پشاور: پشاور ڈویژن میں 35 سال سے جاری ریگی ماڈل ٹاؤن کے متنازعہ زمینی مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے متعلقہ حکام کے ہمراہ متنازعہ علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا۔
کمشنر پشاور ڈویژن نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ریگی ماڈل ٹاؤن صاحبزادہ محمد طارق، اسسٹنٹ کمشنر ریونیو سلطان حیدر، تحصیلدار ریگی زردار احمد اور دیگر ریونیو عملے کے ہمراہ ریگی ماڈل ٹاؤن کے زون 1، زون 2 اور زون 5 سمیت میفی گرفتھ لائن کے مختلف حساس مقامات کا معائنہ کیا۔
دورے کے دوران متعلقہ افسران نے کمشنر کو زمین کے ریکارڈ، حدود بندی، ملکیتی دستاویزات اور دیرینہ تنازع سے متعلق تکنیکی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بعد ازاں کمشنر پشاور ڈویژن نے پی ڈی اے آفس ریگی ماڈل ٹاؤن میں ایک اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ حل پر غور کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کمشنر ریاض خان محسود نے مسئلے کے جامع حل کے لیے فریقین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کل بروز جمعہ ریگی متاثرین کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے، جبکہ پیر کے روز متعلقہ کوکی خیل قبائل کے نمائندوں کو بھی اپنے دفتر میں مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام فریقین کے مؤقف کو سنا جا سکے اور ایک قابلِ قبول اور دیرپا حل کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔
ریگی ماڈل ٹاؤن کا تنازع کئی دہائیوں سے مختلف قانونی، انتظامی اور قبائلی پیچیدگیوں کی وجہ سے حل طلب چلا آ رہا ہے، جس کے باعث متاثرہ شہریوں اور مقامی قبائل کو زمینوں کی ملکیت اور استعمال کے حوالے سے مسلسل مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے شفاف ریکارڈ، فریقین کی مشاورت اور واضح قانونی فریم ورک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے حکومتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے لیے دوبارہ شروع کی گئی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس بار تمام فریقین کی مشاورت سے ایک پائیدار اور قابلِ عمل حل سامنے آئے گا۔
کمشنر پشاور ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریگی ماڈل ٹاؤن تنازع کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ ایک شفاف اور منصفانہ حل ممکن بنایا جا سکے۔
خلاصہ: ریگی ماڈل ٹاؤن کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے کمشنر پشاور ڈویژن نے فیلڈ دورہ اور اعلیٰ سطحی اجلاس کیے ہیں اور فریقین سے مشاورت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک مستقل اور قابل قبول حل کی طرف پیش رفت ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے