
سینیٹر ایمل ولی خان کا نجکاری، ملٹریائزیشن، افغان مہاجرین اور پشتون حقوق پر دوٹوک مؤقف
پشاور: شہدائے عوامی نیشنل پارٹی اور شہیدِ امن بشیر احمد بلور کی 13ویں برسی کے موقع پر نمک منڈی چوک پشاور میں ایک بڑے جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے سے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے خطاب کرتے ہوئے ریاستی پالیسیوں، نجکاری، ملٹریائزیشن، افغان مہاجرین، دفاعی اخراجات اور پشتونوں کے حقوق پر کھل کر بات کی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نجکاری بعض مسائل کا حل ہو سکتی ہے، مگر حکومت کا بنیادی کام حکمرانی ہے، روزگار اور تجارت نہیں۔ پاکستان اسٹیل ملز، پی آئی اے اور ریلوے کی تباہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست ادارے چلانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نجکاری کے نام پر ملک میں فوج داری اور ملٹریائزیشن کی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو ایک ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فوجی فرٹیلائزر کے حوالے کیا جا رہا ہے، جبکہ فوج پہلے ہی تقریباً 140 کاروبار چلا رہی ہے، جن میں سے بیشتر پر ٹیکس ادا نہیں کیا جا رہا۔ آئینِ پاکستان کے مطابق فوج کو کاروبار کرنے، سڑکیں، سیمنٹ فیکٹریاں، کالونیاں اور کمرشل کمپلیکس بنانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ فوج کا واحد کام دفاع ہے، مگر دفاع کے نام پر کچھ اور ہی ہو رہا ہے، جسے ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ آج کے حالات وہی ثابت کر رہے ہیں جو باچا خان اور ہمارے اکابرین نے 70 سال پہلے کہا تھا کہ یہ ملک فوج کے لیے نہیں بلکہ فوج ملک کے لیے ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دفاع کے نام پر 80 فیصد ڈائریکٹ اور 180 فیصد اِن ڈائریکٹ بجٹ آخر کہاں جا رہا ہے، جبکہ عوام غربت، بے روزگاری اور بدامنی کا شکار ہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچاس سال تک افغان مہاجرین کے نام پر ریاستی سطح پر اربوں اور کھربوں روپے کا کھیل کھیلا گیا۔ پہلے انہیں مجاہد کہا گیا، پھر طالبان، فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان قرار دیا گیا، اور اب انہی لوگوں کو ذلت کے ساتھ ملک سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ پورا طریقہ کار سراسر غلط تھا اور ہے، اور جس انداز میں یہ چیپٹر بند کیا جا رہا ہے، وہ پاکستان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا الزام فوراً افغانستان پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ پُرامن لوگ ہیں اور ہمیں بھی امن کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔ ایک طرف ہمیں مارا جاتا ہے اور دوسری طرف بدنام کیا جاتا ہے، یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ بشیر احمد بلور شہید، ہارون بلور شہید اور امن کے لیے قربانی دینے والے تمام شہداء ہماری جدوجہد کا سرمایہ ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی صرف اپنے پارٹی شہداء کو نہیں بلکہ ہر اُس فرد کو شہید مانتی ہے جس نے امن اور انتہا پسندی کے خلاف قربانی دی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلور خاندان عوامی نیشنل پارٹی کا ماضی بھی ہے، حال بھی اور مستقبل بھی۔ بلور ہاؤس اور ولی باغ جب تک باچا خان کے نظریے کے امین رہیں گے، یہ قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ اے این پی کوئی ایسی جماعت نہیں جو کسی ڈرائنگ روم میں بنائی گئی ہو، یہ سو سالہ تحریک ہے جو گاؤں کی گلیوں اور راستوں میں پروان چڑھی ہے اور ہمیشہ قائم رہے گی۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ پشتونوں کے لیے عمران خان اور نواز شریف ایک جیسے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی سال حکومت کر لیں، پشتونوں کی قسمت نہیں بدلے گی۔ پشتونوں کی ترقی، امن، تعلیم، روزگار، برابری، حقوق اور قدرتی وسائل کا واحد ضامن عوامی نیشنل پارٹی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں اے این پی اپنی طاقت دکھائے گی اور کامیابی حاصل کرے گی، کیونکہ ہمارا ہدف کرسیاں نہیں بلکہ قوم کے حقوق کی جدوجہد ہے، جو ہم آخری سانس تک جاری رکھیں گے۔
![]()