پشاور (خیبر نامہ نیوز) — پشاور پریس کلب کے معزز ممبران کے بچوں کے لیے شہر کے تاریخی ورثے سے آگاہی کے مقصد کے تحت ایک روزہ مطالعاتی دورے کا انعقاد کیا گیا، جس میں 300 سے زائد بچوں اور ان کے اہلِ خانہ نے شرکت کی۔ یہ دورہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے تعاون سے منعقد ہوا، جس کا مقصد نئی نسل کو اپنی ثقافتی اور تاریخی شناخت سے روشناس کرانا تھا۔
مطالعاتی دورے کے دوران بچوں کو پشاور کے اہم تاریخی مقامات بشمول پشاور میوزیم، گورگھٹڑی اور سیٹھی ہاؤس کی سیر کرائی گئی۔ اس موقع پر پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، نائب صدر و چیئرمین ایجوکیشن کمیٹی ضیاء الحق، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، فنانس سیکرٹری ارشاد علی، سینئر صحافی شمیم شاہد، شکیل فرمان علی اور شازیہ نثار سمیت دیگر ممبران بھی موجود تھے۔
پشاور میوزیم میں بچوں اور ان کے اہل خانہ نے بدھ مت کے نوادرات، قدیم مجسمے، تاریخی سکے، اسلحہ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ اور عجائب گھر کے حکام نے شرکاء کو ان نوادرات کی تاریخی اہمیت، پس منظر اور تحقیقاتی پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق ایسے دورے طلبہ میں تاریخی شعور اور تحقیق کا رجحان فروغ دیتے ہیں۔
گورگھٹڑی کے مقام پر بچوں کو آثارِ قدیمہ کی اہمیت اور اس تاریخی مقام کے مختلف ادوار سے تعلق پر آگاہ کیا گیا، جبکہ سیٹھی ہاؤس میں قدیم طرزِ تعمیر اور ثقافتی ورثے نے شرکاء کو متاثر کیا۔ دورے کے دوران بچوں اور فیملیز نے فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے یادگار لمحات محفوظ کیے۔
پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض نے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالصمد اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں بچوں کی تعلیمی اور فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔ خیبرپختونخوا خصوصاً پشاور تاریخی اعتبار سے ایک اہم شہر ہے، جہاں گندھارا تہذیب کے آثار سمیت مختلف ادوار کی جھلک ملتی ہے۔ ایسے مطالعاتی دورے نہ صرف طلبہ میں تاریخ سے دلچسپی پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
دورے کے اختتام پر شرکاء کے لیے ظہرانے اور ریفریشمنٹ کا بھی اہتمام کیا گیا، جس سے بچوں اور ان کے اہلِ خانہ نے بھرپور استفادہ کیا۔ مجموعی طور پر یہ مطالعاتی دورہ تعلیمی، ثقافتی اور سماجی حوالے سے ایک کامیاب اقدام ثابت ہوا، جس کے مثبت اثرات آئندہ نسلوں تک منتقل ہونے کی توقع ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے