اٹلی میں غیر ملکیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اب محض سیاسی نعروں یا سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں انسانی جان کی قدر بھی شناخت، نسل اور مذہب کے ترازو میں تولی جانے لگی ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے دو مختلف واقعات نے اطالوی معاشرے کے اندر موجود اس گہری تقسیم کو کھول کر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔

اٹلی ایک ایسا ملک سمجھا جاتا ہے جہاں انسانی حقوق، جمہوریت اور مساوات کی باتیں بڑے فخر سے کی جاتی ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ وہاں غیر ملکیوں، خصوصاً مسلمانوں اور افریقی باشندوں کے لیے فضا مسلسل تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ معاشی دباؤ، بے روزگاری اور سیاسی انتشار نے امیگرنٹس کے خلاف نفرت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

16 مئی کو اٹلی کے شہر مودنہ میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا جب سلیم الکدری نامی ایک نوجوان نے اپنی گاڑی راہگیروں پر چڑھا دی۔ اس اچانک حملے سے لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ کئی افراد ہوا میں اچھل کر دور جا گرے۔

اس واقعے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جبکہ دو افراد کی حالت انتہائی تشویشناک قرار دی گئی۔ ایک خاتون اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھی جس کے بعد پورے علاقے میں شدید خوف پھیل گیا۔ حادثے کے بعد سلیم گاڑی سے نکل کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا مگر وہاں موجود لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔

اسی دوران اس نے ایک اطالوی شہری پر چاقو سے حملہ بھی کیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ اس واقعے نے چند ہی گھنٹوں میں پورے اٹلی کے میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تبصروں کا طوفان آ گیا اور غیر ملکیوں کے خلاف مہم ایک بار پھر زور پکڑنے لگی۔

امیگرنٹس مخالف سیاسی جماعتوں نے فوراً اس واقعے کو “اسلامی دہشت گردی” قرار دینے کی کوشش کی۔ مختلف ٹی وی پروگراموں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز گفتگو شروع ہو گئی۔ بغیر کسی مکمل تفتیش کے پورے واقعے کو مذہبی رنگ دے دیا گیا۔

مگر پولیس کی ابتدائی تحقیقات نے ایک مختلف حقیقت سامنے رکھی۔ اکتیس سالہ سلیم الکدری شدید ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھا۔ وہ طویل عرصے سے ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی بیماریوں کی ادویات استعمال کر رہا تھا اور اس کی زندگی شدید تنہائی میں گزر رہی تھی۔

سلیم اکنامکس میں ڈگری رکھنے کے باوجود بے روزگار تھا۔ وہ اٹلی ہی میں پیدا ہوا، وہیں تعلیم حاصل کی اور اطالوی معاشرے ہی میں پلا بڑھا۔ اس کے گھر پر پولیس نے چھاپہ بھی مارا مگر کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے اس کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم یا مذہبی گروہ سے ثابت ہوتا۔

پڑوسیوں اور جاننے والوں کے مطابق سلیم اکثر اکیلا رہتا تھا۔ وہ مسلسل سگریٹ نوشی کرتا، گھنٹوں گاڑی چلاتا رہتا اور لوگوں سے کٹا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ اس کے دوست نہ ہونے کے برابر تھے اور وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار دکھائی دیتا تھا۔

اس کے قریبی افراد نے یہ بھی بتایا کہ وہ مذہبی شخص نہیں تھا۔ نہ اسے مسجد جاتے دیکھا گیا، نہ نماز پڑھتے اور نہ ہی وہ مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ ایک دوست کے مطابق تو شاید وہ خدا پر یقین بھی نہیں رکھتا تھا۔

مگر ان تمام حقیقتوں کے باوجود سوشل میڈیا پر صرف اس کا نام نمایاں رہا۔ کیونکہ جب کسی واقعے میں نام سلیم، احمد یا محمد ہو تو جرم کو فوراً مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ وہاں کسی فرد کی ذہنی حالت یا معاشرتی مسائل سے زیادہ اس کی شناخت کو اہمیت دی جاتی ہے۔

اس واقعے میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی سامنے آئی کہ سلیم کو قابو کرنے والوں میں مصری اور پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ شہر کے مئیر نے ان غیر ملکیوں کی بہادری کو سراہا اور ان کی تعریف کی، مگر اس کے باوجود نفرت پھیلانے والے حلقے ہر غیر ملکی کو خطرہ قرار دیتے رہے۔

دوسری جانب اٹلی کے ہی شہر تارانتو میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا مگر اس پر وہ شور نہیں مچا جو مودنہ کے واقعے پر دکھائی دیا۔ مالی سے تعلق رکھنے والے افریقی باشندے باکری ساکو کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

باکری ساکو صبح سویرے اپنی پرانی سائیکل پر کام کے لیے جا رہا تھا کہ چند نوجوانوں نے اسے روک لیا۔ پہلے تلخ کلامی ہوئی، پھر اسے مکوں، ٹھڈوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے تیز دھار آلے سے اسے قتل کر دیا۔

اس حملے میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے۔ یہ واقعہ صرف ایک قتل نہیں تھا بلکہ اس بڑھتی ہوئی نسل پرستی کی علامت تھا جو آہستہ آہستہ یورپی معاشروں میں زہر کی طرح پھیل رہی ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس سانحے پر وہ قومی غصہ دکھائی نہ دیا جو دوسرے واقعے پر نظر آیا۔

شہر کے چرچ کے پادری نے اس واقعے پر ایک ایسا جملہ کہا جس نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ اس نے کہا کہ ”اصل سانحہ صرف باکری ساکو کا قتل نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس جگہ کوئی شخص پھول رکھنے بھی نہیں آیا جہاں ایک انسان کی لاش گری تھی۔“

اٹلی میں یہ روایت عام ہے کہ جہاں کوئی حادثہ یا موت ہو وہاں لوگ اظہار افسوس کے لیے پھول رکھتے ہیں۔ مگر باکری ساکو کے لیے کوئی نہ آیا۔ جیسے اس کی جان کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ جیسے اس کا دکھ دوسروں کے دکھ سے کم اہم ہو۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں معاشروں کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ جب انصاف اور ہمدردی صرف مخصوص لوگوں کے لیے رہ جائیں اور دوسروں کے لیے خاموشی اختیار کر لی جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ چند افراد تک محدود نہیں رہا۔

اگر سلیم الکدری اطالوی نام رکھتا، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والا ہوتا تو شاید پورے ملک میں مذہب پر بحث شروع نہ ہوتی۔ تب فوراً اس کی ذہنی بیماری، خاندانی مسائل اور نفسیاتی دباؤ کو موضوع بنایا جاتا۔ مگر مسلمان نام ہونے کی وجہ سے پورا بیانیہ بدل گیا۔

یہی دہرا معیار آج مغربی معاشروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک غیر ملکی کا جرم پوری قوم اور مذہب کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مقامی افراد کے جرائم کو انفرادی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ میں امیگرنٹس سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ جرائم بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات سنگین واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا معیار واقعی سب کے لیے برابر ہے؟

اگر ایک غیر ملکی جرم کرے تو میڈیا اس کی نسل، مذہب اور شناخت کھنگالنے لگتا ہے، مگر جب کسی افریقی باشندے کو نسل پرستی کی بنیاد پر قتل کر دیا جائے تو وہی میڈیا خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟ یہ خاموشی خود ایک خطرناک پیغام دیتی ہے۔

اصل خطرہ صرف نفرت انگیز سیاست نہیں بلکہ وہ اجتماعی بے حسی ہے جو آہستہ آہستہ معاشروں کی روح کو ختم کر دیتی ہے۔ جب ایک انسان کی موت پر لوگ افسوس کرنا بھی ضروری نہ سمجھیں تو یہ صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے سماج کی ناکامی ہوتی ہے۔

آج یورپ کو خود اپنے دعووں کے آئینے میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ انسانی حقوق، آزادی اظہار اور مساوات کے اصول اسی وقت معتبر ہوتے ہیں جب وہ ہر انسان کے لیے یکساں ہوں، چاہے اس کا نام، رنگ، نسل یا مذہب کچھ بھی ہو۔

اگر دنیا واقعی امن اور انصاف چاہتی ہے تو اسے دہرا معیار ختم کرنا ہوگا۔ کیونکہ جب انصاف شناخت کے تابع ہو جائے تو معاشروں میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے، نفرت بڑھتی ہے اور انسانیت سب سے بڑی ہار جیت جاتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے