
تحصیل باڑہ(خیال مت شاہ آفریدی) ضلع خیبر میں ایک نئے تعلیمی ادارے "دی پرل سکول اینڈ کالج نالہ” کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا، جہاں جدید تعلیم کے تقاضوں کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس، دینی تعلیم اور مادری زبان پشتو کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو علاقے میں تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی مثبت رہنمائی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
باڑہ سے نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی کے مطابق افتتاحی تقریب میں علاقے کی سماجی و تعلیمی شخصیات نے شرکت کی، جن میں مفتی مزمل شاہ آفریدی، پرنسپل جمیل آفریدی، خان ولی آفریدی، اصغر آفریدی، صدیق چراغ، عبدالوحد آفریدی، محب اللہ اور دیگر معززین شامل تھے۔ ادارے کے پرنسپل ودود آفریدی نے مہمانانِ خصوصی کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر سکول کا افتتاح کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ودود آفریدی نے کہا کہ ادارے میں جدید تدریسی طریقوں کو اپنایا جائے گا تاکہ طلبہ کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیادی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مادری زبان پشتو کو نصاب کا حصہ بنانا طلبہ کی فکری و لسانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرے گا۔
دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باڑہ جیسے علاقے میں، جہاں ماضی میں امن و امان کی صورتحال چیلنجز کا شکار رہی ہے، وہاں نئے تعلیمی اداروں کا قیام ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے فروغ سے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں، خصوصاً منشیات کے استعمال سے دور رکھا جا سکتا ہے۔
مقامی عمائدین نے نشاندہی کی کہ ضلع خیبر میں گزشتہ برسوں کے دوران سیکیورٹی چیلنجز کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، تاہم حالیہ عرصے میں حالات میں بہتری کے بعد نجی شعبے کی جانب سے تعلیمی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ادارے نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتے ہیں بلکہ مقامی معیشت اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب میں شریک افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے کے عوام اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے مستفید ہو سکیں۔ مقررین نے پرنسپل ودود آفریدی کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مستقبل میں علاقے کے لیے ایک مثالی تعلیمی مرکز بنے گا۔
آخر میں، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر جدید اور معیاری تعلیم کو مقامی سطح پر فروغ دیا جائے تو نہ صرف تعلیمی شرح میں اضافہ ممکن ہے بلکہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر معاشرے کو مثبت سمت میں گامزن کیا جا سکتا ہے۔
باڑہ میں جدید تعلیمی ادارے کا افتتاح: آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مادری زبان پشتو کو نصاب کا حصہ بنانے کا اعلانتحصیل باڑہ، ضلع خیبر میں ایک نئے تعلیمی ادارے "دی پرل سکول اینڈ کالج نالہ” کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا، جہاں جدید تعلیم کے تقاضوں کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس، دینی تعلیم اور مادری زبان پشتو کو نصاب میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو علاقے میں تعلیم کے فروغ اور نوجوانوں کی مثبت رہنمائی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔باڑہ سے نمائندہ خیال مت شاہ آفریدی کے مطابق افتتاحی تقریب میں علاقے کی سماجی و تعلیمی شخصیات نے شرکت کی، جن میں مفتی مزمل شاہ آفریدی، پرنسپل جمیل آفریدی، خان ولی آفریدی، اصغر آفریدی، صدیق چراغ، عبدالوحد آفریدی، محب اللہ اور دیگر معززین شامل تھے۔ ادارے کے پرنسپل ودود آفریدی نے مہمانانِ خصوصی کے ہمراہ فیتہ کاٹ کر سکول کا افتتاح کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ودود آفریدی نے کہا کہ ادارے میں جدید تدریسی طریقوں کو اپنایا جائے گا تاکہ طلبہ کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بنیادی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی و دینی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مادری زبان پشتو کو نصاب کا حصہ بنانا طلبہ کی فکری و لسانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرے گا۔دیگر مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باڑہ جیسے علاقے میں، جہاں ماضی میں امن و امان کی صورتحال چیلنجز کا شکار رہی ہے، وہاں نئے تعلیمی اداروں کا قیام ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کے فروغ سے نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں، خصوصاً منشیات کے استعمال سے دور رکھا جا سکتا ہے۔مقامی عمائدین نے نشاندہی کی کہ ضلع خیبر میں گزشتہ برسوں کے دوران سیکیورٹی چیلنجز کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں، تاہم حالیہ عرصے میں حالات میں بہتری کے بعد نجی شعبے کی جانب سے تعلیمی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے ادارے نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتے ہیں بلکہ مقامی معیشت اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب میں شریک افراد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ علاقے کے عوام اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے مستفید ہو سکیں۔ مقررین نے پرنسپل ودود آفریدی کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مستقبل میں علاقے کے لیے ایک مثالی تعلیمی مرکز بنے گا۔آخر میں، ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر جدید اور معیاری تعلیم کو مقامی سطح پر فروغ دیا جائے تو نہ صرف تعلیمی شرح میں اضافہ ممکن ہے بلکہ نوجوانوں کو بااختیار بنا کر معاشرے کو مثبت سمت میں گامزن کیا جا سکتا ہے۔
![]()