جنگ کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں؟ ایران نے کھیل کا نقشہ بدل دیا

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی اور نہایت پیچیدہ صورتحال میں یہ تاثر دن بہ دن مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی حکمتِ عملی محض ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ چھیڑنے کی نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت وقفے وقفے سے ایسی محدود مگر شدید نوعیت کی جھڑپیں کرنا ہے جن سے ایران کے میزائل ذخائر، دفاعی تنصیبات اور عسکری تیاری کو بتدریج کمزور کیا جا سکے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد فوری فتح نہیں بلکہ مسلسل دباؤ کے ذریعے حریف کو تھکا دینا اور اس کی صلاحیت کو آہستہ آہستہ گھٹا دینا بتایا جا رہا ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی نکتہ یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایران کو ایک ایسے دائرے میں الجھا دیا جائے جہاں وہ ہر حملے کے بعد اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے میں مصروف رہے اور مکمل تیاری کی حالت میں واپس نہ آ سکے۔ اس طرح بظاہر بڑی جنگ کے بغیر بھی اسے مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھا جا سکتا ہے، اور اس کی معاشی و عسکری توانائی کا بڑا حصہ صرف بحالی پر خرچ ہوتا رہے۔

دوسرا اور پہلے سے کہیں زیادہ جارحانہ آپشن یہ تھا کہ کسی بھی طرح ایران میں رجیم چینج کروا کر اقتدار کا توازن مکمل طور پر تبدیل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے بیرونِ ملک موجود شخصیات، خصوصاً رضا پہلوی کا نام بطور ممکنہ متبادل پیش کیا جاتا رہا، تاکہ ایک ایسی قیادت سامنے لائی جائے جو مغربی مفادات کے زیادہ قریب سمجھی جائے اور خطے میں طاقت کا رخ بدل سکے۔

لیکن زمینی حقائق نے واضح کیا کہ یہ آپشن فی الحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ ایران کے اندرونی سیاسی ڈھانچے، سیکیورٹی نظام اور ریاستی اداروں کی گرفت نے کسی فوری اور بیرونی حمایت یافتہ تبدیلی کی گنجائش کم کر دی، جس کے باعث توجہ دوبارہ محدود فوجی دباؤ اور اسٹریٹجک جھڑپوں کی پالیسی پر مرکوز ہو گئی۔

امریکہ اور اسرائیل کے بعض پالیسی ساز حلقوں کا اندازہ یہ تھا کہ اگر جنگ کا آغاز ان کے ہاتھ میں ہوگا تو اس کا اختتام بھی وہی اپنی شرائط پر طے کریں گے۔ ان کے خیال میں ایران جلد یا بدیر جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے گا، کیونکہ طویل جنگ اس کی معیشت، داخلی استحکام اور سفارتی پوزیشن کے لیے بھاری ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی سوچ کے تحت وقفے وقفے سے شدید مگر مختصر جھڑپوں کا ماڈل اپنانے کا تصور سامنے آیا، تاکہ ایران کو مستقل دباؤ میں رکھا جائے اور وہ تھک کر کسی ایسے معاہدے پر راضی ہو جائے جو اس کے اسٹریٹیجک اثر و رسوخ اور علاقائی کردار کو محدود کر دے۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے جس میں وقت کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن حالیہ پیش رفت نے اس مفروضے کو چیلنج کر دیا ہے اور حالات نے غیر متوقع رخ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایران نے بظاہر یہ پیغام دیا ہے کہ جنگ کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا، اس کا فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں ہونے دیا جائے گا، اور وہ ردعمل دینے کی صلاحیت اور ارادہ دونوں رکھتا ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ طاقت کے اس امتحان میں وہ سوال سامنے آ گیا ہے جو متوقع سلیبس میں شامل ہی نہیں تھا۔ جب فریقین اپنے اندازوں اور حساب کتاب پر جنگی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور سامنے والا غیر متوقع ردعمل دے، تو پوری حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑتی ہے اور طاقت کا توازن نئے سرے سے متعین ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں اگلا ممکنہ آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس تنازع میں شامل کیا جائے، تاکہ دباؤ تقسیم ہو اور جنگ کا بوجھ ایک سے زیادہ فریقوں پر منتقل ہو جائے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے تو اصل تصادم کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔

اسی تناظر میں سعودی عرب میں آرامکو کے سیٹ اپ، یعنی آئل ریفائنری پر میزائل حملے کی خبر سامنے آئی، جس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی منڈیوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد الزامات کا رخ ایران کی جانب موڑا گیا اور کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران نے سعودی عرب میں کسی آئل ریفائنری کو نشانہ نہیں بنایا۔ اس تردید نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر ایران ملوث نہیں تو پھر اس حملے کے پیچھے کون ہے اور اس کا مقصد کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے واقعات اکثر علاقائی کشیدگی کو ہوا دینے اور رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں دھکیلنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ جب کوئی حملہ ہوتا ہے اور فوری طور پر کسی مخصوص ملک کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، تو عوامی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں اور سفارتی گنجائش سکڑنے لگتی ہے۔

اسی دوران امریکہ میں ایک مبینہ رپورٹ لیک ہونے کی خبر بھی سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد بن سلمان نے ایران پر حملے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور ڈالا۔ اس خبر کے سامنے آنے کے وقت، حالات اور ذرائع نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

جب جنگی ماحول میں ایسی غیر مصدقہ رپورٹس منظرِ عام پر آتی ہیں تو ان کا اثر براہِ راست عسکری حلقوں، عوامی جذبات اور سیاسی فیصلوں پر پڑتا ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کو ایران کے خلاف جارحانہ پوزیشن میں دکھایا جاتا ہے، اور دوسری جانب ایران کے اندر یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ عرب قیادت اس کے خلاف صف بندی کر رہی ہے۔

یوں بظاہر ایک ایسا ماحول تشکیل دیا جا رہا ہے جس میں عرب ممالک اور ایران آمنے سامنے آ جائیں، جبکہ بڑی طاقتیں پس منظر میں رہ کر صورتحال کا فائدہ اٹھائیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی حکمتِ عملی کئی بار استعمال کی گئی ہے، جہاں علاقائی طاقتوں کو آپس میں الجھا کر اصل قوتیں خود کو محفوظ رکھتی ہیں۔

اگر عرب ممالک اس ممکنہ جال میں نہ پھنسیں اور دانشمندی سے غیر جانبدار رہنے کی پالیسی اپنائیں، تو امکان ہے کہ تنازع محدود رہے اور براہِ راست تصادم کا دائرہ وسیع نہ ہو۔ ایسی صورت میں خطہ کسی بڑے تباہ کن مرحلے میں داخل ہونے سے بچ سکتا ہے۔

لیکن اگر کسی بھی وجہ سے عرب ممالک ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی میں شامل ہو جاتے ہیں، تو اس کے اثرات نہایت وسیع اور تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تیل کی ترسیل، عالمی معیشت، سمندری راستے اور علاقائی استحکام سب شدید متاثر ہوں گے، اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

مزید یہ کہ موساد کے مبینہ ایجنٹس کی سعودی عرب اور عمان میں گرفتاری کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ صورتحال کو مزید نازک اور خطرناک بنا سکتی ہیں۔

ایسے کسی بھی واقعے میں سب سے سنگین پہلو یہ ہوتا ہے کہ حملے کا الزام فوری طور پر کسی تیسرے ملک پر ڈال دیا جائے، جس سے کشیدگی میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح عوامی غصہ بھڑکایا جاتا ہے اور سیاسی قیادت پر سخت اور فوری فیصلوں کا دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔

یوں مجموعی تصویر یہ بنتی ہے کہ خطے میں آگ کو مکمل طور پر بجھنے نہیں دیا جا رہا، بلکہ وقفے وقفے سے اسے ہوا دی جا رہی ہے تاکہ کشیدگی برقرار رہے۔ جب بھی حالات نسبتاً ٹھنڈے ہونے لگتے ہیں، کوئی نیا واقعہ یا رپورٹ سامنے آ جاتی ہے جو صورتحال کو دوبارہ گرم کر دیتی ہے۔

مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے اہم عنصر تحمل، حکمت اور سفارتی بصیرت ہے۔ اگر علاقائی ممالک جذباتی ردعمل کے بجائے دور اندیشی سے کام لیں اور براہِ راست تصادم سے گریز کریں، تو ممکن ہے کہ ایک بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔

بصورتِ دیگر، اگر یہ کشیدگی پھیلتی گئی اور ہر فریق دوسرے کو کمزور کرنے کی دوڑ میں شامل رہا، تو نقصان صرف ایک یا دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارتی راستوں، مذاکرات اور علاقائی استحکام کو ترجیح دی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک مستقل اور تباہ کن جنگ کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے