45000 نفوس پر مشتمل آبادی کی شمولیت اور رائے لئے بغیر یہ اتھارٹی قائم کی گئی،عمائدین کی پریس کانفرنس
پشاور(مدثر زیب سے)صوبائی حکومت کی جانب سے 2019-20 ء میں ”سپیشل پرسن“ کے ڈی اے کے نام سے بنائی جانے والی اتھارٹی کو حاجی شہی، تھل خاص اور کمراٹ کے عوام نے یکسر مسترد کر دیا۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی شہی، تھل خاص اور کمراٹ کے عمائدین حاجی بخت روان،حاجی سمندر خان، ملک حضرت عمر، ملک امیر گل، ملک عبدالرحمن ملک محمد دین، مفتی بشیر سراج خان، ملک رحیم اللہ کوہستانی، ملک عبدالواحد نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2019-20 ء میں ایس پی کے ڈی اے کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا جس کے مقاصد بظاہر علاقے کی تعمیر و ترقی تھے لیکن اتھارٹی کے پالیسی و قوانین کمراٹ کے باشندوں کیلئے ہرگز فائدہ مند نہ تھے۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی کا قیام وادی کمراٹ، تھل کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنے اور بیرونی لوگوں کو فائدہ دینے کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ ایس پی کے ڈی کا فوکس ترقی کے نام پر صرف اور صرف علاقے کی زمینوں کا انتظام اور علاقے پر ٹیکس لگا کر حکومت کیلئے ریونیو جنریٹ کرنا ہے جبکہ مقامی لوگوں کی شمولیت اور رائے لئے بغیر یہ اتھارٹی قائم کی گئی جو تاحال عوام کو سہولیات دینے سے قاصر ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس اتھارٹی میں علاقے کی نمائندگی شامل ہے نہ ہمیں اس کی ضرورت ہے کیونکہ یہ حکومت کا یکطرفہ فیصلہ ہے جسے ہم کسی صورت نہیں مانتے۔ حاجی بخت روان نے بتایا کہ اتھارٹی کے قیام کے مقاصد کے برعکس علاقہ عوام تاحال تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے قائم اتھارٹی کے قیام کے باوجود علاقے کا انفراسٹرکچر آج بھی تباہ حال ہے، سڑکوں کی صورتحال میں بھی تاحال بہتری نہ آ سکی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اتھارٹی لوگوں کی زمینوں پر قبضے اور لوٹ مار کیلئے قائم کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے کمراٹ کو ملک کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کی طرح بنانے کیلئے ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کمراٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمینوں پر ٹیکسز، انکم حاصل کرنے کیلئے قائم کی گئی ہے جس کو 3 ویلج کونسلز حاجی شئی، تھل خاص اور کمراٹ کے عمائدین و عوام یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کمراٹ تھل کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش گلہ بانی ہے، اتھارٹی قوانین کے نفاذ سے ہمارا ذریعہ معاش بالکل ختم ہو کررہ جائے گا جس کے باعث مقامی آبادی معاشی قتل کا شکارہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام اقوام ترقی کے خلاف نہیں لیکن جبر اور استبداد اور زبردستی مسلط کی جانے والی پالیسیاں قوانین کے خلاف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمراٹ کے عوام اس اتھارٹی کے خلاف ہر سطح پر اپنا کیس لے کر گئے، ڈی سی دیر اپر، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، مقامی ایم این اے، ایم پی کے سامنے قومی موقف بارہا پیش کیا لیکن ہر بار ہماری آواز کو یکسر نظرانداز کیا جاتا رہا۔ جبکہ آج بھی یہ حال ہے کہ اس حوالے سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ عمائدین نے کہا کہ ہمارے علاقے کے صدیوں سے چلنے والے نظام میں دراڑیں نہ ڈالی جائیں اور پرانا نظام ہی قائم رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتھارٹی ختم نہ کی گئی تو شدید احتجاج کیا جائے گا جس میں سڑکوں کی بندش اور خیبرپختونخوا اسمبلی کا گھیراؤ شامل ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے