امجد ہادی یوسفزئی

ڈیجیٹل میڈیا کے اس تیز رفتار دور میں جہاں یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم نے ہر فرد کو اظہار کا موقع فراہم کیا ہے، وہیں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر مواد صرف وقتی تفریح، سنسنی اور غیر ضروری طوالت کا شکار ہے۔خاص

طور پر ڈرامہ مقابلوں اور آن لائن اسکرین پراجیکٹس میں اکثر ایسے موضوعات منتخب کیے جاتے ہیں جو ناظرین کی توجہ تو کھینچ لیتے ہیں مگر ذہن اور دل پر دیرپا اثر نہیں چھوڑتے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی تخلیق سماجی شعور، اخلاقی اقدار اور اصلاحی پیغام کے ساتھ سامنے آئے تو وہ محض ایک ڈرامہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری دستاویز بن جاتی ہے۔ یوٹیوب ڈرامہ مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ڈرامہ "سروزرومرغئی (سونے کی چڑیا)” اسی نوعیت کی ایک بامقصد اور قابلِ توجہ کاوش ہے۔

یہ ڈرامہ اس عام تاثر کو چیلنج کرتا ہے کہ معیاری، سنجیدہ اور اثر انگیز کام صرف بڑے بجٹ، مہنگے سیٹس اور طویل اقساط کے بغیر ممکن نہیں۔ "سروزرومرغئی” اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ کم بجٹ میں بھی اگر موضوع مضبوط ہو، نیت صاف ہو اور پیشکش دیانت دارانہ ہو تو نتیجہ غیر معمولی نکل سکتا ہے۔ یہی وہ رجحان ہے جسے فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان تخلیق کار سنسنی خیزی کے بجائے معاشرتی حقیقتوں کو اپنا موضوع بنائیں۔

ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اس کا اصلاحی اور حقیقت پسندانہ موضوع ہے۔ یہ کہانی ہمارے معاشرے کے ان تلخ پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے جن پر ہم اکثر نظریں چرا لیتے ہیں۔ اولاد کی نافرمانی، بوڑھے اور محتاج والدین کے ساتھ بدسلوکی، انہیں بوجھ سمجھنا، اور ذاتی مفاد کے لیے ان کے نام، جائیداد یا پنشن کا استعمال—یہ سب وہ مسائل ہیں جو خاموشی سے ہمارے گھروں میں جنم لے رہے ہیں۔ "سروزرومرغئی” نے ان مسائل کو نہ کسی خطیبانہ انداز میں پیش کیا اور نہ ہی جذباتی نعروں کے ذریعے، بلکہ سادہ، مؤثر اور عام فہم اسلوب میں ناظر کے سامنے رکھا ہے۔

ایک اور قابلِ تعریف پہلو یہ ہے کہ ڈرامے کو غیر ضروری طور پر کھینچا نہیں گیا۔ آج کے ڈراموں میں کہانی کو طوالت دینے کے لیے بے جا مناظر، غیر متعلقہ مکالمے اور تکرار عام ہو چکی ہے، مگر "سروزرومرغئی” نے ایک گھنٹے کے دورانیے میں پوری بات کہہ دی۔ یہ اختصار دراصل تخلیق کار کے اعتماد اور موضوع پر گرفت کی علامت ہے، جو ناظر کے وقت اور ذہن دونوں کا احترام کرتا ہے۔

اداکاری کے میدان میں ڈرامے کی جان طارق جمال ہیں، جن کا شمار چھوٹی سکرین کے باوقار اور سنجیدہ اداکاروں میں ہوتا ہے۔ اس ڈرامے میں انہوں نے ایک فالج زدہ، خاموش اور بے بس باپ کا کردار ادا کیا ہے—اور کمال یہ ہے کہ انہوں نے پورے ڈرامے میں ایک بھی مکالمہ ادا نہیں کیا۔ اس کے باوجود ان کی موجودگی ہر منظر میں گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی زبان، جسم کی بے جان حرکتیں اور خاموش چیخ ناظر کو اندر تک ہلا دیتی ہیں۔ یہ اداکاری نہیں بلکہ کردار میں ڈھل جانے کی مثال ہے۔

طارق جمال نے نہ صرف اداکاری بلکہ بطور لکھاری اور ہدایتکار بھی اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت اور مہارت سے نبھائی ہیں۔ کہانی میں جہاں مکالمہ خاموش ہو جاتا ہے، وہاں انہوں نے پسِ پردہ آواز (Voice Over) کے ذریعے کردار کے اندرونی کرب، یادوں اور احساسات کو بڑی خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ یہ تکنیک کہانی کو بوجھل بنانے کے بجائے اسے مزید بامعنی بنا دیتی ہے اور ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

ڈرامے کے دیگر فنکاروں نے بھی بھرپور انداز میں کرداروں سے انصاف کیا ہے۔ خاص طور پر شہناز پشاوری نے منفی کردار کو جس حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے منفی کردار کو چیخ و پکار یا مبالغہ آرائی کے بجائے ایسے نارمل انداز میں نبھایا کہ ناظر کو احساس ہوتا ہے کہ یہ کردار ہمارے معاشرے میں عام پایا جاتا ہے۔ دونوں بیٹوں کے کرداروں نے بھی خود غرضی، بے حسی اور مفاد پرستی کو اس طرح پیش کیا کہ کہانی اپنی اصل روح کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

"سروزرومرغئی” دراصل ایک سوال ہے جو ہر ناظر کے ضمیر سے مخاطب ہوتا ہے:
کیا والدین صرف اس وقت تک قابلِ احترام ہیں جب تک وہ کمانے کے قابل ہوں؟
کیا اولاد کا فرض صرف لینا ہے، لوٹانا نہیں؟

ایسے سوالات کا جواب کسی تقریر یا وعظ میں نہیں بلکہ اسی طرح کے اصلاحی اور بامقصد ڈراموں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ڈرامے کی اہمیت صرف تفریح تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سماجی آگہی مہم کی حیثیت رکھتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسی نوعیت کے سنجیدہ، اصلاحی اور مختصر دورانیے کے ڈراموں کو فروغ دیا جائے تو معاشرتی بگاڑ کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ "سروزرومرغئی (سونے کی چڑیا)” اس بات کی روشن مثال ہے کہ نیت صاف ہو تو کم بجٹ بھی رکاوٹ نہیں بنتا، اور اگر مقصد معاشرے کی اصلاح ہو تو ایک گھنٹہ بھی کافی ثابت ہو سکتا ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے