امجد ہادی یوسفزئی

پاکستان میں توانائی کا بحران اب محض اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہا، یہ ہر گھر کی کہانی بن چکا ہے۔ سردیوں میں گیس کے بلوں نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور اب گرمیوں میں بجلی کے بلوں کی نئی یلغار نے ثابت کر دیا ہے کہ اس نظام میں سب کچھ محفوظ ہے سوائے عام آدمی کے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی مالی سال 2024-25ء کی رپورٹ کے مطابق بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے ایک سال میں قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ ان نقصانات میں سب سے بڑا حصہ 87 ارب 48 کروڑ روپے کے ساتھ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خسارہ کس نے کیا اور اس کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ جواب واضح ہے: نااہلی اوپر، ادائیگی نیچے۔

لائن لاسز، بجلی چوری، ناقص بلنگ سسٹم اور کمزور ریکوری وہ وجوہات ہیں جو سرکاری رپورٹ میں درج ہیں۔ مگر ان خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے فکسڈ چارجز کا ہتھیار نکال لیا گیا۔ فکسڈ چارجز کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے تقریباً 200 ارب روپے کا اضافی بوجھ براہِ راست عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اب چاہے آپ بجلی کم استعمال کریں یا زیادہ، منظور شدہ لوڈ کے مطابق رقم ادا کرنا لازمی ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین سے لے کر 700 یونٹس تک استعمال کرنے والوں تک، سب اس اضافی بوجھ کی زد میں ہیں۔ سنگل اور تھری فیز میٹر رکھنے والے گھریلو صارفین بھی اس شکنجے سے باہر نہیں۔

خصوصی طور پر پشاور کے شہری دوہری سزا بھگت رہے ہیں۔ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی سب سے زیادہ خسارے میں رہی، مگر اس کی انتظامیہ کے احتساب کی کوئی واضح مثال سامنے نہیں آئی۔ 87 ارب سے زائد کا نقصان کسی ایک غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل بدانتظامی کی علامت ہے۔ لیکن اصلاحات کے بجائے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا۔

دوسری جانب آئی پی پیز بدستور اپنی شرائط پر قائم ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ مؤثر اور شفاف مذاکرات کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ایک طرف آئی پی پیز کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، دوسری طرف سارا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ کیسی حکمت عملی ہے جس میں نہ شفافیت ہے اور نہ عوامی مفاد کا خیال؟

جب بجلی مہنگی ہوئی تو شہریوں کو سولر انرجی اپنانے کی ترغیب دی گئی۔ لوگوں نے قرض لے کر اور جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیے۔ ملک میں سولر کاروبار نے تیزی سے ترقی کی۔ مگر جیسے ہی یہ شعبہ پھیلنے لگا اور مخصوص مفادات نے منافع سمیٹ لیا، اسی شعبے پر ٹیکسوں کی تلوار لٹکا دی گئی۔ یہ پالیسیوں کا تسلسل نہیں بلکہ کھلا تضاد ہے۔ پہلے راستہ دکھایا گیا، پھر وہی راستہ مہنگا کر دیا گیا۔

ملک کے کئی اداروں پر مافیاز کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عوام کو کسی بھی سطح پر ریلیف نہیں مل رہا۔ معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، اور ایسے میں بجلی، گیس اور مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

اگر 472 ارب کا نقصان کمپنیوں کی نااہلی سے ہوا ہے تو احتساب بھی وہیں ہونا چاہیے۔ اگر 200 ارب کے فکسڈ چارجز وصول کیے جا رہے ہیں تو اس کی شفاف وضاحت ضروری ہے۔ آئی پی پیز کے معاہدوں کو ازسرنو شفاف بنیادوں پر طے کیا جائے، سولر انرجی پر عائد ٹیکسوں پر فوری نظرثانی کی جائے اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

عوام اب صرف بل ادا نہیں کر رہے، وہ یہ سب کچھ دیکھ بھی رہے ہیں۔ اور جب معاشی دباؤ حد سے بڑھتا ہے تو اس کی بازگشت صرف گھروں تک محدود نہیں رہتی، ایوانوں تک بھی پہنچتی ہے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے