی نے کی۔ احتجاجی واک میں پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے بھرپور شرکت کی اور بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی صحافت اور میڈیا کے حقوق کے حق میں نعرے درج تھے۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستان میں صحافت کا شعبہ مسلسل دباؤ اور مشکلات کا شکار ہے، جہاں صحافیوں کو حکومتی و سیاسی دباؤ، سنسرشپ، معاشی مسائل اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے اور اس کے بغیر شفافیت، احتساب اور عوامی شعور کا فروغ ممکن نہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے خیبرپختونخوا کے صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حساس حالات کے باوجود وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ صوبے میں متعدد صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، مگر اب تک کئی واقعات میں ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا، جو ریاستی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔
مقررین نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک بھر کی طرح خیبرپختونخوا میں میڈیا ہاؤسز کے بیوروز کی بندش کے باعث سینکڑوں صحافی بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ بعض اداروں میں ملازمین کو بغیر جواز ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے یا استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، صحافیوں کے بقایاجات اور واجبات کی عدم ادائیگی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس صورتحال نے صحافی برادری کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اشتہارات کی فراہمی کو میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کے حقوق کی ادائیگی اور بے روزگار صحافیوں کی بحالی سے مشروط کیا جائے تاکہ صحافیوں کے معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے تحفظ، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے جامع پالیسی سازی پر زور دیا گیا۔
احتجاجی واک کے دوران مقررین نے وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کردہ پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے کے خلاف اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے “فیک نیوز” کے نام پر تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ ترمیمی بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور میڈیا پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔
مزید برآں، صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل کو فوری طور پر منظور کر کے نافذ کیا جائے تاکہ صحافیوں کو درپیش سکیورٹی خطرات، بے روزگاری اور مالی مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکے۔
عالمی یومِ آزادی صحافت ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، جس کا مقصد اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دینا اور صحافیوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران صحافیوں کی سلامتی، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی آزادی کے حوالے سے متعدد چیلنجز سامنے آئے ہیں، جن پر صحافتی تنظیمیں مسلسل آواز اٹھا رہی ہیں۔ پشاور میں منعقدہ اس احتجاجی واک نے اس امر کو اجاگر کیا کہ صحافی برادری نہ صرف اپنے پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہے بلکہ ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور متعلقہ ادارے ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں تو صحافت کے شعبے میں بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی ممکن ہو سکتی ہے۔
![]()