پشاور(امجد ہادی یوسفزئی) پشاور میں خیبر یونین اف جرنلسٹس کے زیر اہتمام منعقدہ اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری استعفوں اور معاشی استحصال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ سے صوبہ گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اجلاس میں صحافی برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس پشاور پریس کلب میں منعقد ہوا جس میں خیبر یونین آف جرنلسٹس، پشاور پریس کلب کے عہدیداروں، سینئر صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور مختلف میڈیا اداروں سے وابستہ کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکا نے موجودہ حالات کو صحافی برادری کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق احتجاجی تحریک کا آغاز جمعہ سے کیا جائے گا جس کے تحت خیبر پختونخوا بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دیگر احتجاجی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ شرکا کا مؤقف تھا کہ متعدد میڈیا ادارے کارکن صحافیوں کو مسلسل ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں جبکہ کئی ادارے تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی میں بھی ناکام ہیں، جس سے صحافی برادری شدید مالی مشکلات کا شکار ہو چکی ہے۔

اجلاس میں صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ محکمہ اطلاعات کے سرکاری اشتہارات کو میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کے حقوق کے تحفظ، برطرف صحافیوں کی بحالی اور بقایا جات کی ادائیگی سے مشروط کیا جائے۔ شرکا نے کہا کہ ایسے اداروں کو سرکاری اشتہارات جاری نہ کیے جائیں جو اپنے کارکنوں کو تنخواہوں سے محروم رکھتے ہیں یا جبری طور پر ملازمتوں سے فارغ کر رہے ہیں۔

صحافی تنظیموں نے حکومت سے جرنلسٹس پروٹیکشن بل پر مؤثر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران درپیش خطرات کے پیش نظر فوری حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اجلاس میں پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف درج مقدمات اور نوٹسز پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔

شرکا نے سینئر صحافی اور پشاور پریس کلب کے سابق نائب صدر عرفان خان سمیت دیگر صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت جاری کیے گئے نوٹسز کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے قوانین کا استعمال ناقابل قبول ہے اور اس طرز عمل سے اظہارِ رائے کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔

اجلاس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ آئی ٹی این ای جج کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں تعینات کیا جائے تاکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو درپیش قانونی مقدمات اور مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہو سکے۔ شرکا کے مطابق اس عہدے پر تعیناتی نہ ہونے کے باعث متعدد مقدمات تاخیر کا شکار ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید، پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، پاکستان فیڈرل یونین اف جرنلسٹس ورکرز کے صدر شمیم شاہد اور دیگر مقررین نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے ساتھ جاری ناانصافیاں اب ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافی برادری اپنے حقوق، باعزت روزگار اور بقایا جات کی ادائیگی کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھے گی۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاجی تحریک کو پورے ملک تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ صحافتی حلقوں کے مطابق میڈیا انڈسٹری میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور ملازمین کے حقوق سے متعلق تنازعات نے نہ صرف صحافیوں بلکہ آزادی صحافت کے مستقبل پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے