مقتول استاد کو نشانہ بنانا نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے تعلیمی نظام پر حملہ ہے، اساتذہ برادری

باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی) ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے برقمبر خیل جان خان کلے میں سکول ٹیچر مسافر شاہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف اساتذہ برادری سراپا احتجاج بن گئی۔ آل ٹیچر ایسوسی ایشن خیبر سمیت مختلف تدریسی تنظیموں نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعے کو تعلیم دشمن کارروائی قرار دیا اور حکومت سے فوری انصاف اور تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

باڑہ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آل ٹیچرز ایسوسی ایشن ضلع خیبر کے صدر ، ینگ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے رہنما ، ملگری استاذان ضلع خیبر کے ، تنظیم اساتذہ کے سمیت مختلف سکولوں کے اساتذہ نے شرکت کی۔ مقررین نے واقعے پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقتول استاد کو سکول کے گیٹ پر نشانہ بنانا نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے تعلیمی نظام پر حملہ ہے۔

اساتذہ رہنماؤں کے مطابق مقتول ایک بااخلاق، فرض شناس اور مخلص استاد تھے، جنہوں نے علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول کی کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث اس واقعے نے مقامی اساتذہ اور والدین میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ضلع خیبر میں اساتذہ پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم تعلیمی اداروں کے اندر یا اطراف میں اس نوعیت کے واقعات نے تدریسی عملے کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک استاد کا قتل دراصل معاشرے کے مستقبل پر حملہ ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ایک خاندان متاثر ہوتا ہے بلکہ درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں طلبہ اپنے رہنما اور معلم سے محروم ہو جاتے ہیں۔

اساتذہ تنظیموں نے حکومت خیبر پختونخوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں مؤثر اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

مقررین نے خبردار کیا کہ اگر قاتلوں کی جلد گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی اور مقتول استاد کے اہل خانہ کو انصاف فراہم نہ کیا گیا تو ضلع بھر کے اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ ان کے مطابق کسی بھی ممکنہ احتجاج یا تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر جیسے حساس علاقوں میں تعلیمی ماحول کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ مبصرین کے مطابق اگر اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے منفی اثرات علاقے کے تعلیمی نظام پر طویل عرصے تک مرتب ہو سکتے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے