پاکستان بزنس کونسل دبئی اور پاکستان برٹش بزنس کونسل کے درمیان اہم اجلاس، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال


دبئی(طاہر منیر طاہر) پاکستان بزنس کونسل دبئی (PBC) اور پاکستان برٹش بزنس کونسل (PBBC) کے بورڈ ممبران کے درمیان دبئی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں متحدہ عرب امارات، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی و کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کا مقصد دوطرفہ اور کثیرالجہتی تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنا تھا۔


اجلاس کے دوران شرکاء نے B2B مواقع میں اضافے، نئی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے قیام اور تینوں ممالک کے تاجروں کے درمیان تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔ اس موقع پر کاروباری نیٹ ورکنگ سیشنز اور تعارفی ملاقاتوں کا بھی اہتمام کیا گیا جن میں متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمایاں کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔
میٹنگ میں پاکستان بزنس کونسل دبئی کے چیئرمین شبیر مرچنٹ، سیکرٹری جنرل خرم خواجہ، نور کریم آفریدی، وائس چیئرمین فنانس مصطفیٰ ہیمانی، ایگزیکٹو ایڈوائزر راشد اقبال، سی ای او مسٹر عدیل خان، سرمایہ کاری کے سربراہ عمر فاروق، جبکہ سمیر احمد شاہد نے متحدہ عرب امارات میں بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے امور پر نمائندگی کی۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی معاشی حالات میں بین الاقوامی تجارتی روابط کو مضبوط بنانا نہایت ضروری ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعاون نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق متحدہ عرب امارات پہلے ہی پاکستان کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کاروباری برادری بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے اجلاس مستقبل میں مشترکہ منصوبوں، برآمدات میں اضافے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں کونسلوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے کاروباری برادریوں کے لیے مزید مؤثر اور بامعنی مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ شرکاء نے مستقبل میں بھی اس نوعیت کے روابط اور مشاورتی نشستوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔
![]()