
پشاور (مدثر زیب سے)
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے سال 2025ء کے دوران ملک بھر میں 26 ارب 41 کروڑ روپے مالیت کی فلاحی سرگرمیاں انجام دے کر ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ ان سرگرمیوں سے 2 کروڑ 46 لاکھ سے زائد مستحق افراد نے براہِ راست استفادہ کیا۔ ان خدمات میں آفات سے متاثرین کی امداد، تعلیم و صحت کے منصوبے، کفالتِ یتامیٰ، صاف پانی کی فراہمی، مائیکرو فنانس، بنو قابل فری آئی ٹی اسکلز پروگرام اور دیگر سماجی بہبود کے اقدامات شامل رہے۔
یہ تفصیلات الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صوبائی دفتر میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران صوبائی صدر خالد وقاص نے صحافیوں کو بتائیں۔ اس موقع پر میڈیا منیجر نورالواحد جدون اور سوشل میڈیا منیجر احمد عبداللہ سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
خالد وقاص کے مطابق فلسطین (غزہ) ریلیف آپریشن کے تحت مجموعی طور پر 6,014 ٹن امدادی سامان غزہ بھجوایا گیا، جس کی مالیت 9.09 ارب روپے ہے، جبکہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ خاندانوں کی ریسکیو، ریلیف اور بحالی کا عمل جاری ہے۔ تیراہ میں حالیہ کشیدہ صورتحال اور شدید برفباری کے باعث متاثرین کو راشن، پکا پکایا کھانا، خیمے، ترپال، گرم کپڑے، صاف پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ مختلف مقامات پر میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں بنو قابل پروگرام کے تحت 50 مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں 28 آئی ٹی کورسز پڑھائے جا رہے ہیں۔ سال 2025ء کے دوران 10 ہزار سے زائد طلبہ کورسز مکمل کر کے مقامی اور آن لائن روزگار سے وابستہ ہو چکے ہیں۔ بنو قابل فیز ون کی کامیاب تکمیل کے بعد فیز ٹو کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
رمضان 2026ء کے لیے بھی الخدمت فاؤنڈیشن نے وسیع فلاحی سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے، جن میں فوڈ پیکجز، افطار دسترخوان، روڈ سائیڈ افطار، سستا تندور، فطرانہ کی تقسیم اور عید گفٹس شامل ہیں۔ الخدمت آغوش ہوم پشاور میں یتیم بچوں کے ساتھ خصوصی افطاریوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
پریس بریفنگ میں خالد وقاص نے درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب سے متاثرین کی آبادکاری، تیراہ متاثرین کی بحالی، لاکھوں یتیم بچوں کی کفالت، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، صاف پانی کی فراہمی، صحت کی سہولیات کی کمی، نوجوانوں کی بے روزگاری، بیوہ خواتین کی معاشی بحالی اور اسٹریٹ چلڈرن کے مسائل جیسے امور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھ دیں تاکہ فلاحی خدمات کا یہ سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
![]()