تحریر: عبدالحمید زاھد

آج ہم جس معزز اور محترم شخصیت کے اعزاز میں یہ تقریب منعقد کر رہے ہیں، یہ محض ایک رسمی نشست نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی شخصیت، کردار اور خدمات کا اعتراف ہے جس نے اپنی پوری زندگی دوسروں کے احترام، محبت اور انسانیت کے لیے وقف کر رکھی ہے۔
یہ شخصیت ہمیشہ دوسروں کو عزت دیتی رہی ہے، ہر ایک کے ساتھ خلوصِ دل سے محبت کی ہے۔ ان کی پہچان کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس میں ہمارے کئی بزرگ اور معزز نام شامل ہیں، جیسے اجمل خٹک،رحمت شاہ سائل، ماسٹر شیر افضل افضل، امیر محمد خان خادم، محمد اقبال اقبال،نورالبشر نوید،عبدالسبحان خان ،اور ڈاکٹر ھمایون ھما ،یہ محض تعارف نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور فکری تعلقات کی ایک مضبوط اور دیرینہ زنجیر ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے کہ “جب انسان صبح اپنے گھر سے نکلے تو لازماً صدقہ کرے، اور اگر صدقہ دینے کی استطاعت نہ ہو تو کم از کم اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا لے۔”
یہ قول دراصل انسانی اخلاق اور معاشرتی حسن کا ایک جامع درس ہے۔ اگر اس قول کی عملی تصویر کسی شخصیت میں نظر آتی ہے تو وہ شخصیت سردار یوسفزئی کی ہے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ ایک نرم اور دلنشین مسکراہٹ رہتی ہے۔ یہ مسکراہٹ محض ایک ظاہری تاثر نہیں بلکہ ان کے باطن کی وسعت، محبت اور انسان دوستی کی علامت ہے۔
مسکراہٹ ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف دوسروں کے دلوں کو سکون دیتا ہے بلکہ انسان کے اپنے دل کو بھی اطمینان اور راحت سے بھر دیتا ہے۔ سردار یوسفزئی کی شخصیت کا یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں اور لوگوں کی خوشیوں میں بھی دل سے خوش ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ھے کہ ہر شخص انہیں اپنا قریب ترین دوست اور رازدار محسوس کرتا ہے۔
یہ وصف دراصل بڑے انسانوں کی پہچان ہوتا ہے۔ یہ کوئی سیکھا ہوا ہنر نہیں بلکہ ایک فطری انسانی احساس ہے، اور ایسا احساس ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
جب سردار یوسفزئی اسلام آباد آئے تو سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے۔ اس وقت شاید ہم دونوں کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک سادہ سی ملاقات اتنی گہری، مخلص اور پائیدار دوستی میں بدل جائے گی۔ اس پہلی ملاقات سے لے کر آج تک ہمارا تعلق اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سردار یوسفزئی ہمارے گھر کے ایک فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں ان کے خاندان کو جانتا ہوں اور میرا خاندان انہیں جانتا ہے—اور یہ مقام ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
سردار یوسفزئی کی شخصیت میں بے شمار خوبیاں ہیں، مگر ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو پہچاننے کا ہنر رکھتے ہیں۔ وہ انسانوں کی قدر کرتے ہیں اور ان کے دوستوں کا حلقہ وسیع ہے، مگر یہ وسعت صرف تعداد میں نہیں بلکہ معیار میں بھی نمایاں ہے۔ وہ محض نام کی دوستی نہیں کرتے بلکہ ہر دوست کو وقت دیتے ہیں، اس کا خیال رکھتے ہیں اور خاص طور پر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
خلیل جبران کہتے ہیں:
"جب خوشی کے وقت کوئی یاد آئے تو سمجھو تم اس سے محبت کرتے ہو، لیکن جب مشکل وقت میں کوئی یاد آئے تو سمجھو وہ تم سے محبت کرتا ہے۔”
اگر ہم اس قول کی عملی مثال تلاش کریں تو سردار یوسفزئی اس کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔
اگر میں ان کی شخصیت کو چند الفاظ میں بیان کروں تو یوں کہوں گا کہ بعض لوگ خون کے رشتے میں نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے لگتے ہیں، ان سے محبت، خلوص اور اپنائیت کی خوشبو آتی ہے۔ سردار یوسفزئی بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔ وہ دوست کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں اور غم کو اپنا غم ۔ یہ وصف ہر کسی میں نہیں ہوتا بلکہ یہ بڑے دل اور پاک نیت کی علامت ہے—اسی لیے وہ سب کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں۔
جب وہ اسلام آباد آئے تو پشتو ادبی سوسائٹی اسلام اباد میں ایک عام رکن کے طور پر شامل ہوئے، مگر آج بیس سال بعد اسی ادبی سوسائٹی میں ایک اہم عہدے پر اپنے رفقاء اور بزرگوں کے اعتماد سے فائز ہیں۔ یہ مقام انہیں یوں ہی حاصل نہیں ہوا بلکہ یہ ان کی مسلسل محنت، اخلاص اور لگن کا نتیجہ ہے۔
بطور شاعر بھی انہوں نے اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے۔ ان کے احساسات اور اندازِ بیان میں ایک خاص رنگ ہے۔ میں نے چند سال قبل ان کی شاعری پر ایک تفصیلی تحریر بھی لکھی تھی، جس میں ان کے فکر، تخیل اور اسلوب کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا تھا۔ مگر شاعری کے ساتھ ساتھ ان کا انسانی کردار اس سے بھی بڑھ کر اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بہت کم عرصے میں اپنے اپنے بزرگ و سینئرز شعراء کرام عبدالرحمان بیتاب، عبدالجبار حامد، م۔ر شفق، مطیع اللہ قریشی اور محمود احمد صاحب سے نہ صرف سیکھا بلکہ خلوص کے ساتھ ان کی خدمت بھی کی۔ انہی بزرگوں کی دعاؤں نے ان کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے۔
بطور لکھاری، بیتاب صاحب کے مطابق وہ ایک قدآور قلمکار ہیں، اور بطور صحافی بھی وہ ایک کامیاب اور متحرک شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اب پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام اباد کے صدر قمر یوسفزئی صاحب انہیں نیشنل پریس کلب کی سیاست میں بھی لے گئے ہیں، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ وہاں بھی وہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور نیشنل پریس کلب اسلام اباد کے حالیہ الیکشن میں چند سینئرز اور متحرک صحافیوں سے بھی زیادہ ووٹ لے کر گورننگ باڈی کے ممبر منتخب ھوئے
مجھے سردار یوسفزئی صاحب کے صحافت میں آنے کا وقت یاد ھے ۔ میں انہیں اپنے دوست سینئر صحافی جناب بشارت کھوکھر کے پاس لے گیا، اور بعد میں اپنے دیگر دوستوں جیسے جناب اکرام ہوتی، جناب مبارک ورک، اور نیشنل ، انٹرنیشنل اداروں میں کام کرنے والے اپنے چھوٹے بھائی زلمی آزاد اور اکرام مومند سے بھی ان کے لیے بات کی۔ پھر ایک وقت آیا کہ شفق صاحب اور محمود احمد صاحب کے کوششوں سے انہوں نے ریڈیو پاکستان کے نیوز سیکشن پشتو یونٹ سے نیوز ٹرانسلیٹر پھر نیوز ریڈر کی حیثیت سے کام کا آغاز کیا۔
انہوں نے کئی سال سردی اور گرمی میں اس ذمہ داری کو اس قدر ایمانداری سے نبھایا کہ آج بھی میں اسے نسل نو کے سامنے مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ یہی وہ محنتیں تھیں جنہوں نے آج انہیں کامیابی کی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

وہ نیوز شعبہ میں آؤٹ اسٹینڈنگ درجے کے نیوز کاسٹر ہیں۔ ان کی آواز میں اعتماد، لہجے میں شائستگی اور اندازِ بیان میں سنجیدگی انہیں دیگر سے ممتاز بناتی ہے۔
اسی لیے ایک موقع پر ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز، مرحوم کیفی صاحب نے سید محمود احمد صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا:
“میں نے طویل عرصے بعد، صاحبزادہ امین کے بعد پشتو یونٹ سے کوئی ایسی عمدہ، منفرد اور دلنشین آواز سنی ہے جو واقعی اپنی پہچان آپ ہے۔”
اس موقع پر جناب سردار کے حوالے سے اردو و پشتو کے معروف ادیب، ڈرامہ نویس، پروفیسر ڈاکٹر ہمایون ہُما کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے۔
دو سال قبل مردان کے علاقے کاٹلنگ میں ممتاز شاعر، ادیب اور محقق پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کی کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں پورے خیبر پختونخوا سے عہدِ حاضر کے نامور اہلِ قلم شریک تھے۔ اس باوقار تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار صاحب انجام دے رہے تھے۔ ایک ہی پروگرام میں زیادہ مقررین کی موجودگی اسٹیج سیکرٹری کے لیے ایک بڑا امتحان ہوتی ہے، مگر سردار صاحب نے نہایت مہارت، سلیقے اور بہترین انداز میں نظامت کے فرائض سرانجام دے کر محفل کو خوبصورتی سے اختتام تک پہنچایا۔
جب وہ اسٹیج سے اترے تو پروفیسر ڈاکٹر ہمایون ھما نے داد دیتے ہوئے کہا: “سردار! کیا تمہیں اپنی آواز کا اندازہ ہے؟ یہ کتنی خوبصورت اور مؤثر ہے—
سردار یوسفزئی ریڈیو پاکستان میں نیوز کے علاوہ ایکسٹرنل سروسز میں پشتو زبان کے پروگرام ہوسٹ وائس ارٹسٹ، اور ریسرچ رائٹر کے طور پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
سردار یوسفزئی ایک بہترین براڈکاسٹر، منفرد وائس آرٹسٹ اور باصلاحیت تخلیق کار ہیں۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والی ان کی خبروں کا انداز ہو یا مختلف پروگراموں میں تاریخ، ادب، ثقافت اور دیگر موضوعات پر گفتگو—ان کی دلکش آواز اور پُراثر انداز سامعین کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سننے والے انہیں بار بار سننے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان کی گفتگو کو بے حد پسند کرتے _

سردار یوسفزئی نے جدید میڈیا کے تقاضوں کو بھی بخوبی سمجھا ہے۔ وہ ریڈیو پاکستان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ اردو اور پشتو زبانوں میں رپورٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف خبروں کی بروقت ترسیل یقینی بناتے ہیں بلکہ ڈیجیٹل صحافت میں بھی اپنی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں۔
ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا ایک اہم باب الیکٹرانک میڈیا کے مشرق ٹی وی سے وابستگی ہے، جہاں وہ پشتو نیوز ڈیسک کے انچارج، ریسرچ رائٹر اور وائس آرٹسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے نہ صرف ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ نوجوان صحافیوں کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اگر آپ سردار یوسفزئی کی تخلیقی صلاحیتوں اور آواز کی مٹھاس کو جاننا چاہتے ہیں تو دس برس گزر جانے کے بعد آج بھی جب آپ مشرق ٹی وی آن کرتے ہیں تو اسکرین پر ان کا تخلیقی کام جلوہ گر نظر آتا ہے۔ ان کے پشتو تراجم، ان کی پُرکشش آواز، اور ان کا منفرد اندازِ بیان آج بھی اسی چینل پر موجود اور جاری ھے
ڈیجیٹل میڈیا میں بھی سردار یوسفزئی نے ایک بڑا نام کمایا۔ وائٹ نیوز کے ساتھ ان کی سات سالہ وابستگی اور پشتو ڈیسک کے بانی (پائنئر) کے طور پر ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اس پلیٹ فارم کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں بلکہ پشتو صحافت کو ڈیجیٹل دنیا میں ایک نئی شناخت بھی دی۔
الغرض! صحافت کے میدان میں ان کی خدمات ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے نمایاں رہی ہیں۔
وہ جس ادارے سے بھی وابستہ رہے، وہاں زبان، ثقافت اور تاریخ کی ترویج و خدمت میں پوری دلچسپی سے کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنی تحقیق اور کاوشوں کے ذریعے قومی ہیروز، سیاحت، تصوف اور اولیائے کرام جیسے موضوعات پر گراں قدر کام کیا، جو یقیناً ناقابلِ فراموش صحافتی خدمات ھیں اور ان کی محنت، بصیرت اور قومی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
آج سے پچیس برس قبل ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے والا سردار یوسفزئی اگر چاہتا تو آج پی ایچ ڈی ڈاکٹر کے منصب پر فائز ہوتا، کیونکہ اس کی علمی رہنمائی ڈاکٹر عبداللہ جان عابد صاحب
اور باقی سب اخراجات کی ذمہ داری میں نے خود اپنے ذمے لی تھی ھماری خواھش تھی کہ یہ پی ایچ ڈی کرے ۔ تاہم افسوس کہ وہ اپنی ذات کے بجائے دوسروں کی رہنمائی میں اس قدر مگن رہے کہ متعدد ایم فل اسکالرز اور پی ایچ ڈی طلبہ کی کامیابی کا ذریعہ تو بنے، مگر خود ڈاکٹر بننے کا موقع کھو بیٹھے۔

ادبی میدان میں بھی سردار یوسفزئی کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ ان کی شاعری میں فکر، احساس اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ملتی ہے، جبکہ ان کی نثری تحریریں بھی سنجیدگی اور مقصدیت کا واضح اظہار ہیں۔ وہ ادب کو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ایک مؤثر وسیلہ سمجھتے ہیں۔
مختصراً، سردار یوسفزئی ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں، جنہوں نے صحافت، ادب اور تنظیمی خدمات کے میدان میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ ان کی خدمات نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بھی ہیں۔
سردار یوسفزئی صاحب ایک حساس دل رکھنے والے باوقار شاعر بھی ہیں۔ وہ ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں ہمیشہ وطن، قوم اور سچ کی آواز گونجتی ہے۔ ان کا قلم ہر دور میں مظلوموں کی حمایت اور حق و انصاف کی ترجمانی کرتا رہا ہے۔
پانچ شائع شدہ اور غیر شائع شدہ کتابوں(ستا غمونو سودائی کڑم
داجی
اعزاز ھے اعتزاز
شخصیات اور مقامات
مارگلہ کے دامن میں پشتو ادب کے معمار وغیرہ ) کے مصنف سردار یوسفزئی گزشتہ دو دہائیوں سے پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے پلیٹ فارم سے پشتو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروفِ عمل ہیں۔ انہوں نے نہ صرف پشتو ادب کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں بلکہ بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
قومی اور بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت کے ذریعے انہوں نے ہمیشہ اپنے علاقے، اپنی زبان اور اپنے ادب کی بہترین نمائندگی کی ہے، جو ان کی علمی، ادبی اور فکری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
سردار یوسفزئی کی تصنیف “ستا غمونو سودائی کړم” ایک عمدہ شعری مجموعہ ہے، جو اپنے فکری تنوع اور سماجی شعور کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل نظمیں محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ معاشرے کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔
ان کی شاعری میں طبقاتی ناہمواری، غربت، پسے ہوئے طبقات کی محرومیوں اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا جرات مندانہ انداز نمایاں ہے۔ شاعر نے مظلوم کی داد رسی کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے نہایت مؤثر انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وطن سے محبت، مزدور طبقے کی جدوجہد، پردیسیوں کے دکھ، نوجوان نسل کی رہنمائی، خواتین کے اہم کردار اور علم و دانش کی اہمیت جیسے موضوعات کو بھی نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔
اس مجموعے کی چند شاہکار نظمیں درج ذیل ہیں:
پیغلہ، مسافر بچی تہ د پلار خط، چی وطن آباد آباد شی، احتساب،زمونگ زوانان،یحیا سردار او ھر بچی تہ، پختنو زنانو پہ نوم، اور کرنل شیر خان — یہ تمام نظمیں اپنے منفرد اسلوب، گہرے پیغام اور اثر انگیز پیشکش کی بدولت قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
منفرد موضوع "کتاب داجی”
یہ کتاب پشتو ادب کے لیے سردار یوسفزئی کی ایک نایاب اور گراں قدر سوغات کی حیثیت رکھتی ہے۔ موضوع کے اعتبار سے یہ ایک منفرد کاوش ہے، کیونکہ والد کی شخصیت اور کردار پر پشتو زبان میں یہ اپنی نوعیت کی اولین تصنیف شمار ہوتی ہے۔
کتاب کا سرورق معروف آرٹسٹ رفعت خٹک نے تخلیق کیا ہے، جو اپنی فنی دلکشی کے باعث قاری کو پہلی نظر میں ہی متوجہ کرتا ہے۔ اس مجموعے میں اشرف خان ہجری سے لے کر غنی خان، ایمل خٹک اور دیگر نامور شعراء کی وہ نظمیں، مضامین، مقالے اور تاثرات شامل ہیں، جو انہوں نے والد کی عظیم شخصیت اور کردار کے حوالے سے تحریر کیے ہیں۔
یہ کتاب نہ صرف ادبی اعتبار سے اہم ہے بلکہ معاشرتی و اخلاقی اقدار کی عکاسی بھی کرتی ہے، جہاں والد کے مقام، قربانیوں اور کردار کو نہایت احترام اور خوبصورتی سے اجاگر کیا گیا ہے۔
اس منفرد ادبی کارنامے پر سردار یوسفزئی کو بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے، اور انہیں مختلف ادبی حلقوں کی جانب سے کئی اعزازات اور ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ یہ تصنیف بلاشبہ پشتو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
جب سے سردار یوسفزئی کو پشتو ادبی سوسائٹی اسلام اباد کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سونپی گئی، انہوں نے نہایت خلوص اور لگن کے ساتھ اس منصب کا حق ادا کیا۔ انہوں نے اُن ادبی شخصیات کے اعزاز میں بڑے اور یادگار پروگرامز منعقد کیے جو پہلے نظرانداز تھیں، یوں ان کے کام اور خدمات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تنظیم کے مالی معاملات کو انتہائی شفاف اور منظم رکھا، جو ان کی دیانت داری، ذمہ داری اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
آج جب میں سردار یوسفزئی کو اس مقام پر دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک بات آتی ہے:
"جب تمہارا کوئی دوست کامیاب ہو جائے تو فخر سے کہو کہ وہ میرا دوست ہے۔”
چنانچہ آج میں بھی نہایت محبت، فخر اور اعزاز کے ساتھ کہتا ہوں:
سردار یوسفزئی میرا دوست ہے—اور یہ میرے لیے باعثِ افتخار ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے