
پی آئی اے جس نے اپنے ابتدائی اور سنہرے دور میں نہ صرف خطے بلکہ دنیا کی بڑی ایئرلائنز کو تربیت فراہم کی۔ ایمریٹس ایئرلائن جیسے ادارے آج عالمی شہرت رکھتے ہیں، مگر ان کی بنیادوں میں بھی کسی نہ کسی درجے میں پی آئی اے کے ماہرین کی محنت شامل رہی ہے۔ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان ہوا بازی کے میدان میں رہنما حیثیت رکھتا تھا۔
پی آئی اے کبھی دنیا کے 178 سے زائد مقامات تک پروازیں انجام دیتا تھا، اس کا نیٹ ورک مضبوط تھا اور اس کی سروس کو معیار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کو بین الاقوامی سطح پر عزت اور اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور قومی پرچم فضا میں بلند ہو کر ایک مثبت پیغام دیا کرتا تھا۔
آج کی صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ کاغذی اعداد و شمار میں اگرچہ بیڑے میں 34 طیارے دکھائے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے صرف 18 طیارے ہی عملی طور پر قابلِ پرواز حالت میں ہیں۔ یہ فرق محض اعداد کا نہیں بلکہ ناقص انتظام، وسائل کی کمی اور مسلسل نظرانداز کیے جانے کا نتیجہ ہے۔
جب ماضی کی کامیابیوں پر نظر ڈالی جاتی ہے تو نور خان اور صفدر خان جیسے نام ذہن میں ابھرتے ہیں۔ وہ شخصیات جنہوں نے 1980ء کی دہائی میں پی آئی اے کو ایک منافع بخش اور منظم ادارہ بنایا، جہاں نظم و ضبط، میرٹ اور پیشہ ورانہ فیصلوں کو فوقیت حاصل تھی۔ آج اگر وہ دور واپس دیکھا جائے تو موجودہ حالت اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتی ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مختلف ادوار میں آنے والی حکومتیں پی آئی اے کو اس مقام تک واپس لے جانے میں مکمل طور پر ناکام رہیں جہاں اس کا حق بنتا تھا۔ ہر حکومت نے وقتی فائدے کو ترجیح دی، مگر ادارے کی مستقل بہتری کے لیے سنجیدہ اصلاحات سے یا تو گریز کیا گیا یا انہیں ادھورا چھوڑ دیا گیا۔
پی آئی اے کا مسئلہ محض خسارے تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی مداخلت کی ایک واضح مثال بن چکا ہے۔ ہر حکومت نے اپنے من پسند افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، چاہے وہ اس ذمہ داری کے اہل ہوں یا نہ ہوں۔ نتیجتاً ادارہ پیشہ ورانہ بنیادوں سے ہٹ کر ذاتی اور سیاسی مفادات کا شکار ہوتا چلا گیا۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک سابق وزیرِ اعظم، جو بعد میں ایک نجی ایئرلائن کے چیئرمین بھی رہے، اس بولی کے عمل میں حصہ لے چکے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نجی شعبہ کیوں آگے آیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ جب وہ اقتدار میں تھے تو اس قومی ایئرلائن کی بحالی کو ترجیح کیوں نہ دی گئی۔
یہ رویہ اس مجموعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جہاں اقتدار کے دوران قومی اداروں کی حالت سنوارنے کے بجائے خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اور بعد میں ان ہی اداروں میں کاروباری مواقع تلاش کیے جاتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر عوام کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتا ہے۔
اسی طرح سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی جانب سے بھی مختلف اوقات میں پی آئی اے میں دلچسپی ظاہر کی گئی، مگر عملی سطح پر ایسی کوئی مضبوط پالیسی سامنے نہ آ سکی جو ادارے کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیتی۔ دلچسپی اور سنجیدہ اقدام میں جو فرق ہوتا ہے، وہ یہاں واضح نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے یہ خیال سامنے آیا کہ پی آئی اے کو خرید کر اسے “ایئر پنجاب” میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سوچ بظاہر حل پیش کرتی نظر آتی ہے، مگر درحقیقت یہ مسئلے کی جڑ کو نظرانداز کرتی ہے، کیونکہ مسئلہ نام کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ایک صوبہ ایک قومی ایئرلائن کے مسائل حل کر سکتا ہے، یا یہ محض ایک اور سیاسی نعرہ ہے۔ اگر انتظامی ڈھانچہ، احتساب اور پیشہ ورانہ فیصلے درست نہ ہوں تو نام بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک ریاست اپنے سب سے بڑے قومی اداروں میں سے ایک کو بچانے میں ناکام نظر آتی ہے، مگر پھر بھی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ یہ تضاد عوام کے لیے نہ صرف پریشان کن بلکہ مایوس کن بھی ہے۔
پی آئی اے کی تباہی کے پیچھے غیر ضروری بھرتیاں، سیاسی سفارشات، مالی بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی جیسے عوامل مسلسل کارفرما رہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے ہر دور میں انہیں مزید پیچیدہ بنا دیا گیا۔
اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ اثر پی آئی اے کے ہزاروں ملازمین پر پڑا ہے۔ وہ افراد جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ادارے کے ساتھ وابستہ کیں، آج غیر یقینی مستقبل، تنخواہوں کے مسائل اور ساکھ کے زوال کا سامنا کر رہے ہیں۔
جب قومی اخبارات کے پہلے صفحے پر پی آئی اے کی بولی سے متعلق خبریں شائع ہوتی ہیں تو یہ خبر کم اور ایک قومی شرمندگی زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اپنے اثاثوں کو کس حد تک بے توقیر کر دیا ہے۔
پی آئی اے کا انجام دراصل ہمارے مجموعی نظامِ حکمرانی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ادارے افراد کے تابع ہو جاتے ہیں، پالیسیوں کا تسلسل نہیں رہتا اور ہر نیا دور پچھلے فیصلوں کو بدل دیتا ہے۔
اگر واقعی پی آئی اے کو بچانا مقصود ہوتا تو شفاف احتساب، پیشہ ور ماہرین کی تعیناتی، جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور مرحلہ وار بہتری کا راستہ اپنایا جاتا۔ مگر آسان راستہ یہ سمجھا گیا کہ مسئلے سے جان چھڑا لی جائے۔
آج عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ایک ایئرلائن کو نہیں بچایا جا سکا تو باقی قومی اداروں کا کیا مستقبل ہوگا۔ ریاست کی طاقت اس کے اداروں سے ہوتی ہے، اور جب ادارے کمزور ہوں تو دعوے بھی کھوکھلے لگتے ہیں۔
یہ معاملہ کسی ایک جماعت یا ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط غلط فیصلوں اور ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ جب تک اس اجتماعی ناکامی کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، اصلاح کا راستہ نہیں نکلے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم محض تماشائی نہ بنے بلکہ سوال اٹھائے، شفافیت کا مطالبہ کرے اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرے۔ خاموشی ہمیشہ زوال کو تقویت دیتی ہے۔
اگر آج پی آئی اے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ ایک خطرناک مثال بن جائے گی، جس کے بعد دیگر قومی ادارے بھی اسی راستے پر ڈال دیے جائیں گے۔ پھر ہمارے پاس پچھتاوے، بیانات اور یادیں ہی باقی رہ جائیں گی۔ بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر قومی اداروں کو بچانا ہے تو نعرے نہیں بلکہ عملی فیصلے کرنے ہوں گے، ورنہ تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جو اپنے فخر کو خود اپنے ہاتھوں نیلام کرتی رہی۔
![]()