پشاور — پشاور پریس کلب کی جنرل باڈی کا اہم اجلاس جمعرات کو زبیر میر ہال میں منعقد ہوا، جس میں گزشتہ چار ماہ کی کارکردگی، صحافیوں کی فلاح و بہبود، اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں کلب کی منتخب قیادت نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے متعدد اہم اعلانات اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اجلاس کی صدارت صدر ایم ریاض نے کی، جبکہ نائب صدر ضیاء الحق، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، فنانس سیکرٹری ارشاد علی، گورننگ باڈی کے اراکین اور کثیر تعداد میں ممبران شریک ہوئے۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جبکہ سینئر صحافیوں کے عزیز و اقارب کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

جنرل سیکرٹری عالمگیر خان نے کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ باڈی نے انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں، خصوصاً ممبران کی فلاح اور مالی شفافیت، کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حلف برداری تقریب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مصروفیات کے باعث دو بار مؤخر ہوئی، تاہم 21 فروری 2026 کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں صحافی برادری کے مسائل مؤثر انداز میں پیش کیے گئے، جس کے نتیجے میں تاریخی اعلانات سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور پریس کلب کے لیے 15 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ اور جرنلسٹس ویلفیئر انڈوومنٹ فنڈ کو 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کیا، جس کی بعد ازاں صوبائی کابینہ نے منظوری بھی دے دی۔ اس کے علاوہ جدید سہولیات سے آراستہ نئی عمارت کی تعمیر کے لیے پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے، جسے آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود ممبران کو رمضان کے موقع پر فی کس 40 ہزار روپے کا کیش ریلیف پیکیج فراہم کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح رمضان سپورٹس گالا میں ریکارڈ شرکت، بہتر سہولیات اور 50 فیصد اضافی اعزازیہ بھی نمایاں اقدامات میں شامل ہیں۔

صحافیوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے نیو پشاور ویلی سٹی منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ سیکرٹری ہاؤسنگ کی جانب سے جلد بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ مزید برآں، ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے لیے قرضہ اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے تاکہ بے روزگار صحافیوں کو معاشی سہارا فراہم کیا جا سکے۔

کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پریس کلب اور الخدمت فاؤنڈیشن کے درمیان صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کا معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم (HOPE) کے ساتھ بھی صحافیوں کے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات میں رعایت کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے تاریخی مقامات کے مطالعاتی دورے اور میڈیا قوانین پر صوبائی کنونشن کا انعقاد بھی اہم اقدامات میں شامل ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ باڈی کی کاوشوں کو سراہا اور آئندہ بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ یہ اقدامات نہ صرف صحافیوں کی فلاح و بہبود میں بہتری کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ صوبے میں میڈیا کے ادارہ جاتی استحکام کو بھی فروغ دیں گے۔ مستقبل میں منصوبوں کے مؤثر نفاذ اور مالی وسائل کی بروقت فراہمی اس پیش رفت کے تسلسل کے لیے اہم ہوگی۔ پشاور پریس کلب کی موجودہ قیادت نے محدود وقت میں فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کا آغاز کیا ہے، جبکہ حکومتی تعاون اور منظور شدہ فنڈز مستقبل میں صحافی برادری کے لیے مزید سہولیات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے