
راولپنڈی (احتشام طورو) عمران خان سے ملاقات کے لیے مقررہ دن کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا، جس پر پارٹی قیادت نے شدید تشویش اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دینا قانونی اور جمہوری اصولوں کے منافی اقدام ہے۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق آج چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے باقاعدہ دن مقرر تھا اور پارٹی قیادت کی جانب سے ملاقات کرنے والے رہنماؤں کے نام پہلے ہی متعلقہ حکام کو ارسال کیے جا چکے تھے۔ تاہم اڈیالہ جیل جانے والے راستے پر داھگل ناکے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے وفد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔
رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 24 مارچ 2025 کے حکم، CRL.ORG.NO.09/2025، کے مطابق ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے تھی، لیکن عدالتی احکامات کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کرتی ہے۔
روکے جانے والے رہنماؤں میں سابق صوبائی وزیر اور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی ، ممبران اسمبلی اور ، رکن قومی اسمبلی ، اور وومن ونگ کی جنرل سیکریٹری شامل ہیں، جو اڈیالہ جیل کے قریب ناکے پر موجود رہے تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب ملاقات کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے تھے تو منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدیداران کو روکنا غیر مناسب عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سیاسی انتقام اور بنیادی جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین عمران خان کی صحت، سکیورٹی اور قانونی حقوق کے حوالے سے پارٹی کارکنان اور عوام میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے ملاقاتوں پر غیر ضروری پابندیاں ختم کی جانی چاہییں۔ رہنماؤں کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو قانونی و آئینی حقوق فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو مکمل طبی سہولیات، قانونی حقوق اور سیاسی آزادیوں تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قسم کے واقعات ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی نئی بحث جنم لے سکتی ہے۔
اڈیالہ جیل میں چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کا احتجاجImran Khan سے ملاقات کے لیے مقررہ دن کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو اڈیالہ جیل جانے سے روک دیا گیا، جس پر پارٹی قیادت نے شدید تشویش اور احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دینا قانونی اور جمہوری اصولوں کے منافی اقدام ہے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق آج چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے باقاعدہ دن مقرر تھا اور پارٹی قیادت کی جانب سے ملاقات کرنے والے رہنماؤں کے نام پہلے ہی متعلقہ حکام کو ارسال کیے جا چکے تھے۔ تاہم اڈیالہ جیل جانے والے راستے پر داھگل ناکے پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے وفد کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 24 مارچ 2025 کے حکم، CRL.ORG.NO.09/2025، کے مطابق ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے تھی، لیکن عدالتی احکامات کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کرتی ہے۔روکے جانے والے رہنماؤں میں سابق صوبائی وزیر اور رکن خیبرپختونخوا اسمبلی ظاہر شاہ طورو، ممبران اسمبلی زرعالم خان اور رجب عباسی، رکن قومی اسمبلی حرم شہزاد ورک، مولانا نسیم علی شاہ اور وومن ونگ کی جنرل سیکریٹری روبینہ شاہین شامل ہیں، جو اڈیالہ جیل کے قریب ناکے پر موجود رہے تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جب ملاقات کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے تھے تو منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدیداران کو روکنا غیر مناسب عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ سیاسی انتقام اور بنیادی جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین عمران خان کی صحت، سکیورٹی اور قانونی حقوق کے حوالے سے پارٹی کارکنان اور عوام میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے ملاقاتوں پر غیر ضروری پابندیاں ختم کی جانی چاہییں۔ رہنماؤں کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو قانونی و آئینی حقوق فراہم کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔پی ٹی آئی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو مکمل طبی سہولیات، قانونی حقوق اور سیاسی آزادیوں تک رسائی فراہم کی جائے تاکہ عوامی سطح پر پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس قسم کے واقعات ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی نئی بحث جنم لے سکتی ہے۔#ImranKhan, #PTI, #AdialaJail, #اسلام_آباد_ہائی_کورٹ, #عمران_خان, #PakistanPolitics, #PoliticalRights, #پی_ٹی_آئی, #RuleOfLaw, #Democracy
![]()