
خیبر: (امان علی شینواری) لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں گزشتہ تین روز سے جاری موسلا دھار بارشوں نے طوفانی سیلاب کی شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔ پاک افغان شاہراہ پر پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں باپ بیٹے سمیت تین افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ علاقے میں انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ لنڈی کوتل کے قریب پاک افغان شاہراہ پر اس وقت پیش آیا جب ایک موٹر کار سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جائے حادثہ پر پل موجود نہ ہونے کے باعث گاڑی تیز بہاؤ کا مقابلہ نہ کر سکی۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت قدوس، فضل محمد اور ان کے بیٹے نیاز محمد کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق خیبر کے علاقے نیکی خیل سے بتایا جاتا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں اور کافی جدوجہد کے بعد لاشوں کو نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں مرحومین کی نماز جنازہ ان کے آبائی علاقے خیبر تکیہ میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی، اور انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
مسلسل بارشوں کے باعث علاقے کے دیگر حصے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ مختلف مقامات پر درجنوں گھروں کے کمرے اور چار دیواریاں گرنے کی اطلاعات ہیں، جس سے شہریوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ کچے رابطہ سڑکیں سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث آمد و رفت کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
تباہی کا ایک اور دلخراش واقعہ بازار ذخہ خیل میں پیش آیا جہاں ایک غریب خاندان کی 30 سے زائد بکریاں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ مقامی افراد کے مطابق یہ بکریاں اس خاندان کا واحد ذریعہ معاش تھیں، جن کے ضائع ہونے سے وہ شدید معاشی بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ بارشیں غیر معمولی شدت کی حامل تھیں، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ تاہم علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی، خاص طور پر پل کی عدم موجودگی، اس سانحے کی بڑی وجہ بنی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر کے قبائلی علاقوں میں ماضی میں بھی بارشوں اور سیلاب کے باعث ایسے حادثات پیش آتے رہے ہیں، تاہم مناسب حفاظتی اقدامات اور انفراسٹرکچر کی بہتری نہ ہونے کے باعث مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔
علاقے کے عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاک افغان شاہراہ پر فوری طور پر پل تعمیر کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی امداد اور مالی معاونت بھی فراہم کی جائے۔
موجودہ صورتحال نے نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ پر سوال اٹھایا ہے بلکہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے سانحات کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
خلاصہ: لنڈی کوتل میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے جہاں قیمتی جانیں لے لیں، وہیں انفراسٹرکچر کی کمزوری اور حکومتی عدم توجہی بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے۔ فوری اور مؤثر اقدامات کے بغیر علاقے کو درپیش خطرات میں کمی ممکن نظر نہیں آتی۔
![]()