
دبئی (طاہر منیر طاہر) دبئی میں پاکستان بزنس کونسل نے نوجوان کاروباری افراد اور پروفیشنلز کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے کاروباری استعمال پر ایک خصوصی اور تربیتی سیشن کا انعقاد کیا، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو کاروباری ترقی، فیصلہ سازی اور مؤثر کمیونیکیشن کے لیے استعمال کرنے کے عملی طریقوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ سیشن میں کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
دبئی کے علاقے جمیرہ لیک ٹاورز (JLT) میں واقع HUB 7 میں منعقدہ اس سیشن کا اہتمام پاکستان بزنس کونسل دبئی نے اپنی “ینگ انٹرپرینیورز انیشی ایٹو” کے تحت کیا۔ پروگرام کا بنیادی موضوع “کاروباری ترقی میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا کردار” تھا، جس میں جدید ٹیکنالوجی کے کاروباری دنیا پر بڑھتے ہوئے اثرات اور اس کے عملی فوائد پر گفتگو کی گئی۔
ورکشاپ کی میزبانی اور تربیتی سیشن تابش زیدی نے پیش کیا۔ انہوں نے شرکاء کو ChatGPT، آٹومیشن سسٹمز اور دیگر AI ٹولز کے عملی استعمال کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی۔ سیشن کے دوران لائیو ڈیمونسٹریشنز کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ کس طرح مصنوعی ذہانت کاروباری منصوبہ بندی، کسٹمر سروس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، کمیونیکیشن اور فیصلہ سازی کے عمل کو مؤثر اور تیز بنا سکتی ہے۔
تقریب میں شریک نوجوان کاروباری افراد، پروفیشنلز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے سوال و جواب، عملی سرگرمیوں اور آئیڈیاز کے تبادلے میں بھرپور حصہ لیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی کاروباری فضا میں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہو چکا ہے، جبکہ AI جیسے جدید ذرائع کاروباری ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل دبئی کے وائس چیئرمین ایونٹس اینڈ میڈیا افتخار علی تتلہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی کاروباری رجحانات سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے علمی اور تربیتی پروگرام نوجوانوں کو سیکھنے، آگے بڑھنے اور مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کا کاروبار دوست ماحول ایسے مثبت اقدامات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو جدت، تعلیم اور کاروباری ترقی کو فروغ دیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان بزنس کونسل کے اراکین کو ماہانہ بنیادوں پر اس طرح کے معلوماتی اور تربیتی سیشنز منعقد کرنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد جدید کاروباری مہارتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تقریب میں پاکستان بزنس کونسل دبئی کے چیئرمین شبیر مرچنٹ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے افتخار علی تتلہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے درمیان روابط، ملاقاتوں، تجربات اور آئیڈیاز کے تبادلے کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے پلیٹ فارمز نہ صرف کمیونٹی کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ نوجوان کاروباری افراد کو نئی راہیں تلاش کرنے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
شبیر مرچنٹ نے متحدہ عرب امارات کی قیادت اور وہاں کے مثبت کاروباری ماحول کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جہاں مختلف قومیتوں اور کمیونٹیز کو ترقی اور باہمی تعاون کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں AI ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور کاروباری ادارے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہے ہیں۔ مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق AI کی مدد سے کاروباری پیداواری صلاحیت، صارفین سے رابطے اور ڈیٹا تجزیے میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث نوجوان کاروباری افراد اس شعبے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔
سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس اقدام کو مفید اور بروقت قرار دیتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔ پاکستان بزنس کونسل دبئی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کاروباری ترقی، جدت، تربیت اور کمیونٹی کے استحکام کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
![]()