
پشاور: اعوان ویلفیئر فاؤنڈیشن پاکستان کے صوبائی چیئرمین اور سابق امیدوار صوبائی اسمبلی مہد طارق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کو اپنی کارکردگی کے دعوے کرنے کے بجائے ملک کی حقیقی معاشی صورتحال کا سنجیدگی سے ادراک کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی اور آئی ایم ایف کے سامنے مسلسل قرضوں پر انحصار کرتے ہوئے ملک کو زیادہ عرصہ نہیں چلایا جا سکتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کرپشن پاکستان کی ترقی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ بظاہر ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، لیکن کمزور اور کھوکھلی معیشت ہماری دفاعی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوتا تو آج مسلم امہ کی قیادت کا کردار ادا کر سکتا تھا۔
مہد طارق اعوان نے مزید کہا کہ بے ایمانی، اقربا پروری اور بدانتظامی نے ملک کو سنگین حالات سے دوچار کر دیا ہے۔ حکمران سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے بیرونی دورے کرتے ہیں، لیکن ان سے ملک کو خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچتا۔ ان کے مطابق ملک میں احتساب کا مؤثر نظام نظر نہیں آتا جبکہ ریاستی اداروں کے بعض عناصر ہی نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محض دعووں اور نعروں سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آمدنی قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے جو معیشت کے لیے خطرناک صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں دوہری شہریت رکھنے والے ہزاروں افسران بھی نظام کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔
مہد طارق اعوان نے مزید کہا کہ بظاہر تو آئی ایم ایف پاکستان کا سب سے بڑا ہمدرد دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ کم از کم اثاثوں کے اعلان اور نظام میں شفافیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کئی سیاستدان اپنی دولت بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں جس سے ملک کی معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے۔
![]()