توقیر کھرل کی ’’رہبرِ شہید‘‘ اور تابندہ فرخ کی ’’حصارِ عشق‘‘ کی رونمائی، مشاعرے کا انعقاد

پشاور (امجد ہادی یوسفزئی)
خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران میں گزشتہ روز ایک پروقار ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں رہبرِ معظم سید علی خامنہ ایؒ کے حوالے سے مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جبکہ توقیر کھرل کی کتاب ’’رہبرِ شہید‘‘ اور تابندہ فرخ کے ایران کے سفرنامے ’’حصارِ عشق‘‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔
تقریب کی صدارت ممتاز ادیب ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے کی، جبکہ قونصل جنرل علی بنفشہ خواجہ مہمانِ خصوصی تھے۔ سینئر شاعرہ نرجس افروز زیدی مہمانِ اعزاز تھیں۔ تقریب کی نظامت پروفیسر ملک ارشد حسین نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی۔
تقریب کا آغاز جواد کی پرسوز آواز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ تابندہ فرخ نے فارسی نعت پیش کرکے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ پروگرام کے دوران رہبرِ معظم سید علی خامنہ ایؒ کے حوالے سے مختلف ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔
میزبان کی حیثیت سے قونصل جنرل علی بنفشہ خواجہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور دونوں کتابوں کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے رہبرِ معظم کی فارسی شاعری اردو ترجمے کے ساتھ بھی سنائی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
تقریب کے پہلے مرحلے میں توقیر کھرل کی کتاب ’’رہبرِ شہید‘‘ کی رونمائی کی گئی۔ اس موقع پر قونصل جنرل علی بنفشہ خواجہ، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی، بشریٰ فرخ، نرجس افروز زیدی اور توقیر کھرل اسٹیج پر موجود تھے۔ بعد ازاں توقیر کھرل نے اپنی کتاب کا تعارف پیش کیا اور اس کی تصنیف کے محرکات پر روشنی ڈالی۔
تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی رہی کہ مختلف وقفوں میں شعراء کرام اپنا کلام پیش کرتے رہے، جس سے محفل کا ادبی رنگ مزید نکھر گیا۔
دوسرے مرحلے میں تابندہ فرخ کے سفرنامے ’’حصارِ عشق‘‘ کی رونمائی کی گئی۔ اس موقع پر قونصل جنرل علی بنفشہ خواجہ، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی، بشریٰ فرخ، نرجس افروز زیدی اور تابندہ فرخ اسٹیج پر موجود تھے۔
تقریب میں ثمانہ رباب اور روبینہ معین نے تابندہ فرخ کی شخصیت اور ان کی کتاب پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروفیسر ملک ارشد حسین نے سجادہ نشین شاہ قبول اولیاء جسٹس یحییٰ گیلانی کے تاثرات بھی پڑھ کر سنائے، جو انہوں نے ناسازیٔ طبع کے باعث تقریب میں شرکت نہ کر سکنے پر تحریری صورت میں بھیجے تھے۔ بعد ازاں تابندہ فرخ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مشاعرے میں کلثوم زیب، محمد محسن، خادم ابراہیم، رباب ماہی، ڈاکٹر شاہدہ سردار، ثمینہ قادر، نرجس افروز زیدی، بشریٰ فرخ، ڈاکٹر اباسین یوسف زئی اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔
اس موقع پر بشریٰ فرخ نے قونصل جنرل علی بنفشہ خواجہ کو کاروانِ حوا لٹریری فورم کی جانب سے یادگاری سووینئر بھی پیش کیا۔ تقریب کے اختتام پر ریاض خان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس بابرکت اور پروقار تقریب میں کاروانِ حوا کی اراکین، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں مہمانوں کی تواضع چائے سے کی گئی۔
![]()