پشاور (خیبر نامہ نیوز) پشاور پریس کلب کی قیادت نے مختلف نجی میڈیا اداروں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی حالیہ برطرفیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے میڈیا کارکنوں کا “معاشی قتل عام” قرار دیا ہے۔ پریس کلب عہدیداران نے برطرف ملازمین کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صحافی برادری کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قانونی اور احتجاجی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

پیر کے روز پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، نائب صدر ضیاءالحق اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے سماء نیوز، آج نیوز، دنیا نیوز اور سنو نیوز سمیت مختلف بیورو آفسز کا دورہ کیا۔ ان اداروں میں حالیہ دنوں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس پر پریس کلب قیادت نے متاثرہ کارکنوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے یہ دورے کیے۔

بیورو دفاتر میں موجود صحافیوں اور دیگر میڈیا کارکنوں سے ملاقات کے دوران پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں صحافی برادری اپنے متاثرہ ساتھیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ برطرف ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی۔

پشاور پریس کلب کے رہنماؤں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ میڈیا اداروں کے مالکان سے مطالبہ کیا کہ برطرف کیے گئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا انڈسٹری پہلے ہی معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، ایسے میں کارکنوں کی برطرفیاں نہ صرف صحافی خاندانوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں بلکہ آزادی صحافت اور پیشہ ورانہ استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔

عہدیداروں نے کہا کہ اگر برطرفیوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو صحافی تنظیمیں بھرپور احتجاج، مزاحمت اور قانونی جدوجہد کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت پڑنے پر پشاور پریس کلب اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات کے لیے تجربہ کار وکلاء کی خدمات بھی حاصل کرے گا تاکہ متاثرہ کارکنوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

صحافتی حلقوں کے مطابق ملک بھر میں میڈیا اداروں کو درپیش مالی مشکلات کے باعث حالیہ برسوں میں متعدد کارکن ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں، جس سے صحافی برادری میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیا ورکرز کے روزگار کا تحفظ آزاد اور مضبوط صحافت کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس کلب قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، روزگار کے استحکام اور پیشہ ورانہ آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے