ٹانک(گوہر ترین) این ٹی ایس کے تحت 2014 سے 2018 کے دوران بھرتی ہونے والے سیکنڈری سکول ٹیچرز (SST) کی سینیارٹی سے متعلق دیرینہ مسئلہ بالآخر صوبائی اسمبلی میں اٹھا لیا گیا ہے، جہاں اس معاملے پر باقاعدہ بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس پیش رفت کو متاثرہ اساتذہ کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹانک سے تعلق رکھنے والے سینیئر ایس ایس ٹی استاد توصیف خان گنڈاپور گزشتہ کئی برسوں سے اس معاملے کو مختلف تعلیمی و انتظامی فورمز پر اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یہ مسئلہ رکن صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی تک پہنچا، جنہوں نے اسے باقاعدہ طور پر صوبائی اسمبلی میں کالنگ اٹینشن نوٹس کے ذریعے پیش کیا۔
اسمبلی کے فلور پر گفتگو کرتے ہوئے احمد کریم کنڈی نے مؤقف اختیار کیا کہ 2014 سے 2018 کے دوران این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو سینیارٹی دینے میں غیر معمولی تاخیر کی گئی، جبکہ 2018 سے 2022 کے دوران بھرتی ہونے والے اساتذہ کو فوری طور پر سینیارٹی دے دی گئی۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف انتظامی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ پہلے سے تعینات اساتذہ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف بھی ہے۔
تعلیمی حلقوں کے مطابق این ٹی ایس کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا نظام خیبر پختونخوا میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا، تاہم سینیارٹی جیسے بنیادی حق میں تاخیر نے اس نظام کی افادیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اساتذہ تنظیموں نے موقف اختیار کیا ہے کہ سینیارٹی کا تعین ترقی، تبادلے اور دیگر مراعات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس میں تاخیر سے متاثرہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی متاثر ہوئی ہے۔
عینی شاہدین اور اساتذہ نمائندگان کے مطابق متعدد اساتذہ گزشتہ کئی سالوں سے اس مسئلے کے حل کے منتظر ہیں۔ ایک مقامی استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے میرٹ پر نوکری حاصل کی، مگر سینیارٹی نہ ملنے سے ہمیں ترقی اور دیگر مواقع میں پیچھے رکھا گیا۔”
دوسری جانب اساتذہ تنظیموں نے احمد کریم کنڈی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بروقت اس اہم مسئلے کو ایوان میں اٹھایا، جس سے متاثرہ اساتذہ کو امید کی نئی کرن ملی ہے۔ ساتھ ہی توصیف خان گنڈاپور کی مسلسل جدوجہد کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جن کی کاوشوں نے اس معاملے کو پالیسی سازوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق این ٹی ایس کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کی بڑی تعداد خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دے رہی ہے، اور سینیارٹی کے مسئلے نے ان میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات تدریسی معیار اور تعلیمی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
آخر میں مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلی میں اس معاملے کے اٹھائے جانے کے بعد حکومت پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو نہ صرف متاثرہ اساتذہ کو ان کا حق مل سکے گا بلکہ تعلیمی نظام میں اعتماد بھی بحال ہو گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے