
خیبر: عوام کو سرکاری خدمات تک بروقت رسائی کے حق سے آگاہ کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر (آر ٹی ایس) خیبر ثریا خان نے ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر لنڈی کوتل کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صحافیوں کو رائٹ ٹو پبلک سروسز (آر ٹی ایس) ایکٹ کے دائرہ کار، مقاصد اور عملی نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی۔
تفصیلات کے مطابق یہ دورہ خیبر ضلع میں عوامی آگاہی مہم کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد شہریوں کو ان کے قانونی حقوق سے روشناس کرانا اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید شفاف بنانا ہے۔ اس موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر ثریا خان نے کہا کہ آر ٹی ایس ایکٹ کے تحت شہریوں کو مقررہ وقت میں سرکاری خدمات کے حصول کا قانونی حق حاصل ہے، اور اس قانون پر عملدرآمد کے لیے رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن مؤثر نگرانی کا نظام فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا، سرکاری محکموں میں تاخیر اور بدانتظامی کا خاتمہ کرنا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی شہری کو مقررہ وقت میں سروس فراہم نہ کی جائے تو وہ متعلقہ فورم پر شکایت درج کرا سکتا ہے، جس کے ازالے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔
ثریا خان نے میڈیا کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عوام میں آگاہی پھیلانے کے لیے صحافی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “میڈیا کے ذریعے ہی شہریوں تک درست معلومات پہنچ سکتی ہیں، اس لیے ہم صحافیوں کے تعاون سے اس قانون کے بارے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔” اس دوران انہوں نے صحافیوں سے مختلف کمیونیکیشن چینلز اور مؤثر آگاہی مہم کے حوالے سے تجاویز بھی حاصل کیں۔
ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے اعلان کیا کہ عیدالفطر کے بعد ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں ایک خصوصی آگاہی سیمینار منعقد کیا جائے گا، جس میں شہریوں، سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا تاکہ آر ٹی ایس ایکٹ کے حوالے سے مزید تفصیلی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں رائٹ ٹو پبلک سروسز ایکٹ کا نفاذ عوام کو سرکاری خدمات کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت مختلف محکموں کو مخصوص مدت میں خدمات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس قانون کی مکمل افادیت اسی وقت ممکن ہے جب عوام کو اس کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل ہو۔
مقامی صحافیوں اور شرکاء نے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف عوامی شعور میں اضافہ ہوگا بلکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں میں اس قانون کے بارے میں معلومات کی کمی ہے، جسے دور کرنے کے لیے مربوط کوششیں ضروری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں آر ٹی ایس نظام کے تحت مختلف نوعیت کی ہزاروں درخواستیں اور شکایات درج کی جا چکی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد کو مقررہ وقت کے اندر حل بھی کیا گیا ہے، تاہم آگاہی کی کمی کے باعث ابھی بھی بہت سے شہری اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
آخر میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے میڈیا کے تعاون کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ صحافتی برادری عوامی حقوق کے فروغ اور معلومات کی ترسیل میں اپنا مؤثر کردار جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں آگاہی مہم کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس قانون سے مستفید ہو سکیں۔
نتیجہ و آئندہ لائحہ عمل:
ماہرین کے مطابق آر ٹی ایس ایکٹ پر مؤثر عملدرآمد کے لیے حکومت، میڈیا اور عوام کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔ آئندہ متوقع آگاہی سیمینار اور مہمات اس سلسلے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں، جو نہ صرف شہریوں کو بااختیار بنائیں گی بلکہ گورننس کے نظام کو بھی مضبوط کریں گی۔
![]()