
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی سیاست کو ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں معمولی سی چنگاری بھی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ وہ اہم سمندری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی فوجی سرگرمی نہ صرف خلیجی خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی طاقتیں اس علاقے میں ہونے والی ہر پیش رفت پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے سخت بیانات اور جارحانہ اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی تناؤ نے یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ کہیں یہ کشیدگی کسی بڑے عسکری تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور غیر معمولی بیانات، جن میں اسے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکی بھی شامل ہے، نے سفارتی ماحول کو مزید کشیدہ اور غیر مستحکم کر دیا ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں بلکہ مذاکرات کے امکانات کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سفارتکاری میں عموماً ایسے الفاظ سے گریز کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ فریقین کے درمیان فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی اپنے مؤقف میں غیر معمولی سختی دکھاتے ہوئے امریکی بحری جہازوں کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ ایران خود کو ایک دفاعی پوزیشن میں پیش کرتا ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ اس طرزِ عمل نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اس تنازعے کو غیر معمولی حساسیت عطا کرتی ہے، کیونکہ یہاں سے گزرنے والی توانائی کی سپلائی دنیا کے کئی ممالک کی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر یہاں کسی بھی قسم کی بندش یا تصادم ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی منڈیوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں استحکام کو عالمی ترجیح سمجھا جاتا ہے۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین اور خطرناک بنا دیا ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف مقامی سلامتی کے خدشات کو بڑھایا ہے بلکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ کشیدگی اب ایک وسیع جغرافیائی دائرے میں پھیل رہی ہے۔ اس قسم کے واقعات خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ان حملوں کے بعد عالمی طاقتیں بھی متحرک ہو گئی ہیں اور ہر ملک اپنی پالیسی اور مفادات کے مطابق اس صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔ کچھ ممالک نے دفاعی اقدامات کو بڑھایا ہے جبکہ دیگر نے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ تاہم مختلف طاقتوں کے متضاد مفادات اس بحران کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ایسے میں پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوشش ایک مثبت اور تعمیری قدم کے طور پر سامنے آئی ہے، جسے عالمی سطح پر بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی میں امن کے قیام کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ اقدام ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن، اعتدال اور سفارتی مہارت کو خاص اہمیت حاصل ہے، جس کی بدولت وہ مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہی توازن اسے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر قابلِ قبول بناتا ہے، کیونکہ وہ کسی ایک فریق کے ساتھ مکمل طور پر منسلک نظر نہیں آتا۔ یہ خصوصیت اس کی سفارتی طاقت ہے۔
پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ تعلقات موجود ہیں، اگرچہ ان تعلقات کی نوعیت اور نوعیت میں واضح فرق پایا جاتا ہے، لیکن یہی پہلو اسے ایک پل کا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک جانب اس کے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی روابط بھی موجود ہیں۔ یہ توازن بیک وقت ایک موقع اور ایک چیلنج ہے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی یہ ثالثی واقعی کامیاب ہو سکتی ہے، یا یہ محض ایک سفارتی کوشش تک محدود رہ جائے گی؟ اس کا جواب سادہ نہیں بلکہ کئی پیچیدہ عوامل پر منحصر ہے جو اس عمل کے نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ہر فریق کی نیت، عالمی حالات اور علاقائی سیاست اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سب سے اہم مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان گہرا عدم اعتماد ہے، جو کئی دہائیوں پر محیط ہے اور جس نے ہر قسم کے مذاکرات کو مشکل بنا دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات تاریخی طور پر کشیدہ رہے ہیں اور ان کے درمیان براہ راست رابطے بھی محدود رہے ہیں۔ اس پس منظر میں ثالثی کا عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب دونوں فریق اس پر اعتماد کریں اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ ہوں۔ اگر کسی ایک فریق کو بھی ثالث پر شک ہو تو یہ عمل مؤثر نہیں رہتا۔ اس لیے اعتماد سازی اولین شرط ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑا سفارتی امتحان ہے، جہاں اسے نہ صرف غیر جانبداری برقرار رکھنی ہوگی بلکہ اپنے قومی مفادات کا بھی تحفظ کرنا ہوگا۔ کسی بھی قسم کی جھکاؤ اس کی ثالثی کی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانے ہوں گے۔
عالمی طاقتوں کا کردار بھی اس معاملے میں نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ اس تنازعے کو کم کرنے یا بڑھانے دونوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اگر بڑی طاقتیں اس بحران کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کریں گی تو ثالثی کی کوششیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے عالمی تعاون ضروری ہے۔
خطے میں موجود دیگر ممالک کی پوزیشن بھی اس صورتحال کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر خلیجی ریاستیں جو براہ راست اس کشیدگی کے اثرات محسوس کر سکتی ہیں۔ ان ممالک کے اقدامات اور بیانات بھی کشیدگی کو کم یا زیادہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ علاقائی اتحاد اور اختلافات یہاں نمایاں ہو سکتے ہیں۔
میڈیا اور عوامی بیانیہ بھی اس کشیدگی کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ اشتعال انگیز خبریں اور بیانات عوامی جذبات کو بھڑکا سکتے ہیں۔ جب عوامی دباؤ بڑھتا ہے تو حکومتوں کے لیے نرم موقف اختیار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔
پاکستان اگر اس موقع پر مؤثر اور فعال سفارتکاری کا مظاہرہ کرتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں مدد دے سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت اور وقار میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔ یہ اس کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ خود کو ایک ذمہ دار اور بااثر ملک کے طور پر پیش کرے۔
تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان ایک واضح، متوازن اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے، جس میں تمام فریقین کے خدشات اور مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔
ثالثی کا عمل عموماً طویل، پیچیدہ اور صبر آزما ہوتا ہے، جس میں فوری نتائج کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا۔ اس میں مسلسل رابطے، اعتماد سازی اور تدریجی پیش رفت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی بار معمولی کامیابیاں بھی بڑی پیش رفت کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔
اگر پاکستان اس عمل میں مستقل مزاجی، سنجیدگی اور حکمت کا مظاہرہ کرتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ کشیدگی کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیاب ہو جائے، چاہے مکمل حل فوری طور پر ممکن نہ ہو۔ یہ بھی ایک اہم کامیابی سمجھی جائے گی۔
پاکستان کی ثالثی کی کوشش ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار صرف پاکستان پر نہیں بلکہ امریکہ اور ایران کی سنجیدگی، عالمی حالات اور علاقائی سیاست پر بھی ہے۔ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔
موجودہ حالات میں امن ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، کیونکہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے تمام فریقین کو دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ایک بڑے بحران سے بچا جا سکے۔
![]()