باڑہ (نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی)
وادی تیراہ کے علاقے شلوبر میں گزشتہ سال 13 نومبر کو شادی کی ایک تقریب کے دوران گولہ گرنے سے معذور ہونے والے آٹھ نوجوانوں نے باڑہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے فوری مالی امداد، مفت علاج اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
متاثرین نے بتایا کہ وہ خوشی کی تقریب میں شریک تھے کہ اچانک گولہ گرنے سے شدید زخمی ہوگئے۔ دھماکے کے نتیجے میں انہیں ایسے زخم آئے جو مستقل معذوری پر منتج ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف ہسپتالوں میں علاج کرایا اور تمام اخراجات خود برداشت کیے، مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود کسی سرکاری ادارے یا حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
متاثرہ نوجوانوں کے مطابق معذوری کے باعث وہ روزگار سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے گھروں میں معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ مالی مشکلات نے زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
اس موقع پر تحریک تیراہ متاثرین کے ترجمان صحبت خان اور منہاج آفریدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے متاثرین کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ افراد کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے جس میں مالی امداد، مفت اور معیاری طبی سہولیات، اور بحالی کے اقدامات شامل ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ذمہ دار اداروں نے فوری نوٹس نہ لیا تو متاثرین احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر متاثرین نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ سانحے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں ان کا جائز حق دیا جائے تاکہ وہ باوقار طریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے