
امجد ہادی یوسف زئی
پشاور: خیبر پختونخوا میں پشتو فلمی صنعت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں سینما کلچر کے زوال، سرمایہ کاری کی کمی اور جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے رجحان نے اس شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ رواں عیدالفطر کے موقع پر صرف ایک پشتو فلم کی متوقع ریلیز نے اس بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبے بھر میں سینما گھروں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے باعث فلم سازوں کے لیے نئی فلموں کی نمائش ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پشاور، جو ماضی میں پشتو فلمی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب وہاں بھی محدود تعداد میں سینما گھر فعال رہ گئے ہیں جبکہ مردان، کوہاٹ، نوشہرہ اور سوات جیسے اہم اضلاع میں سینما گھروں کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
فلمی حلقوں کے مطابق اس سال عید پر معروف ہدایتکار عنایت اللہ خان کی فلم ”ددشمنی اوور“ کی ریلیز متوقع ہے، جس میں شاہد خان، ارباز خان، محمد حسین سواتی اور ممتاز زیب جیسے فنکار شامل ہیں۔ ایک مقامی فلم ڈسٹری بیوٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “سینما گھروں کی کمی کے باعث فلموں کی کمائی کا دائرہ محدود ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار اس شعبے سے دور ہو رہے ہیں۔”
سینئر اداکاروں اور پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا میں ایک مکمل فلمی سرکٹ موجود تھا، جہاں عید کے مواقع پر متعدد فلمیں بیک وقت ریلیز ہوتی تھیں اور سینما گھروں کے باہر شائقین کی طویل قطاریں دیکھی جاتی تھیں۔ ایک سینئر فلم پروڈیوسر کے مطابق “1990 اور 2000 کی دہائی میں پشتو فلمیں نہ صرف صوبے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی نمایاں بزنس کرتی تھیں، مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔”
ماہرین کے مطابق اس زوال کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سکیورٹی خدشات، معاشی دباؤ، سینما گھروں کی بندش اور ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی مقبولیت شامل ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران آن لائن مواد دیکھنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے روایتی سینما کلچر کو متاثر کیا ہے۔
اس بحران کے اثرات نہ صرف فلم سازوں بلکہ مقامی کمیونٹی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ سینما گھروں کی بندش سے وابستہ سینکڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں جبکہ عوام معیاری تفریح کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو گئے ہیں۔ پشاور کے ایک شہری نے بتایا کہ “پہلے عید کا مزہ سینما جانے میں ہوتا تھا، مگر اب یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔”
دوسری جانب میوزیکل اسٹیج شوز، جو کبھی عید کے تہوار کا اہم حصہ ہوتے تھے، بھی اب نظر نہیں آ رہے۔ اسٹیج آرٹسٹوں کے مطابق سرکاری سرپرستی کی کمی اور بڑھتے اخراجات نے اس شعبے کو بھی متاثر کیا ہے۔
فلمی ماہرین اور صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پشتو فلمی صنعت مزید سکڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق نئے سینما گھروں کی تعمیر، فلم سازوں کو مالی سہولیات اور جدید تربیت کے مواقع فراہم کر کے اس شعبے کو دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک دہائی قبل خیبر پختونخوا میں درجنوں سینما گھر فعال تھے، تاہم اب ان کی تعداد انتہائی محدود رہ گئی ہے، جس سے فلمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ:
اگرچہ موجودہ حالات حوصلہ شکن ہیں، تاہم ماہرین کو امید ہے کہ مناسب پالیسی سازی، نجی سرمایہ کاری اور جدید تقاضوں کے مطابق فلم سازی کے فروغ سے پشتو فلمی صنعت دوبارہ بحال ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، یہ صنعت مزید زوال کا شکار ہو کر اپنی ثقافتی اہمیت کھو سکتی ہے۔
![]()