
پشاور (فیاض شاداب) دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ ثقافتی و کھیلوں کے میلے "جشنِ شندور 2026” کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ فیسٹیول کے کامیاب، منظم اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اپر چترال، چترال سکاؤٹس اور محکمہ پولیس کے اعلیٰ حکام کا ایک مشترکہ اجلاس شندور میں منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی، سیاحتی سہولیات اور ہنگامی خدمات کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کی مشترکہ صدارت ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس اور ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی خیبر پختونخوا نے کی۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر چترال، ونگ کمانڈر مستوج، مختلف سرکاری محکموں کے سربراہان اور پولو ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران جشنِ شندور کے تمام انتظامی اور لاجسٹک امور کو حتمی شکل دیتے ہوئے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حکام کے مطابق پولو گراؤنڈ اور اس کے اطراف فول پروف سیکیورٹی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ میچز کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کی غرض سے گراؤنڈ کے گرد باڑ نصب کی جائے گی۔سیاحوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ٹینٹ ویلیج کی منظم تنصیب اور تماشائیوں کے لیے مناسب بیٹھنے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروسز، طبی مراکز اور لائیو سٹاک کیمپس چوبیس گھنٹے فعال رہیں گے۔اجلاس میں صفائی اور ماحولیات کے حوالے سے بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ حکام نے میلے کے دوران ڈسٹ بنز کی تنصیب، کوڑا کرکٹ کی بروقت تلفی اور رات کے اوقات میں آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے لیے راستوں پر مناسب روشنی کے انتظامات کی ہدایات جاری کیں۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جشنِ شندور صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ اپر چترال اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان تاریخی تعلقات، ثقافتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور بھائی چارے کی علامت بھی ہے۔ ہر سال منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول نہ صرف مقامی ثقافت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتا ہے، جس سے مقامی معیشت اور سیاحت کے شعبے کو فروغ ملتا ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے سپرد کردہ فرائض مقررہ وقت کے اندر مکمل کریں تاکہ آنے والے سیاحوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جشنِ شندور 2026 کو انتظامی، ثقافتی اور سیاحتی اعتبار سے ایک مثالی اور یادگار ایونٹ بنایا جائے گا۔ماہرین کے مطابق شندور فیسٹیول خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سیاحتی تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ رواں سال بہتر انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات کے باعث سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔خلاصہ: شندور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں جشنِ شندور 2026 کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی، جس میں سیکیورٹی، صفائی، طبی سہولیات اور سیاحتی انتظامات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ حکام پُرامید ہیں کہ یہ فیسٹیول نہ صرف کامیابی سے منعقد ہوگا بلکہ علاقے میں سیاحت، ثقافتی ہم آہنگی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا ذریعہ بھی بنے گا۔
![]()