
امجد ہادی یوسفزئی
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی خیبر پختونخوا کے شہروں اور دیہات میں ایک خاموش مگر خطرناک دشمن دوبارہ سرگرم ہو چکا ہے۔ یہ دشمن نہ دکھائی دیتا ہے، نہ شور مچاتا ہے، مگر ہر سال ہزاروں افراد کو بیماریوں کی لپیٹ میں لے آتا ہے۔ مچھر بظاہر ایک معمولی حشرہ ہے، لیکن جب صفائی کا نظام ناکام ہو جائے، نالیاں بند ہوں، گندا پانی کھڑا رہے اور متعلقہ ادارے غفلت کا مظاہرہ کریں تو یہی معمولی حشرہ ایک بڑے عوامی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں مچھروں کی بڑھتی ہوئی افزائش اب محض ایک موسمی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ شہروں سے لے کر دیہات تک گلیوں، محلوں، کھلے نالوں، جوہڑوں، تالابوں اور گندے کھڑے پانی نے مچھروں کو افزائش کے لیے مثالی ماحول فراہم کر دیا ہے۔ نتیجتاً ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور دیگر متعدی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا، محکمہ صحت، محکمہ بلدیات، ضلعی انتظامیہ اور ویکٹر بورن ڈیزیز پروگرام اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، مگر عملی اقدامات اب بھی ناکافی دکھائی دیتے ہیں۔ کئی علاقوں میں نالیاں کچرے سے اٹی پڑی ہیں، سیوریج کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے، اور گندا پانی ہفتوں تک جمع رہتا ہے۔ یہ تمام عوامل مچھروں کی افزائش کو تقویت دیتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق مچھر صرف ایک عام کیڑا نہیں بلکہ جان لیوا بیماریوں کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ڈینگی ہر سال سینکڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے جبکہ ملیریا بچوں اور بزرگوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ حکومتی آگاہی مہمات تو جاری رہتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اکثر اسپرے مہمات صرف فوٹو سیشنز اور سرکاری رپورٹوں تک محدود رہتی ہیں۔
عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر خصوصی فنڈز مختص کرے اور شہروں و دیہات میں باقاعدہ مچھر مار اسپرے مہم شروع کرے۔ گلیوں، نالوں، قبرستانوں، پارکوں، خالی پلاٹوں، تالابوں اور دیگر متاثرہ علاقوں میں مستقل بنیادوں پر اسپرے کیا جائے۔ تاہم یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ صرف اسپرے کافی نہیں، جب تک صفائی کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوگا، مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔
بدقسمتی سے بیشتر بلدیاتی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہے ہیں۔ کئی محلوں میں ہفتوں تک صفائی نہیں ہوتی، نالیاں بند رہتی ہیں اور گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے۔ ایسے حالات میں بیماریوں کا پھیلاؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اگر بلدیاتی ادارے روزانہ صفائی اور نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگی اور ملیریا کے بڑھتے ہوئے کیسز صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ رہا ہے جبکہ غریب عوام مہنگے علاج کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو نہ صرف قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ حکومتی اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ محکمہ صحت، محکمہ بلدیات، ضلعی انتظامیہ اور ویکٹر بورن ڈیزیز پروگرام کو ہنگامی بنیادوں پر مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی اسکولوں، کالجوں، مساجد اور دیگر عوامی مقامات پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ شہری بھی صفائی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔
ماہرین کی رائے ہے کہ یونین کونسل کی سطح پر اسپرے ٹیمیں تشکیل دی جائیں اور انہیں جدید مشینری فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائن اور مؤثر مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ جہاں کہیں مچھروں کی بہتات یا صفائی کی خرابی کی اطلاع ملے، فوری کارروائی ممکن ہو۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو معمولی سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ قومی چیلنج کے طور پر لیں۔ مچھر کے خلاف جنگ دراصل بیماری، غفلت اور ناقص نظام کے خلاف جنگ ہے۔ اگر حکومت، ادارے اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو نہ صرف ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ ایک صحت مند اور محفوظ معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ خاموش دشمن ہر موسم میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتا رہے گا۔
![]()