پشاور(احتشام طورو) خیبر پختونخوا حکومت نے قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نظام پور نیشنل پارک کے لیے 2026 سے 2036 تک کے جامع ورکنگ پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگلات کے پائیدار انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے ذریعے علاقے کی ماحولیاتی اہمیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے سیکرٹری جنید خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں اس طویل المدتی منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں چیف کنزرویٹر فارسٹس ریجن-ون احمد جلیل، سینئر افسران اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ پشاور فارسٹ ڈویژن کے سب ڈویژن نظام پور میں واقع “خواڑہ ریزرو فارسٹس” کے 5,236 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے بریفنگ کے مطابق اس ورکنگ پلان کی تیاری ایک جامع مشاورتی عمل، فیلڈ ڈیٹا، ماحولیاتی جائزوں اور ٹیکنیکل ریویو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نظام پور کے علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ ملنے کے بعد اس کی ماحولیاتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر ایک مربوط اور سائنسی حکمت عملی ناگزیر تھی۔
منصوبے کو دو بڑے انتظامی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: “اسکرب امپروومنٹ ورکنگ سرکل” اور “وائلڈ لائف و ایکو ٹورازم ورکنگ سرکل”۔ ان کے تحت مقامی اقسام کے پودوں کی شجرکاری، مٹی اور پانی کے تحفظ، اور تباہ حال جنگلاتی علاقوں کی بحالی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے مسکن کو محفوظ بنانے اور ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
سیکرٹری جنید خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ “پائیدار ماحولیاتی نتائج کے حصول کے لیے مقامی کمیونٹی کو شراکت دار بنانا ناگزیر ہے۔” انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی پر بھی زور دیا۔
منصوبے میں جنگلاتی آگ، بے تحاشا چرواہی اور ایندھن کے لیے لکڑی کے غیر پائیدار استعمال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں عوامی آگاہی مہمات، متبادل توانائی کے ذرائع کی فراہمی، اور مقامی افراد کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف جنگلاتی وسائل کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی سہارا دیں گے۔
یہ ورکنگ پلان قومی سطح کے “ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ” سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے میں لاکھوں پودے لگانے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ نظام پور جیسے حساس علاقوں میں اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اہم ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ سے علاقائی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
اجلاس کے اختتام پر حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے پر بروقت اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ مستقبل میں اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی تعاون، شفاف عملدرآمد اور مقامی سطح پر مؤثر شمولیت پر ہوگا۔

تحفظِ فطرت کی جانب اہم پیش رفت: نظام پور نیشنل پارک کے لیے 10 سالہ جدید ورکنگ پلان کی منظوریپشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے نظام پور نیشنل پارک کے لیے 2026 سے 2036 تک کے جامع ورکنگ پلان کی منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگلات کے پائیدار انتظام، جنگلی حیات کے تحفظ اور ماحول دوست سیاحت کے فروغ کے ذریعے علاقے کی ماحولیاتی اہمیت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کے سیکرٹری جنید خان کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں اس طویل المدتی منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں چیف کنزرویٹر فارسٹس ریجن-ون احمد جلیل، سینئر افسران اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ پشاور فارسٹ ڈویژن کے سب ڈویژن نظام پور میں واقع “خواڑہ ریزرو فارسٹس” کے 5,236 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے۔اجلاس میں پیش کیے گئے بریفنگ کے مطابق اس ورکنگ پلان کی تیاری ایک جامع مشاورتی عمل، فیلڈ ڈیٹا، ماحولیاتی جائزوں اور ٹیکنیکل ریویو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ نظام پور کے علاقے کو نیشنل پارک کا درجہ ملنے کے بعد اس کی ماحولیاتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے پیش نظر ایک مربوط اور سائنسی حکمت عملی ناگزیر تھی۔منصوبے کو دو بڑے انتظامی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: “اسکرب امپروومنٹ ورکنگ سرکل” اور “وائلڈ لائف و ایکو ٹورازم ورکنگ سرکل”۔ ان کے تحت مقامی اقسام کے پودوں کی شجرکاری، مٹی اور پانی کے تحفظ، اور تباہ حال جنگلاتی علاقوں کی بحالی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے مسکن کو محفوظ بنانے اور ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔سیکرٹری جنید خان نے اجلاس کے دوران کہا کہ “پائیدار ماحولیاتی نتائج کے حصول کے لیے مقامی کمیونٹی کو شراکت دار بنانا ناگزیر ہے۔” انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی پر بھی زور دیا۔منصوبے میں جنگلاتی آگ، بے تحاشا چرواہی اور ایندھن کے لیے لکڑی کے غیر پائیدار استعمال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں عوامی آگاہی مہمات، متبادل توانائی کے ذرائع کی فراہمی، اور مقامی افراد کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف جنگلاتی وسائل کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی سہارا دیں گے۔یہ ورکنگ پلان قومی سطح کے “ٹین بلین ٹری سونامی پراجیکٹ” سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد ملک بھر میں جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور ماحولیاتی توازن کو بہتر بنانا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کے تحت صوبے میں لاکھوں پودے لگانے اور قدرتی ماحولیاتی نظام کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ نظام پور جیسے حساس علاقوں میں اس نوعیت کے منصوبے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اہم ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ سے علاقائی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔اجلاس کے اختتام پر حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منصوبے پر بروقت اور مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ صوبے کے قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ مستقبل میں اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار ادارہ جاتی تعاون، شفاف عملدرآمد اور مقامی سطح پر مؤثر شمولیت پر ہوگا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے