باڑہ(خیال مت شاہ آفریدی) تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے متاثرہ خاندانوں نے حکومتی امداد اور بحالی کے عمل میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کی فوری مالی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔ متاثرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو وہ احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

باڑہ پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیراہ نقل مکانی سے متاثرہ خاندان کے سربراہ اول بادشاہ نے تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی کے ہمراہ اپنے خاندان کو پیش آنے والے حادثات اور مشکلات کی تفصیلات بیان کیں۔ اس موقع پر تحریک کے دیگر نمائندے اور متاثرہ خاندانوں کے افراد بھی موجود تھے۔

اول بادشاہ نے بتایا کہ وہ قبیلہ شلوبر سے تعلق رکھنے والے ایک غریب خاندان کے سربراہ ہیں جو بدامنی اور فوجی آپریشنز کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 7 جنوری کو نقل مکانی کے دوران ایک افسوسناک حادثے میں ان کے بیٹے محمد شاہ ولد اول بادشاہ جبکہ دو پوتے عنایت اللہ ولد محمد شاہ اور اسرافیل ولد محمد شاہ جاں بحق ہوگئے، جبکہ انس خان ولد اول بادشاہ شدید زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے ان کے خاندان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، تاہم واقعے کے بعد حکومت اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے تاحال کسی قسم کی عملی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق شہداء کے ورثاء کو نہ معاوضہ دیا گیا اور نہ ہی نقل مکانی کے دوران استعمال ہونے والی گاڑی کے کرائے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

اول بادشاہ نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان شدید مالی مشکلات، بے روزگاری اور ذہنی اذیت کا شکار ہے جبکہ زخمی انس خان کے علاج معالجے کے اخراجات بھی ذاتی وسائل سے برداشت کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے بارہا وعدے کیے گئے لیکن اب تک عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اس موقع پر تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے متاثرین مسلسل حکومتی بے حسی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں نے اپنے پیارے کھوئے اور نقل مکانی کی سختیاں برداشت کیں، انہیں ریلیف اور بحالی کے نام پر صرف اعلانات دیے گئے۔

انہوں نے حکومت خیبر پختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے لواحقین کو فوری طور پر مکمل مالی معاوضہ اور سرکاری شہداء پیکج فراہم کیا جائے، زخمی افراد کے علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے اور تیراہ کے تمام بے گھر خاندانوں کی باعزت بحالی کو یقینی بنایا جائے۔

صحبت آفریدی نے کہا کہ تیراہ کے بے گھر خاندان آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت نے فوری اور عملی اقدامات نہ کیے تو متاثرین احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر اول بادشاہ اور صحبت آفریدی نے میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ تیراہ متاثرین کی آواز بنیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے