کرپشن کی نہ کوئی ثابت کر سکتا ہے، دامن صاف ہے،یتیم خانے کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے، ایڈمنسٹریٹر
دارالاطفال پر قبضہ مافیا کی قیادت تسنیم روہی ظاہر شاہ نامی خاتون کر رہی ہیں جس نے جعلی آرڈر دکھا کر زبردستی چارج لینے کی کوشش کی،
آپریشن کی نگرانی ڈی ایس پی ہشتنگری وارث خان کر رہے ہیں،ان کا کردار جانبدارانہ ہے،قبضہ مافیا کو مکمل تحفظ دے رہے ہیں،پریس کانفرنس

پشاور(مدثرز یب سے) اپوا دارالاطفال نزد چاچا یونس پارک ہشتنگری پشاور کی ایڈمنسٹریٹر یاسمین اعوان نے خیبر پختونخوا حکومت،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوا دارالاطفال کو اپنی تحویل میں لے کر یتیم اور نادار بچوں اور بچیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ پشاور پریس کلب میں دیگر یتیم بچوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوا دارالاطفال کی ایڈمنسٹریٹر یاسمین اعوان نے کہا کہ دارالاطفال پر قبضہ مافیا کی قیادت تسنیم روہی ظاہر شاہ کر رہی ہیں نے پہلے سوشل ورکنگ کے لیے دارالاطفال میں دو کمرے حاصل کیے اور اس کے بعد یتیم بچوں اور بچیوں کے لیے رکھی گئی خوراک اور کپڑے وغیرہ باہر کے لوگوں میں تقسیم کر ڈالے، بعدازاں ایک جعلی آرڈر دکھا کر زبردستی دارالاطفال کا چارج لینے کی کوشش کی اس پورے عمل میں انہیں ہشتنگری پولیس کی مکمل حمایت حاصل تھی، لیکن ہم نے انہیں کسی قسم کا چارج دینے کی اجازت نہیں دی۔اس دوران تسنیم روحی ظاہر شاہ نے اپنے پرائیویٹ گارڈز کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم کیااور مجھ پر تشدد بھی کیا جبکہ گزشتہ دو روز سے بچوں کو خوراک بھی نہیں مل رہی۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کا مقصد اپوا دارالاطفال کی 5 کنال اراضی جو ہندو متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہے پر قبضہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 16 سال سے وہ اپوا دارالاطفال میں ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے ان پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے، میرا دامن صاف ہے، اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لایا جائے۔ یاسمین اعوان نے کہا کہ اپوا دارالاطفال کو ڈونرز کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کے تمام ریکارڈز موجود ہیں جبکہ تمام لین دین بینک کے ذریعے کی جاتی ہے لہٰذا اس حوالے سے کرپشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ چند بااثر افراد نہیں چاہتے کہ یہاں پر یتیم خانہ رہے اور بے یار و مددگار بچوں اور بچیوں کو تحفظ حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ اپوا دار الاطفال کی جائیداد اور عہدوں پر پر مختلف کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اور قانون کی رو سے کسی بھی عہدے کے لیے آرڈر جاری نہیں ہو سکتا۔

یاسمین عوان نے کہا کہ گزشتہ روز کے ایکشن نے کئی سوالات کوجنم دیا ہے کہ کیسے ایک بااثر اور قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والی خاتون نے دارالاطفال پر چڑھائی کی اور اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا یا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت،سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ اوقاف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کرتے ہوئے غیر جانبدار فیصلہ کریں تاکہ بے یار و مددگار یتیم بچے اور بچیوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ یاسمین اعوان نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس وقت دارالاطفال میں نہ تو یتیم بچے اور بچیوں کو چھوڑا جا رہا ہے اور نہ انہیں تحفظ دیا جا رہا ہے جس کی تمام تر نگرانی ڈی ایس پی وارث خان کر رہے ہیں اور ان کا کردار بھی جانبدارانہ ہے اور وہ قبضہ مافیا کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دارالاطفال کے لیے احتجاج کرنے والے بچوں کو پولیس دھمکیاں دے رہی ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائیں گی،یہ کہاں کا انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی یتیم بچے دارالاطفال سے باہر ہیں اور پولیس انہیں دارالاطفال کے اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔یہ بچے اب کہاں جائیں گے؟کیا ان کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام کیا گیا ہے؟

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے