بارہ (خیال مت شاہ) ضلع خیبر میں صحافیوں پر مبینہ تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے واقعے کے بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے دو اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا کر لائن حاضر کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے واقعے کا نوٹس لینے اور صحافی برادری کے شدید ردعمل کے بعد اٹھایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق جمرود روڈ پر بیسے بابا چیک پوسٹ کے مقام پر سی ٹی ڈی اہلکاروں نے باڑہ پریس کلب سے وابستہ صحافیوں کو روک کر مبینہ طور پر بدتمیزی، گالم گلوچ اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق صحافیوں کو حراست میں بھی لیا گیا، جبکہ ان کی گاڑی کو سرکاری ڈنڈوں اور بندوق کے بٹ سے نقصان پہنچایا گیا اور شیشے توڑ دیے گئے۔
واقعے کے بعد باڑہ پریس کلب اور ضلع خیبر کی صحافی برادری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خیبر پولیس کی میڈیا کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس دباؤ کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس کے انسپکٹر جنرل نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملوث افسران، ایس پی اور ڈی ایس پی، کو عہدوں سے ہٹا کر پولیس لائن کلوز کر دیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
باڑہ پریس کلب کے صدر محمد سلیم آفریدی کی قیادت میں ایک وفد نے آئی جی پولیس سے ملاقات بھی کی، جس میں شفاف انکوائری اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں پریس کلب کے ہنگامی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل بھی سینئر صحافی قاضی محمد رؤف، کامران آفریدی اور منیر خان آفریدی کے ساتھ اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، جب وہ ایک احتجاجی جلسے کی کوریج کے بعد واپس آ رہے تھے۔ انہیں مبینہ طور پر زبردستی روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں سی ٹی ڈی تھانہ حیات آباد سے بازیاب کروایا گیا، جبکہ ان کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ صحافیوں کے خلاف ایسے واقعات نہ صرف آزادیٔ صحافت کے لیے چیلنج ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور میڈیا کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان میں صحافی تنظیمیں مسلسل ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

حالیہ پیش رفت پر صحافی برادری نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مستقل بہتری کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے