
باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی) وادیٔ تیراہ سے بے دخل ہونے والے متاثرین کے احتجاجی کیمپ میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے آٹھ رکنی وفد نے دورہ کیا، جہاں متاثرین نے اپنے مسائل، مالی نقصانات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ وفد نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کے حالات کا جائزہ لیا۔
احتجاجی کیمپ میں وفد کا استقبال تحریک متاثرین تیراہ کے چیئرمین رحمت شاہ آفریدی نے کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وفد کو وادیٔ تیراہ میں انخلا سے قبل کی صورتحال، سکیورٹی کارروائیوں اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات سے متعلق بریفنگ دی۔ رحمت شاہ آفریدی کے مطابق انخلا سے تقریباً ایک سال قبل علاقے میں ہیلی کاپٹروں، ڈرون کیمروں اور مارٹر گولوں کے استعمال کے باعث عام آبادی شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 120 افراد جاں بحق جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے، تاہم متاثرین کو مناسب مالی معاونت فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متعدد گھروں، دکانوں اور بازاروں کو بھی نقصان پہنچا، جس سے مقامی معیشت بری طرح متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق کئی خاندان اب بھی بنیادی سہولیات اور مستقل رہائش سے محروم ہیں۔
تاجر یونین کے صدر شیر افگن نے وفد کے سامنے تاجروں اور مقامی کاروباری طبقے کے مسائل پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 8500 تاجر اور 2500 گھریلو خواتین دکاندار انخلا اور بدامنی کے باعث مالی مشکلات کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار بند ہونے، نقل مکانی اور منڈیوں تک رسائی محدود ہونے سے ہزاروں خاندانوں کی آمدنی متاثر ہوئی۔
تحریک متاثرین تیراہ کی ترجمان صحبت آفریدی نے وفد کو بتایا کہ متاثرین کے ساتھ کیے گئے حکومتی وعدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی جانب سے متاثرین کے لیے باقاعدہ کیمپ قائم نہیں کیے گئے، جبکہ کرایہ، گھریلو اخراجات اور دیگر امدادی رقوم کی فراہمی بھی تاخیر کا شکار رہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انخلا کے دوران تقریباً 30 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت بچوں کی تھی، جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے معاوضے کے اعلانات کے باوجود بیشتر خاندان تاحال امداد سے محروم ہیں۔
وفد میں شامل خواتین اراکین نے متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا دورہ بھی کیا اور خواتین و بچوں کو درپیش مسائل کا مشاہدہ کیا۔ متاثرین نے شدید گرمی، بے سروسامانی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کو اپنے اہم مسائل قرار دیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وفد نے متاثرین کی شکایات اور مطالبات کو تفصیل سے سنا۔ وفد کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق دورے کی بنیاد پر ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جائے گی جسے متعلقہ حکام اور انسانی حقوق کے اداروں تک پہنچایا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق تیراہ میں جاری بدامنی، نقل مکانی اور معاشی بحران نے مقامی آبادی پر گہرے سماجی اور اقتصادی اثرات مرتب کیے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مستقل بحالی، شفاف معاوضوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی تک ان کی مشکلات برقرار رہیں گی۔
آخر میں تحریک متاثرین تیراہ کے رہنماؤں نے امید ظاہر کی کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اپنی رپورٹ کے ذریعے متاثرین کی آواز حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھائے گا تاکہ دیرپا حل اور عملی اقدامات یقینی بنائے جاسکیں۔
![]()