
پشاور (احتشام طورو) خیبر پختونخوا کے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات نے صوبے میں سرکاری بھرتیوں کو شفاف، منصفانہ اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ 30 مارچ 2026 کو منعقدہ ای-کھلی کچہری میں موصول ہونے والی عوامی آراء اور تجاویز کی روشنی میں کیا گیا، جس کا مقصد بھرتیوں کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور اہل امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔
اعلامیے کے مطابق نئے ضابطہ کار کا اطلاق محکمہ جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ (PFI) سمیت تمام متعلقہ اداروں میں ہونے والی بھرتیوں پر ہوگا۔ اس اقدام کے تحت ہر آسامی کو پُر کرنے سے قبل محکمہ خزانہ سے این او سی کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مالی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تحریری امتحانات کے انعقاد کے لیے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ETEA) کے ساتھ مشاورت کے بعد باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “امتحانی عمل کو غیر جانبدار اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ایک خودمختار ادارے کی شمولیت ضروری تھی، جسے اب باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔”
مزید برآں، تمام آسامیوں کے اشتہارات قومی اخبارات میں شائع کیے جائیں گے تاکہ صوبے بھر کے امیدواروں کو معلومات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ فاریسٹ گارڈز کی آسامیوں کے لیے جسمانی ٹیسٹ ضلعی پولیس کے تعاون سے موجودہ قوانین کے مطابق لیے جائیں گے، جبکہ امیدواروں کے انٹرویوز ایک بااختیار سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کیے جائیں گے، جس کی سربراہی متعلقہ تقرری اتھارٹی کرے گی۔
شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بھرتی کے ہر مرحلے، خصوصاً حتمی سلیکشن لسٹ، کو سرکاری نوٹس بورڈز اور متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر نمایاں طور پر جاری کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہر ادارے میں ایک مؤثر گریوینس ریڈریسل میکانزم بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں ماضی میں بھرتیوں کے عمل پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جس کے باعث عوامی اعتماد متاثر ہوا۔ نئے ضابطہ کار کو ان خدشات کے ازالے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ہزاروں خالی آسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
شہری حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے میرٹ کی بالادستی قائم ہوگی اور باصلاحیت نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں آگے آنے کا موقع ملے گا۔ ایک امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “اگر یہ نظام دیانتداری سے نافذ ہو جائے تو یہ نوجوانوں کے لیے ایک بڑی امید بن سکتا ہے۔”
محکمہ موسمیاتی تبدیلی نے واضح کیا ہے کہ تمام بھرتیاں ایسٹا کوڈ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت عمل میں لائی جائیں گی، جبکہ متعلقہ افسران کو ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔
یہ نیا نظام نہ صرف شفافیت اور احتساب کو فروغ دے گا بلکہ صوبے میں گورننس کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ ماڈل دیگر محکموں کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سرکاری بھرتیوں کے لیے شفاف نظام متعارف: موسمیاتی تبدیلی و جنگلات محکمے کے نئے ضابطہ کار نافذپشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات نے صوبے میں سرکاری بھرتیوں کو شفاف، منصفانہ اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی بنانے کے لیے نئے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) جاری کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ 30 مارچ 2026 کو منعقدہ ای-کھلی کچہری میں موصول ہونے والی عوامی آراء اور تجاویز کی روشنی میں کیا گیا، جس کا مقصد بھرتیوں کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور اہل امیدواروں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔اعلامیے کے مطابق نئے ضابطہ کار کا اطلاق محکمہ جنگلات، جنگلی حیات، ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) اور پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ (PFI) سمیت تمام متعلقہ اداروں میں ہونے والی بھرتیوں پر ہوگا۔ اس اقدام کے تحت ہر آسامی کو پُر کرنے سے قبل محکمہ خزانہ سے این او سی کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ مالی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ تحریری امتحانات کے انعقاد کے لیے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایویلیوایشن ایجنسی (ETEA) کے ساتھ مشاورت کے بعد باقاعدہ شیڈول جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “امتحانی عمل کو غیر جانبدار اور قابل اعتماد بنانے کے لیے ایک خودمختار ادارے کی شمولیت ضروری تھی، جسے اب باقاعدہ نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔”مزید برآں، تمام آسامیوں کے اشتہارات قومی اخبارات میں شائع کیے جائیں گے تاکہ صوبے بھر کے امیدواروں کو معلومات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ فاریسٹ گارڈز کی آسامیوں کے لیے جسمانی ٹیسٹ ضلعی پولیس کے تعاون سے موجودہ قوانین کے مطابق لیے جائیں گے، جبکہ امیدواروں کے انٹرویوز ایک بااختیار سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کیے جائیں گے، جس کی سربراہی متعلقہ تقرری اتھارٹی کرے گی۔شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بھرتی کے ہر مرحلے، خصوصاً حتمی سلیکشن لسٹ، کو سرکاری نوٹس بورڈز اور متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر نمایاں طور پر جاری کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہر ادارے میں ایک مؤثر گریوینس ریڈریسل میکانزم بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں ماضی میں بھرتیوں کے عمل پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جس کے باعث عوامی اعتماد متاثر ہوا۔ نئے ضابطہ کار کو ان خدشات کے ازالے اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں ہزاروں خالی آسامیوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے، جس سے روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔شہری حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے میرٹ کی بالادستی قائم ہوگی اور باصلاحیت نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں آگے آنے کا موقع ملے گا۔ ایک امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “اگر یہ نظام دیانتداری سے نافذ ہو جائے تو یہ نوجوانوں کے لیے ایک بڑی امید بن سکتا ہے۔”محکمہ موسمیاتی تبدیلی نے واضح کیا ہے کہ تمام بھرتیاں ایسٹا کوڈ اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت عمل میں لائی جائیں گی، جبکہ متعلقہ افسران کو ان ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔نتیجہ و آئندہ کا لائحہ عمل:یہ نیا نظام نہ صرف شفافیت اور احتساب کو فروغ دے گا بلکہ صوبے میں گورننس کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر اس پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ ماڈل دیگر محکموں کے لیے بھی قابل تقلید بن سکتا ہے۔
![]()