پشاور (امجد ہادی یوسفزئی) نشتر ہال میں منعقدہ مصوری کی ایک نمایاں نمائش نے فنونِ لطیفہ کے فروغ اور فنکاروں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
پاکستان ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، رائٹرز اینڈ آرٹسٹس ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام اور کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی خیبر پختونخوا کے تعاون سے منعقدہ اس تقریب میں صوبے کی معروف مصوراؤں نوید شبیر اور خولہ ایاز کے فن پارے پیش کیے گئے۔ نمائش میں کلاسیکی اور جدید طرزِ مصوری کے امتزاج کو نمایاں کیا گیا، جسے شرکاء نے سراہا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی عثمان محسود تھے، جبکہ ڈائریکٹر کلچر نے بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔ اس موقع پر فنکاروں، بیوروکریٹس، معزز فوجی خاندانوں اور پشاور کی کاروباری برادری کی نمایاں شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں، جس سے اس تقریب کی اہمیت اور اثر پذیری کا اندازہ ہوتا ہے۔
چیئرمین ایسوسی ایشن سجاد علی اورکزئی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں دونوں مصوراؤں کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ “فنکار کسی بھی معاشرے کا حساس اور تخلیقی چہرہ ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں مناسب سرپرستی میسر نہیں آتی۔” انہوں نے حکومت کی جانب سے ثقافتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کرنے کو خوش آئند قرار دیا، تاہم فنکاروں کو درپیش مالی مشکلات، حکومتی عدم توجہی اور سرپرستی کے فقدان جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔
ڈائریکٹر جنرل عثمان محسود نے اپنے خطاب میں کہا کہ فنکار برادری کے مسائل حقیقی ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آرٹسٹس کے لیے قائم انڈومنٹ فنڈ کو جلد مستحق افراد میں تقسیم کیا جائے گا۔ مزید برآں انہوں نے آرٹ گیلری کے قیام اور ہنڈی کرافٹس کے فروغ کے لیے مستقل ہٹس بنانے کا بھی عندیہ دیا، تاکہ ہنرمند اپنے فن پارے براہِ راست فروخت کر سکیں۔
نمائش کے دوران شرکاء نے فن پاروں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تخلیقی اظہار کو سراہا۔ کئی شرکاء نے اسے نوجوان فنکاروں کے لیے حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔ ایک مقامی آرٹ کے شوقین نے بتایا کہ “ایسی سرگرمیاں نہ صرف ثقافتی شعور کو فروغ دیتی ہیں بلکہ نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتی ہیں۔”
خیبر پختونخوا میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی تقریبات کی ایک تاریخ رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق تسلسل اور مؤثر پالیسی سازی کی کمی کے باعث یہ شعبہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔ سرکاری سطح پر حالیہ اعلانات کو اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور گیسٹ آف آنر کو یادگاری سووینئر پیش کیے گئے، جبکہ مصوراؤں نے اپنی تخلیقات بطور تحفہ پیش کیں۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی نے فیتہ کاٹ کر نمائش کا باضابطہ افتتاح کیا۔ پروگرام کے آخر میں شرکاء کے اعزاز میں ریفریشمنٹ کا اہتمام کیا گیا، جہاں فن اور ثقافت کے فروغ پر تبادلۂ خیال جاری رہا۔
نشتر ہال میں منعقدہ یہ نمائش نہ صرف فنکاروں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی بلکہ حکومتی سطح پر فن و ثقافت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اگر اعلان کردہ منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ شعبہ آئندہ برسوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

پشاور: نشتر ہال میں منعقدہ مصوری کی ایک نمایاں نمائش نے فنونِ لطیفہ کے فروغ اور فنکاروں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔پاکستان ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، رائٹرز اینڈ آرٹسٹس ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے زیر اہتمام اور کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی خیبر پختونخوا کے تعاون سے منعقدہ اس تقریب میں صوبے کی معروف مصوراؤں نوید شبیر اور خولہ ایاز کے فن پارے پیش کیے گئے۔ نمائش میں کلاسیکی اور جدید طرزِ مصوری کے امتزاج کو نمایاں کیا گیا، جسے شرکاء نے سراہا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی عثمان محسود تھے، جبکہ ڈائریکٹر کلچر نے بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی۔ اس موقع پر فنکاروں، بیوروکریٹس، معزز فوجی خاندانوں اور پشاور کی کاروباری برادری کی نمایاں شخصیات بڑی تعداد میں موجود تھیں، جس سے اس تقریب کی اہمیت اور اثر پذیری کا اندازہ ہوتا ہے۔چیئرمین ایسوسی ایشن سجاد علی اورکزئی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں دونوں مصوراؤں کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ “فنکار کسی بھی معاشرے کا حساس اور تخلیقی چہرہ ہوتے ہیں، مگر بدقسمتی سے انہیں مناسب سرپرستی میسر نہیں آتی۔” انہوں نے حکومت کی جانب سے ثقافتی منصوبوں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کرنے کو خوش آئند قرار دیا، تاہم فنکاروں کو درپیش مالی مشکلات، حکومتی عدم توجہی اور سرپرستی کے فقدان جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ڈائریکٹر جنرل عثمان محسود نے اپنے خطاب میں کہا کہ فنکار برادری کے مسائل حقیقی ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آرٹسٹس کے لیے قائم انڈومنٹ فنڈ کو جلد مستحق افراد میں تقسیم کیا جائے گا۔ مزید برآں انہوں نے آرٹ گیلری کے قیام اور ہنڈی کرافٹس کے فروغ کے لیے مستقل ہٹس بنانے کا بھی عندیہ دیا، تاکہ ہنرمند اپنے فن پارے براہِ راست فروخت کر سکیں۔نمائش کے دوران شرکاء نے فن پاروں کا تفصیلی جائزہ لیا اور تخلیقی اظہار کو سراہا۔ کئی شرکاء نے اسے نوجوان فنکاروں کے لیے حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔ ایک مقامی آرٹ کے شوقین نے بتایا کہ “ایسی سرگرمیاں نہ صرف ثقافتی شعور کو فروغ دیتی ہیں بلکہ نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتی ہیں۔”خیبر پختونخوا میں فن و ثقافت کے فروغ کے لیے اس نوعیت کی تقریبات کی ایک تاریخ رہی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق تسلسل اور مؤثر پالیسی سازی کی کمی کے باعث یہ شعبہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔ سرکاری سطح پر حالیہ اعلانات کو اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور گیسٹ آف آنر کو یادگاری سووینئر پیش کیے گئے، جبکہ مصوراؤں نے اپنی تخلیقات بطور تحفہ پیش کیں۔ بعد ازاں مہمانِ خصوصی نے فیتہ کاٹ کر نمائش کا باضابطہ افتتاح کیا۔ پروگرام کے آخر میں شرکاء کے اعزاز میں ریفریشمنٹ کا اہتمام کیا گیا، جہاں فن اور ثقافت کے فروغ پر تبادلۂ خیال جاری رہا۔خلاصہ و مستقبل کا لائحہ عمل:نشتر ہال میں منعقدہ یہ نمائش نہ صرف فنکاروں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنی بلکہ حکومتی سطح پر فن و ثقافت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اگر اعلان کردہ منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ شعبہ آئندہ برسوں میں نمایاں ترقی کر سکتا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے