اسلام آباد: جمعرات کو وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 458.40 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت 520.35 روپے فی لیٹر مقرر کر دی۔ اس فیصلے نے ملک بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے، تاہم حکومت نے موٹر سائیکل صارفین کے لیے محدود ریلیف کا اعلان بھی کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ اعلان وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ نئی قیمتیں مارچ کے اوائل میں مقرر کردہ نرخوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہیں، جب پیٹرول 321.17 روپے اور ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر تھا۔ اس طرح پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے جبکہ ڈیزل میں 184.49 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس موقع پر ایک ہدفی ریلیف اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے افراد کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول 100 روپے فی لیٹر کم قیمت پر فراہم کیا جائے گا، تاکہ کم آمدنی والے طبقے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وزیر اعظم شہباز شریف گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی متعدد سمریاں مسترد کر چکے تھے۔ گزشتہ جمعہ قوم سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے تقریباً 56 ارب روپے کا مالی بوجھ خود برداشت کرے گی۔ تاہم، موجودہ فیصلہ اس مؤقف میں واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔
پس منظر کے طور پر، 6 مارچ کو بھی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ عالمی سطح پر کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے تیل کی رسد کو متاثر کیا۔ مزید برآں، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی نے عالمی منڈی میں بے یقینی کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی۔
ماہرین کے مطابق، پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتا ہے۔ اس حالیہ اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑے گا۔
شہریوں اور ٹرانسپورٹرز نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی بلند سطح نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، اور مزید اضافہ معاشی مشکلات کو بڑھا دے گا۔ بعض معاشی ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری اور مقامی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے جھٹکوں سے بچا جا سکے۔
خلاصہ یہ کہ پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، جبکہ حکومت کی جانب سے محدود ریلیف اقدامات اس بوجھ کو مکمل طور پر کم کرنے کے لیے ناکافی سمجھے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عالمی حالات اور حکومتی پالیسیوں کے مطابق مزید تبدیلیوں کا امکان موجود ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے