
پشاور پریس کلب اور الخدمت فاؤنڈیشن کے درمیان صحافیوں کی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ استعدادکار بڑھانے کے لیے ایک جامع منصوبے پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے دونوں اداروں کے مابین جلد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جائیں گے۔
اس سلسلے میں پشاور پریس کلب کے نائب صدر و چیئرمین ایجوکیشن کمیٹی ضیاء الحق کی سربراہی میں ایک وفد نے الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر خالد وقاص سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ وفد میں جنرل سیکرٹری عالمگیر خان، ایجوکیشن کمیٹی کے ارکان شکیل فرمان علی، شازیہ نثار اور ذیشان کاکاخیل شامل تھے، جبکہ الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے ترجمان نورالواحد جدون اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ملاقات میں طے پایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کو الخدمت اسپتالوں میں خصوصی رعایت پر علاج اور تشخیصی سہولیات فراہم کرے گی۔ طبی سہولیات میں مزید تین بیماریوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبران کے بچوں سمیت ان کے خاندان کے کسی بھی فرد کو تھیلیسیمیا کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔ قوتِ گویائی و سماعت سے محروم ممبران کے بچوں کو تین لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آلہ سماعت بھی فراہم کیے جائیں گے۔
تعلیم اور ہنر مندی کے شعبے میں بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے بنو قابل پروگرام کے تحت صحافیوں اور ان کے بچوں کو ای کامرس، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور گرافکس ڈیزائننگ کی مفت تربیت دی جائے گی۔ ان کورسز میں دس سال سے زائد عمر کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ مزید برآں میٹرک کے کسی بھی بورڈ میں پہلی، دوسری یا تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو خصوصی انعامات دیے جائیں گے۔
اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ وفات پانے والے صحافیوں کے بچوں کو انٹرمیڈیٹ تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ یہ سہولت نہ صرف صحافیوں بلکہ میڈیا سے وابستہ سپورٹنگ اسٹاف کے بچوں کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔
قدرتی آفات خصوصاً سیلاب کے دوران صحافیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی تربیتی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ اس دوران صحافیوں کو حفاظتی کٹس اور ضروری آلات فراہم کیے جائیں گے۔ کسی ہنگامی صورتحال میں ڈیوٹی اسٹیشن سے باہر ہونے کی صورت میں الخدمت فاؤنڈیشن رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات بھی فراہم کرے گی۔
دونوں اداروں کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس اشتراک سے صحافی برادری کو درپیش مسائل میں عملی کمی آئے گی اور ان کی پیشہ ورانہ و سماجی زندگی میں مثبت تبدیلی آئے گی۔
![]()