
پشاور: محکمہ خوراک خیبرپختونخوا نے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائیوں کے الزامات پر دو فوڈ گرین انسپکٹرز کو معطل کر دیا ہے۔ معطل کیے جانے والے افسران میں شیراز وحید اور ثقلین اعظم شامل ہیں۔محکمہ خوراک کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ آفس آرڈر کے مطابق ان دونوں افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے مجاز علاقوں سے باہر جا کر مارکیٹ انسپیکشنز کیے اور دکانداروں پر جرمانے عائد کیے، جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔آفس آرڈر کے مطابق دونوں افسران کو فوری طور پر 120 دن کے لیے معطل کرتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ آف فوڈ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس دوران وہ کسی بھی سرکاری کارروائی یا فیلڈ ڈیوٹی کا حصہ نہیں ہوں گے۔مزید بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف خیبرپختونخوا ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن (E&D) رولز 2011 کے تحت باقاعدہ محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی جائے گی، جس میں الزامات کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے گی۔سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد محکمانہ نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور فیلڈ سطح پر اختیارات کے درست استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی افسر کو قانون اور دائرہ اختیار سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ادارے کے اندرونی ذرائع کے مطابق آئندہ مرحلے میں انسپکشن نظام کو مزید شفاف بنانے اور فیلڈ آپریشنز کی نگرانی سخت کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔خلاصہ: خیبرپختونخوا محکمہ خوراک نے اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر دو فوڈ گرین انسپکٹرز کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ معاملے کی مکمل انکوائری جاری ہے۔
![]()