تحریر: سردار یوسفزئی نائب صدر، پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد

نور حسین بنگش ایک قومی سطح کے مترقی فکر رکھنے والے، روشن خیال اور باوقار انسان تھے۔ وہ علم، سماجی انصاف، رواداری اور عوامی شعور کے فروغ پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ ان کی سوچ ذاتی مفاد سے بلند ہو کر قومی بھلائی، ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے گرد گھومتی تھی، اسی وجہ سے وہ ہر مکتبۂ فکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔


انور حسین بنگش 1950ء میں کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار کے گاؤں لقمان خیل میں علی حسین کربلائی کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی، بعد ازاں 1972ء میں جامعہ پشاور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
دورانِ تعلیم وہ پشاور یونیورسٹی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرکردہ طلبہ رہنما رہے، تاہم بعد میں انہوں نے پختون قوم پرست سیاست کو بطور نظریہ اختیار کیا۔


انور حسین بنگش صاحب کے کزن جمال بنگش اور انجینئر یوسف حسین بنگش ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ارباب ایوب جان اور اعظم آفریدی بھی ان کے نہایت قریبی رفقا رہے۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر تاجک صاحب اور پروفیسر ممتاز بنگش صاحب ان کے کلاس فیلو اور قریبی دوست تھے۔ بعدازاں پروفیسر ممتاز بنگش صاحب سے دوستی رشتہ داری میں بدل گئی، جب ان کی صاحبزادی کی شادی انور حسین بنگش کے بڑے بیٹے منور حسین بنگش سے ہوئی۔

انور حسین بنگش نے عملی زندگی کا آغاز لوکل گونمنٹ سے بطور افسر کیا اور 2010ء میں ایکسین (XEN) کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران انہوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دیں۔ پاڑہ چنار، ہری پور، پشاور، صوابی اور ملاکنڈ سمیت جہاں بھی ان کی تعیناتی رہی، وہاں کے علمی، سماجی اور فکری حلقے ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ وہ ہر جگہ دیانت داری، اخلاص اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی مثال بنے رہے۔
خاموش، سنجیدہ اور متوازن مزاج کے حامل انور حسین بنگش سیاسی، سماجی اور پختون قوم کے معاشی مسائل کو مدلل اور بامعنی انداز میں بیان کرتے تھے۔ پختون قوم کے دکھ اور محرومیاں انہیں ہر وقت دل گرفتہ رکھتی تھیں، اور وہ دوستوں کے ساتھ مل کر ان مسائل کے عملی حل کی جستجو میں رہتے تھے۔ وہ ایک سچے وطن دوست، مکمل انسان اور اپنی قوم سے بے پناہ محبت رکھنے والے فرد تھے۔

انور حسین بنگش ایک ترقی پسند، قوم پرست، انسان دوست اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پشتون تھے۔ وہ باچا خان بابا، خان عبد الولی خان اور لطیف آفریدی ایڈوکیٹ (لطیف لالا) جیسی شخصیات سے گہرے طور پر متاثر تھے۔ ولی باغ میں خان عبد الولی خان مرحوم انہیں بطورِ خاص اپنے کمرے میں بلاتے اور مقامی و قومی امور پر ان سے مشاورت کرتے تھے۔ خوشحال خان خٹک، اجمل خٹک، رحمت شاہ سائل اور غنی خان ان کے پسندیدہ شعرا تھے۔
وہ پشتو زبان، ادب، ثقافت اور موسیقی سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔

انور حسین بنگش صاحب انتہائی خاکسار، عزت دینے اور شفقت کرنے والے انسان تھے۔ ان کے بڑے بیٹے منور بنگش چونکہ میرے ایک مخلص اور قریبی دوست ہیں، اس لیے ایکسین صاحب سے بھی زیادہ تر ملاقاتیں ان کے حجرے پر ہوتی رہیں، کبھی کبھار راہ چلتے ملاقات ہو جاتی تھی تو میرے ساتھ میرے بیٹے بھی ہوتے تھے، جو اس وقت چھوٹے تھے۔ وہ اکثر مجھ سے پوچھتے کہ بابا جان! منور انکل کے ابو تو آپ سے بڑے ہیں، پھر آپ کو سردار صاحب کیوں کہہ کر پکارتے ہیں؟ میں انہیں جواب دیتا کہ بیٹا! بڑے لوگ ہمیشہ اپنے مرتبے، عہدے عمر اور جاگیر کی پروا کیے بغیر دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔اور یہی لوگ معاشرے کے بہترین لوگ ھوتے ھیں

انہوں نے 12 اگست 2016ء کو اپنی رہائش گاہ، حجرہ علی پور گارڈن اسلام آباد میں، راقم کے مشورے پر ایک شاندار ادبی تقریب منعقد کروائی۔ اس تقریب کے میزبان اور اسٹیج سیکریٹری راقم سردار یوسفزئی تھے۔ صدارت ممتاز شاعر و ادیب م ر شفق نے کی، جبکہ معروف شاعر و ادیب عبدالحمید زاہد اور سینئر صحافی طاہر خان مہمانانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شعرا، صحافی اور مشرق ٹی وی کی کوریج ٹیم موجود تھی۔ نامور رباب نواز معصوم رضا اور دیگر فنکاروں نے پشتو قومی و عوامی نغمے پیش کیے۔ یہ اس علاقے میں پہلی اور ایک یادگار ادبی تقریب تھی جس میں انور حسین بنگش نے بابڑہ کے شہدا، پشتونوں کی نسل کشی اور افغان جنگ کے نقصانات پر نہایت درد مندانہ خطاب کیا۔

وہ باچا خان بابا کے جنازے کے ساتھ جلال آباد بھی گئے تھے، جہاں ایک بم دھماکے میں ان کی گاڑی شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ NA-37 کرم سے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا۔
انور حسین بنگش نے 1950ء سے 29 نومبر 2018ء تک ایک بامقصد زندگی گزاری۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ شدید تنہائی کا شکار ہو گئے اور اسی کرب میں انہوں نے خود اپنی زندگی کی کتاب بند کر دی۔
اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی روح کو سکون عطا فرمائے۔

مرحوم اپنے پسماندگان میں
اعلیٰ تعلیم یافتہ دو بیٹے، اور چار بیٹیاں چھوڑ گئے۔ بڑے بیٹے منور بنگش نے پریسٹن یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ھے اور اسلام آباد میں مقیم ہیں، جبکہ چھوٹے بیٹے دلاور عباس بنگش نے ملائشیا سے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی اور دبئی میں اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔ بیٹیوں میں دو ڈاکٹرز، ایک ماہرِ نفسیات ہیں، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی نے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ڈاکٹر فرہاد علی طوری، سجاد حسین، ڈاکٹر اخلاق حسین اور شادمان انور حسین بنگش مرحوم کے داماد ہیں، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

طلبِ علمی کے زمانے میں انور حسین بنگش امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی صدر رہے۔ وہ حجرہ جماعت کے تربیت یافتہ انسان تھے۔ پاڑہ چنار میں شیعہ سنی اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ فرقہ وارانہ امتیاز اور دہشت گردی کے سخت مخالف تھے اور پوری جرأت و ثابت قدمی سے اس کے خلاف کھڑے رہے۔ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر وہ ہمیشہ امن، رواداری اور انسانی وقار کے علمبردار رہے۔ انہوں نے زندگی میں کبھی کسی کو اذیت نہیں دی۔ وہ نہایت بے ضرر، شریف النفس اور مہذب انسان تھے۔ ان کی آخری آرام گاہ ، کرم پاڑہ چنار، گاوں لقمان خیل میں ہے۔

*ایکسین انور حسین بنگش* *تحریر: سردار یوسفزئی* نائب صدر، پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آبادانور حسین بنگش ایک قومی سطح کے مترقی فکر رکھنے والے، روشن خیال اور باوقار انسان تھے۔ وہ علم، سماجی انصاف، رواداری اور عوامی شعور کے فروغ پر پختہ یقین رکھتے تھے۔ ان کی سوچ ذاتی مفاد سے بلند ہو کر قومی بھلائی، ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کے گرد گھومتی تھی، اسی وجہ سے وہ ہر مکتبۂ فکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔انور حسین بنگش 1950ء میں کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار کے گاؤں لقمان خیل میں علی حسین کربلائی کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں ہی میں حاصل کی، بعد ازاں 1972ء میں جامعہ پشاور سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔دورانِ تعلیم وہ پشاور یونیورسٹی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سرکردہ طلبہ رہنما رہے، تاہم بعد میں انہوں نے پختون قوم پرست سیاست کو بطور نظریہ اختیار کیا۔انور حسین بنگش صاحب کے کزن جمال بنگش اور انجینئر یوسف حسین بنگش ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ارباب ایوب جان اور اعظم آفریدی بھی ان کے نہایت قریبی رفقا رہے۔ پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر تاجک صاحب اور پروفیسر ممتاز بنگش صاحب ان کے کلاس فیلو اور قریبی دوست تھے۔ بعدازاں پروفیسر ممتاز بنگش صاحب سے دوستی رشتہ داری میں بدل گئی، جب ان کی صاحبزادی کی شادی انور حسین بنگش کے بڑے بیٹے منور حسین بنگش سے ہوئی۔انور حسین بنگش نے عملی زندگی کا آغاز لوکل گونمنٹ سے بطور افسر کیا اور 2010ء میں ایکسین (XEN) کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران انہوں نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں خدمات انجام دیں۔ پاڑہ چنار، ہری پور، پشاور، صوابی اور ملاکنڈ سمیت جہاں بھی ان کی تعیناتی رہی، وہاں کے علمی، سماجی اور فکری حلقے ان کے گرد جمع ہو جاتے تھے۔ وہ ہر جگہ دیانت داری، اخلاص اور اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کی مثال بنے رہے۔خاموش، سنجیدہ اور متوازن مزاج کے حامل انور حسین بنگش سیاسی، سماجی اور پختون قوم کے معاشی مسائل کو مدلل اور بامعنی انداز میں بیان کرتے تھے۔ پختون قوم کے دکھ اور محرومیاں انہیں ہر وقت دل گرفتہ رکھتی تھیں، اور وہ دوستوں کے ساتھ مل کر ان مسائل کے عملی حل کی جستجو میں رہتے تھے۔ وہ ایک سچے وطن دوست، مکمل انسان اور اپنی قوم سے بے پناہ محبت رکھنے والے فرد تھے۔انور حسین بنگش ایک ترقی پسند، قوم پرست، انسان دوست اور اعلیٰ تعلیم یافتہ پشتون تھے۔ وہ باچا خان بابا، خان عبد الولی خان اور لطیف آفریدی ایڈوکیٹ (لطیف لالا) جیسی شخصیات سے گہرے طور پر متاثر تھے۔ ولی باغ میں خان عبد الولی خان مرحوم انہیں بطورِ خاص اپنے کمرے میں بلاتے اور مقامی و قومی امور پر ان سے مشاورت کرتے تھے۔ خوشحال خان خٹک، اجمل خٹک، رحمت شاہ سائل اور غنی خان ان کے پسندیدہ شعرا تھے۔وہ پشتو زبان، ادب، ثقافت اور موسیقی سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ انور حسین بنگش صاحب انتہائی خاکسار، عزت دینے اور شفقت کرنے والے انسان تھے۔ ان کے بڑے بیٹے منور بنگش چونکہ میرے ایک مخلص اور قریبی دوست ہیں، اس لیے ایکسین صاحب سے بھی زیادہ تر ملاقاتیں ان کے حجرے پر ہوتی رہیں، کبھی کبھار راہ چلتے ملاقات ہو جاتی تھی تو میرے ساتھ میرے بیٹے بھی ہوتے تھے، جو اس وقت چھوٹے تھے۔ وہ اکثر مجھ سے پوچھتے کہ بابا جان! منور انکل کے ابو تو آپ سے بڑے ہیں، پھر آپ کو سردار صاحب کیوں کہہ کر پکارتے ہیں؟ میں انہیں جواب دیتا کہ بیٹا! بڑے لوگ ہمیشہ اپنے مرتبے، عہدے عمر اور جاگیر کی پروا کیے بغیر دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔اور یہی لوگ معاشرے کے بہترین لوگ ھوتے ھیںانہوں نے 12 اگست 2016ء کو اپنی رہائش گاہ، حجرہ علی پور گارڈن اسلام آباد میں، راقم کے مشورے پر ایک شاندار ادبی تقریب منعقد کروائی۔ اس تقریب کے میزبان اور اسٹیج سیکریٹری راقم سردار یوسفزئی تھے۔ صدارت ممتاز شاعر و ادیب م ر شفق نے کی، جبکہ معروف شاعر و ادیب عبدالحمید زاہد اور سینئر صحافی طاہر خان مہمانانِ خصوصی تھے۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شعرا، صحافی اور مشرق ٹی وی کی کوریج ٹیم موجود تھی۔ نامور رباب نواز معصوم رضا اور دیگر فنکاروں نے پشتو قومی و عوامی نغمے پیش کیے۔ یہ اس علاقے میں پہلی اور ایک یادگار ادبی تقریب تھی جس میں انور حسین بنگش نے بابڑہ کے شہدا، پشتونوں کی نسل کشی اور افغان جنگ کے نقصانات پر نہایت درد مندانہ خطاب کیا۔وہ باچا خان بابا کے جنازے کے ساتھ جلال آباد بھی گئے تھے، جہاں ایک بم دھماکے میں ان کی گاڑی شدید متاثر ہوئی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ NA-37 کرم سے عام انتخابات میں بھی حصہ لیا۔انور حسین بنگش نے 1950ء سے 29 نومبر 2018ء تک ایک بامقصد زندگی گزاری۔ زندگی کے آخری ایام میں وہ شدید تنہائی کا شکار ہو گئے اور اسی کرب میں انہوں نے خود اپنی زندگی کی کتاب بند کر دی۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ان کی روح کو سکون عطا فرمائے۔مرحوم اپنے پسماندگان میںاعلیٰ تعلیم یافتہ دو بیٹے، اور چار بیٹیاں چھوڑ گئے۔ بڑے بیٹے منور بنگش نے پریسٹن یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا ھے اور اسلام آباد میں مقیم ہیں، جبکہ چھوٹے بیٹے دلاور عباس بنگش نے ملائشیا سے ہوٹل مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی اور دبئی میں اسی شعبے سے وابستہ ہیں۔ بیٹیوں میں دو ڈاکٹرز، ایک ماہرِ نفسیات ہیں، جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی نے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ڈاکٹر فرہاد علی طوری، سجاد حسین، ڈاکٹر اخلاق حسین اور شادمان انور حسین بنگش مرحوم کے داماد ہیں، جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔طلبِ علمی کے زمانے میں انور حسین بنگش امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے بانی صدر رہے۔ وہ حجرہ جماعت کے تربیت یافتہ انسان تھے۔ پاڑہ چنار میں شیعہ سنی اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ وہ فرقہ وارانہ امتیاز اور دہشت گردی کے سخت مخالف تھے اور پوری جرأت و ثابت قدمی سے اس کے خلاف کھڑے رہے۔ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر وہ ہمیشہ امن، رواداری اور انسانی وقار کے علمبردار رہے۔ انہوں نے زندگی میں کبھی کسی کو اذیت نہیں دی۔ وہ نہایت بے ضرر، شریف النفس اور مہذب انسان تھے۔ ان کی آخری آرام گاہ ، کرم پاڑہ چنار، گاوں لقمان خیل میں ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے