پشاور: پشاور پریس کلب اور الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے درمیان صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے ایک جامع مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے گئے۔ اس سلسلے میں تقریب پشاور پریس کلب میں منعقد ہوئی جس میں دونوں اداروں کے عہدیداران، گورننگ باڈی اراکین اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
معاہدے کے تحت الخدمت فاؤنڈیشن صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو الخدمت ہسپتالوں میں صحت اور تشخیصی سہولیات خصوصی رعایت پر فراہم کرے گی۔ طبی سہولیات میں مزید تین بیماریوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ ممبران کے بچوں سمیت خاندان کے کسی بھی فرد کو تھیلیسیمیا کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ قوتِ گویائی و سماعت سے محروم بچوں کو تین لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آلاتِ سماعت بھی مہیا کیے جائیں گے۔
پریس کلب ممبران اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے جنرل او پی ڈی سروس مفت ہوگی۔ ہسپتال میں تمام ٹیسٹوں پر پچاس فیصد رعایت دی جائے گی۔ بیرونِ شہر سے آنے والے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس پر تیس فیصد رعایت جبکہ ہسپتال کے اپنے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ممبران اور ان کے اہلِ خانہ کا مفت معائنہ کریں گے۔ ادویات پر دس فیصد خصوصی رعایت، داخلہ فیس میں مکمل استثنیٰ اور بڑے آپریشنز پر تیس فیصد رعایت بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ ضرورت مند صحافیوں کو وہیل چیئرز فراہم کی جائیں گی۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبے میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے “بنو قابل” پروگرام کے تحت صحافیوں اور ان کے بچوں کو ای کامرس، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گرافکس ڈیزائننگ کی مفت تربیت دی جائے گی۔ دس سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو ان کورسز میں داخلہ دیا جائے گا۔
امتحانی بورڈ میں پہلی تین پوزیشنیں حاصل کرنے والے بچوں کو خصوصی انعامات دیے جائیں گے جبکہ مرحوم صحافیوں کے بچوں کو انٹرمیڈیٹ تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ یہ سہولت میڈیا سے وابستہ سپورٹنگ اسٹاف کے بچوں کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔ الخدمت اسکولوں میں ممبران کے بچوں کا داخلہ مفت اور فیس میں پچاس فیصد رعایت دی جائے گی۔
اجتماعی شادیوں میں صحافیوں کے بچوں کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کیا جائے گا۔ سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کے دوران صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تربیتی سیشنز منعقد ہوں گے جن میں حفاظتی کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ ہنگامی صورتحال میں ڈیوٹی اسٹیشن سے باہر موجود صحافیوں کو رہائش اور خوراک کی سہولت بھی دی جائے گی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پشاور پریس کلب ایم ریاض نے اس اقدام کو اہم پیش رفت قرار دیا اور ایجوکیشن کمیٹی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ممبران کی فلاح و بہبود کے لیے دیگر معیاری اداروں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے