
باڑہ (خیال مت شاہ آفریدی) قبائلی ضلع خیبر کے دورافتادہ علاقہ کمرخیل میں واقع مدینہ العلم پبلک سکول میں ایک پروقار تعلیمی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو انعامات اور اسناد سے نوازا گیا۔ تقریب کا مقصد تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی اور علاقے میں تعلیم کے فروغ کو تقویت دینا تھا۔
تقریب میں محکمہ تعلیم خیبر کے افسران، اساتذہ، والدین اور علاقہ عمائدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مہمانِ خصوصی ڈپٹی ڈی ای او سب ڈویژن باڑہ ڈاکٹر شیر زمان تھے، جبکہ دیگر مہمانان میں سابق اے ڈی ای او خیبر مشرف خان اور سابق اے ڈی سی او واجد خان شامل تھے۔ مہمانانِ گرامی نے پوزیشن ہولڈر طلبہ میں انعامات تقسیم کیے اور ان کی محنت کو سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار معیاری تعلیم پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کا قیام اور ان کی بہتری نہایت ضروری ہے تاکہ نئی نسل کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ مقررین نے سکول کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ادارہ علاقے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر شیر زمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم نجی تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں تاکہ مستقبل میں ملک و قوم کے لیے مفید شہری بن سکیں۔
تقریب میں شریک والدین اور علاقہ عمائدین نے سکول انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات طلبہ کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پسماندہ علاقوں کے تعلیمی اداروں کی مزید سرپرستی کی جائے تاکہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع خیبر کے دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولیات محدود ہونے کے باوجود نجی تعلیمی ادارے اہم خلا کو پُر کر رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کے نزدیک ایسے ادارے نہ صرف شرح خواندگی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ سماجی و معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر سکول کے ڈائریکٹر قاری رفیع اللہ نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ تعلیمی خدمات جاری رکھے گا اور علاقے کے بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرتا رہے گا۔
مجموعی طور پر یہ تقریب نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے علاقے میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں بھی مثبت کردار ادا کیا۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات مستقبل میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور نوجوان نسل کو مثبت سمت دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
![]()