پشاور (اسما گل) پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ “گرین انرجی واک” کے شرکاء نے حکومت سے سولر آلات پر عائد ٹیکسز ختم کرنے، نیٹ میٹرنگ بحال کرنے، اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے فوری پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ واک میں طلبہ، اساتذہ، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی کارکنوں نے شرکت کی اور صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے مستقبل کے حق میں آواز بلند کی۔
یہ واک (سی آر پی ڈی) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جس کا مقصد خیبرپختونخوا میں شمسی توانائی کے فروغ، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (BESS) کی اہمیت اجاگر کرنے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے عوامی حمایت پیدا کرنا تھا۔ واک کا آغاز “پوٹا چوک” سے ہوا اور یہ جامعہ پشاور کے اکیڈمک بلاک پر اختتام پذیر ہوئی۔
شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر سولر پینلز اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز پر ٹیکسز ختم کرنے، “قومی بیٹری و انرجی اسٹوریج ایمرجنسی” کے نفاذ، کمیونٹی سطح پر سولر کلیکٹیوز کے قیام، اور مائیکرو گرڈز و کمیونٹی اونڈ رینیوایبل انرجی سسٹمز کے فروغ کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے وفاقی حکومت اور حکومتِ خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں گھریلو سولر پینلز، بیٹری اسٹوریج سسٹمز اور مقامی سطح پر سولر آلات کی تیاری کے لیے خصوصی سبسڈی اور مراعات دی جائیں۔
منتظمین کے مطابق پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور فوسل فیولز پر مسلسل انحصار ماحولیاتی آلودگی، مہنگی بجلی اور توانائی کے عدم تحفظ کا سبب بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمسی توانائی نہ صرف ماحول دوست متبادل ہے بلکہ مقامی سطح پر قابلِ عمل اور دیرپا حل بھی فراہم کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں شہریوں کی جانب سے سولر توانائی کی جانب بڑھتا رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ غیرمرکزی توانائی نظام قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
واک کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی شعور کی کمی اور کمزور پالیسی سازی قابلِ تجدید توانائی کے بڑے پیمانے پر فروغ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگر حکومت واضح پالیسی، ٹیکس ریلیف اور مؤثر نیٹ میٹرنگ نظام متعارف کرائے تو خیبرپختونخوا توانائی کے شعبے میں ایک ماڈل صوبہ بن سکتا ہے۔
تقریب کے منتظمین کے مطابق واک کے بنیادی مقاصد میں قابلِ تجدید توانائی کے سماجی، معاشی اور ماحولیاتی فوائد سے متعلق آگاہی پیدا کرنا، طلبہ اور سول سوسائٹی کو صاف توانائی کے لیے متحرک کرنا، سولرائزیشن اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز پر پالیسی مکالمے کو فروغ دینا، اور غیرمرکزی گرڈ و توانائی کی تقسیم کے نظام کی حمایت شامل تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت بروقت اقدامات کرے تو نہ صرف بجلی کے بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرکے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ شرکاء نے امید ظاہر کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئندہ بجٹ میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کا اعلان کریں گی تاکہ ملک کو ایک محفوظ، سستا اور پائیدار توانائی مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے