
تحریر: سردار یوسفزئی
پاکستان کے کمالِ فن ایوارڈ یافتہ عظیم شاعر، ادیب، صحافی اور سیاستدان اجمل خٹک مرحوم کی سولہویں برسی کی مناسبت سے ایک تعزیتی و ادبی تقریب منگل، 10 فروری 2026ء کو کانفرنس ہال، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
تقریب کا اہتمام پشتو ادبی سوسائٹی، اسلام آباد اور پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن، اسلام آباد کے اشتراک سے کیا گیا، جبکہ تقریب کی صدارت پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے چیئرمین سید محمود احمد نے کی۔
نظامت کے فرائض پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل اور پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن، اسلام اباد کے نائب صدر
سردار یوسفزئی نے انجام دیے۔
تقریب کے مہمانانِ خصوصی میں سابق ڈائریکٹر جنرل صحت پختونخوا ڈاکٹر محمد ایوب روز یوسفزئی، سحر اکیڈمی کے بانی سعادت سحر، معروف شاعر، ادیب و دانشور عبدالکریم بریالے اور سینئر صحافی و پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد کے صدر قمر یوسفزئی شامل تھے۔
اس موقع پر اجمل خٹک مرحوم کی فکری، ادبی اور قومی خدمات پر سیر حاصل مقالے پیش کیے گئے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد (چیئرمین شعبہ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد)، ادیب محقق ڈاکٹر حسن جی عشرت اور معروف شاعر ادیب محقق عبدالحمید زاہد شامل تھے۔ مقررین نے اجمل خٹک کو پشتو ادب کا ایک توانا اور باوقار حوالہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری اور نثر میں قومی شعور، مزاحمت، امن اور انسانی وقار کا پیغام نمایاں ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ اجمل خٹک مرحوم کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی فکر، قلم اور عملی جدوجہد سے نہ صرف پشتو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں بلکہ پختون قوم میں شعور، خودداری اور اجتماعی بیداری کا چراغ بھی روشن کیا۔
ان کی شاعری محض الفاظ کا حسین امتزاج نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی آواز ہے، جس میں پختون تاریخ، ثقافت، قومی تشخص، آزادی، امن اور انسانی وقار جیسے موضوعات نہایت جرات، سچائی اور درد مندی سے بیان کیے گئے ہیں۔
بطور ادیب اور دانشور، اجمل خٹک نے پشتو ادب میں فکری وسعت پیدا کی۔ ان کی تحریروں میں گہرائی، استدلال اور مقصدیت نمایاں ہے۔ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ سماجی تبدیلی اور قومی اصلاح کا مؤثر ذریعہ سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف آج بھی نوجوان نسل کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
اجمل خٹک کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی قومی و سیاسی جدوجہد ہے۔ وہ ایک باعمل قومی رہنما تھے جنہوں نے پختون قوم کے حقوق، زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی جدوجہد میں جمہوری اقدار، برداشت اور پرامن مزاحمت نمایاں رہی، جو آج کے دور میں بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔
تقریب میں خورشید ابنِ لبید، احساس خٹک، نورالاسلام سنگر اور محمد ایوب ایوب نے منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس کے علاوہ مختلف اہلِ قلم اور دانشوروں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا، جن میں شعیب یوسفزئی، محمد عبدالمتین ہاشمی، پروفیسر ڈاکٹر منظور مضطر آفریدی، ڈاکٹر نگہت یاسمین، ڈاکٹر سیف الاسلام سیف اور نسیم مندوخیل شامل تھے۔
تقریب میں ممتاز ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں ادریس اثر احمدزئی، حیران خٹک، احسان حقانی، عزیز واحد، الطاف شاہ، خان کریم آفریدی،حیات سواتی، عزیز خٹک، نادم خٹک، حسنہ خٹک، فخر یوسفزئی، مومن شاہ، نوید عالم یوسفزئی، منظور میثم، توفیق خان، ڈاکٹر شاکر روف، ڈاکٹر سید الابرار، ڈاکٹر سیف اللہ، فیض گدون، سید کمال سالک آفریدی، گوہر رحمان راز، ناصر خان اور ڈاکٹر رفیع شامل تھے۔
اس کے علاوہ شعبہ پاکستانی زبانیں، علامہ اقبال اوپن ایم فل سکالروں، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے پی ایس ایف طلبہ نے مشال خان اور ہاسٹل سی ٹی پی ایس ایف نے فضل افغان کی قیادت میں شرکت کی۔
آخر میں اجمل خٹک مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ان کی ادبی و فکری وراثت کو زندہ رکھا جائے گا۔
مقررین نے پشتو زبان و ادب کے فروغ کے لیے پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کی مسلسل اور مؤثر ادبی کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس شاندار اور منظم تقریب کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی اور اسے ادبی حلقوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا۔
![]()