پولیس نے کمال تندہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا،ملزمان میں سے ایک کسٹم چوک جبکہ دوسرا افغانستان سے تعلق رکھتا ہے
پشاور (مدثر زیب سے) پشاور میں خونی رہزنی کیس کا ڈراپ سین، ملزمان نے نوجوان کو یرغمال بنانے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔پولیس نے اندھا قتل ٹریس کرتے ہوئے ملزمان شاہ زیب عرف ”ڈائنو سار” اور سعید اللہ عرف گوپھی کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ایس پی کینٹ ڈویژن عبداللہ احسان نے واقعے کے حوالے سے پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ سال نو کے دوسرے ہی دن پشاور کے علاقے شہید آباد میں خونی رہزنی کا واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے کمال تندہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان میں سے ایک کا تعلق پشاور کے کسٹم چوک سے جبکہ دوسرا افغانستان سے تعلق رکھتا ہے۔


انہوں نے بتایا کہ کینٹ ڈویژن کے تھانہ پشتخرہ پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے نوجوان شاہ زیب کے خونی رہزنی کیس میں ملوث سنیچرز کو گرفتارکر لیا۔ ملزمان علاقے میں دہشت پھیلاتے، لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے تھے اور ڈائنوسار ااور گوپھی کے ناموں سے مشہور تھے۔ ملزمان نے ایک ہفتہ قبل گھر کے قریب نوجوان شاہ زیب کو یرغمال بنایا اور مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔
واقعے کے حوالے سے مقتول کے والد مرتضی ولد عبد الحمید سکنہ شہید آباد کی مدعیت میں مورخہ 2 جنوری 2026 کو تھانہ پشتخرہ میں نامعلوم ملزمان کے خلاف خونی رہزنی کا مقدمہ درج کیا گیا۔سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد اور ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے جس پر ایس پی کینٹ ڈویژن عبد اللہ احسان کی نگرانی میں ڈی ایس پی پشتخرہ سرکل عمر آفریدی، ایس ایچ او تھانہ پشتخرہ افتخار احمد اور تفتیشی عملے پر مشتمل خصوصی ٹیم نے ٹیکنیکل بنیادوں پرملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان میں سے ایک کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان جبکہ دوسرے کا تعلق کسٹم چوک پشاور سے ہے۔ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے منظم سنیچرز اور راہزن گروہوں سے وابستگی اور اسلحہ کی نوک پر شہریوں سے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے سمیت خونی راہزنی اور متعدد دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ۔
![]()