
پشاور (امجد ہادی یوسفزئی) صوبائی دارالحکومت پشاور میں منعقد ہونے والے “ہنر میلہ” کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں، غیر شفافیت اور ممکنہ کرپشن کے الزامات کے بعد فنکار برادری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مختلف ثقافتی و فنی تنظیموں کے نمائندوں نے حکومتی حکام سے ملاقات میں مؤقف اختیار کیا کہ میلے کے انعقاد میں فنکاروں کو نظر انداز کرنے اور نجی کمپنیوں و ٹھیکیداری نظام کو فوقیت دینے سے ثقافتی شعبے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز “ہنری ٹولنہ”، “آرٹسٹس ایکشن فاؤنڈیشن”، “پاکستان ڈائریکٹرز پروڈیوسرز رائٹرز اینڈ آرٹسٹس ایسوسی ایشن”، “مفکوره”، “پاکستان کلچر ٹورازم اینڈ آرٹس آرگنائزیشن” اور “فنکار اتحاد” کے سربراہان پر مشتمل ایک مشترکہ وفد نے صوبائی حکام سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں سیکرٹری ثقافت، ڈی جی کلچر اینڈ ٹورازم اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے نمائندگان بھی شریک تھے۔
وفد نے حکومتی حکام کو آگاہ کیا کہ “ہنر میلہ” کی منصوبہ بندی اور انتظامی معاملات میں فنکار برادری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ نجی کمپنیوں کے ذریعے انتظامی امور چلانے سے شفافیت پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ وفد کے مطابق عوامی وسائل کے استعمال اور فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے بھی وضاحت سامنے نہیں آئی، جس سے فنکاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
ملاقات میں شریک فنکار رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ ثقافتی سرگرمیوں کا مقصد مقامی فن، موسیقی، تھیٹر اور روایتی ہنر کو فروغ دینا ہونا چاہیے، تاہم اگر اصل فنکاروں کو ہی فیصلوں سے دور رکھا جائے تو اس سے پورا تخلیقی شعبہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ثقافتی تقریبات میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حکومتی نمائندوں نے وفد کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے معاملے پر فوری نظرثانی کی یقین دہانی کرائی۔ حکام نے آج اور کل تک کا وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ فنکار تنظیموں کے تحفظات دور کرنے کے بعد ہی آئندہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حکومت اس معاملے میں انتظامی طریقہ کار اور مالی معاملات کا جائزہ لینے پر بھی غور کر رہی ہے۔
فنکار برادری نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے فوری ردعمل کو مثبت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ ثقافتی سرگرمیوں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ وفد میں ڈرامہ و تھیٹر سے ارشد حسین، طارق جمال اور نوشابہ بی بی، موسیقی کے شعبے سے ڈاکٹر راشد احمد خان، مصوری سے سجاد اورکزئی جبکہ ہدایت کاری کے شعبے سے اشفاق طورو شامل تھے۔
ثقافتی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں فنونِ لطیفہ کے فروغ کے لیے سرکاری سرپرستی ہمیشہ اہم رہی ہے، تاہم ماضی میں بھی بعض تقریبات میں فنکاروں کی عدم شمولیت اور مالی شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ موجودہ تنازع نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ ثقافتی منصوبوں میں متعلقہ فنکار تنظیموں کی باقاعدہ نمائندگی یقینی بنائی جائے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اور شفاف اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات نہ صرف فنکار برادری بلکہ صوبے کی ثقافتی سرگرمیوں اور عوامی اعتماد پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب فنکار تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حل تک مسئلے کو اجاگر کرتے رہیں گے۔
![]()