امجد ہادی یوسفزئی

آل فنکار ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صوبائی اور ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ ایسوسی ایشن کے مرکزی دفتر پشاور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت صوبائی صدر سعیدہ خان نے کی۔

میٹنگ میں صوبائی صدر سعیدہ خان، سرپرستِ اعلیٰ بلال خان عرف بے بو، نائب صدر فضل خالق، جنرل سیکرٹری خوشحال حیدر، پریس سیکرٹری شکیل احمد، فنانس سیکرٹری مجنون، اکبر علی، ضلع چارسدہ کے صدر کامران اور جنرل سیکرٹری رحمان، ضلع نوشہرہ کے صدر جلیل شبنم، ضلع مردان کے صدر سید محمد، ضلع پشاور کے صدر اختر، صیاد، ملنگی مولا جٹ سمیت دیگر عہدیداران اور فنکاروں نے شرکت کی۔

میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد صوبائی صدر سعیدہ خان کی والدہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ صوبائی اور ضلعی کابینہ کے تمام اراکین نے اپنا تعارف پیش کیا جبکہ گزشتہ میٹنگ کے بعد کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جنرل سیکرٹری خوشحال حیدر نے میٹنگ کا ایجنڈا پیش کیا۔

میٹنگ میں صوبائی کابینہ کی حلف برداری کے بعد کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ستمبر 2025 میں ہونے والے انتخابات کے بعد حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی اور بعد ازاں اجلاس بلا کر تمام عہدیداران کو فوری طور پر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فنکاروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی گئیں، جن میں فنکاروں کے لیے ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈز، تفریحی سرگرمیاں، عمرہ قرعہ اندازی، ہاؤسنگ اسکیم، زکوٰۃ اور دیگر فلاحی پیکجز، تنظیمی کارڈز پر کلچر ڈیپارٹمنٹ کا لوگو اور دستخط، فنکاروں کے لیے اسپورٹس گالا اور نشتر ہال میں ثقافتی پروگرامز جیسے مطالبات تحریری طور پر پیش کیے گئے۔ کلچر منسٹر نے فنکاروں کی فلاح کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس کے علاوہ پی ٹی وی کے جنرل منیجر سے بھی ملاقات کی گئی، جس میں فنکاروں کو پی ٹی وی کے پلیٹ فارم پر مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی گئی۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ فنکاروں کے تنظیمی کارڈز کے اجرا کے لیے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، مختلف اضلاع میں تنظیمیں قائم کی گئیں، باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے گئے اور بزرگ، نادار اور بیمار فنکاروں کی عیادت اور معاونت بھی کی گئی۔

ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی سطح پر ماہانہ اجلاس منعقد کیے گئے، فنکاروں کے مسائل سنے گئے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ تنظیمی کارڈز اور پی ٹی وی کے لیے فنکاروں کے فارم بھی صوبائی دفتر جمع کروائے گئے۔

میٹنگ کے دوران فنکاروں کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں مختلف اضلاع میں ساؤنڈ سسٹمز کی بندش، پروگراموں کے دوران پولیس کی مبینہ ہراسانی، بغیر اطلاع فنکاروں کے گھروں پر چھاپے اور بے جا مقدمات کا اندراج شامل ہے۔

شرکاء نے نشاندہی کی کہ تنظیمی کارڈز نہ ہونے کے باعث فنکاروں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ فنکار برادری کا تعلق زیادہ تر غریب طبقے سے ہونے کے باعث مختلف فیسوں کی ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صوبائی کابینہ نے اعتراف کیا کہ محدود وسائل کے باوجود فنکاروں کی فلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر صوبائی صدر سعیدہ خان اور سرپرستِ اعلیٰ بلال خان عرف بے بو نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ فنکاروں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور اتحاد و اتفاق کے ذریعے تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔ ضلعی صدور کو ہدایت کی گئی کہ وہ پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کر کے فنکاروں کے مسائل حل کرائیں، بصورتِ دیگر صوبائی کابینہ خود متعلقہ اضلاع کے پولیس سربراہان سے ملاقات کرے گی۔

فنکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کرائیں اور پروگراموں سے قبل این او سی حاصل کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ جن اضلاع میں تاحال تنظیم موجود نہیں، وہاں جلد تنظیمیں قائم کی جائیں گی جبکہ تمام رجسٹرڈ فنکاروں کو جلد نوٹیفکیشن اور تنظیمی کارڈز جاری کیے جائیں گے۔

میٹنگ میں رمضان المبارک کے پیش نظر فنکاروں کے لیے خصوصی فلاحی پیکجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سیاسی، سماجی اداروں اور صاحبِ حیثیت افراد سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ کسی بھی مخالف تنظیم کے پروگرام میں بغیر اجازت شرکت کرنے والے عہدیداران یا فنکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ فنکاروں کے لیے صحت کارڈ، ہسپتالوں میں علیحدہ بیڈز، پی ٹی وی ڈراموں اور پروگراموں میں شمولیت، عمرہ اور ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

صوبائی صدر نے تجویز دی کہ ہر ضلع میں عہدیداران ماہانہ 100 یا 200 روپے فنڈ میں جمع کریں تاکہ فنکاروں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ انہوں نے وقت کی پابندی، باہمی احترام اور تنظیمی نظم و ضبط پر بھی زور دیا۔

میٹنگ کے دوران ضلع مردان کے صدر نے ذاتی مصروفیات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

آل فنکار ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کی اہم مشاورتی میٹنگ، فنکاروں کی فلاح و بہبود اور پولیس ہراسانی کے سنگین مسائل پر اظہارِ تشویشامجد ہادی یوسفزئی آل فنکار ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا کے صوبائی اور ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ ایسوسی ایشن کے مرکزی دفتر پشاور میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت صوبائی صدر سعیدہ خان نے کی۔میٹنگ میں صوبائی صدر سعیدہ خان، سرپرستِ اعلیٰ بلال خان عرف بے بو، نائب صدر فضل خالق، جنرل سیکرٹری خوشحال حیدر، پریس سیکرٹری شکیل احمد، فنانس سیکرٹری مجنون، اکبر علی، ضلع چارسدہ کے صدر کامران اور جنرل سیکرٹری رحمان، ضلع نوشہرہ کے صدر جلیل شبنم، ضلع مردان کے صدر سید محمد، ضلع پشاور کے صدر اختر، صیاد، ملنگی مولا جٹ سمیت دیگر عہدیداران اور فنکاروں نے شرکت کی۔میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد صوبائی صدر سعیدہ خان کی والدہ مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ صوبائی اور ضلعی کابینہ کے تمام اراکین نے اپنا تعارف پیش کیا جبکہ گزشتہ میٹنگ کے بعد کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جنرل سیکرٹری خوشحال حیدر نے میٹنگ کا ایجنڈا پیش کیا۔میٹنگ میں صوبائی کابینہ کی حلف برداری کے بعد کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ستمبر 2025 میں ہونے والے انتخابات کے بعد حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی اور بعد ازاں اجلاس بلا کر تمام عہدیداران کو فوری طور پر ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ فنکاروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی گئیں، جن میں فنکاروں کے لیے ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈز، تفریحی سرگرمیاں، عمرہ قرعہ اندازی، ہاؤسنگ اسکیم، زکوٰۃ اور دیگر فلاحی پیکجز، تنظیمی کارڈز پر کلچر ڈیپارٹمنٹ کا لوگو اور دستخط، فنکاروں کے لیے اسپورٹس گالا اور نشتر ہال میں ثقافتی پروگرامز جیسے مطالبات تحریری طور پر پیش کیے گئے۔ کلچر منسٹر نے فنکاروں کی فلاح کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس کے علاوہ پی ٹی وی کے جنرل منیجر سے بھی ملاقات کی گئی، جس میں فنکاروں کو پی ٹی وی کے پلیٹ فارم پر مواقع فراہم کرنے کی سفارش کی گئی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ فنکاروں کے تنظیمی کارڈز کے اجرا کے لیے ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، مختلف اضلاع میں تنظیمیں قائم کی گئیں، باقاعدگی سے اجلاس منعقد کیے گئے اور بزرگ، نادار اور بیمار فنکاروں کی عیادت اور معاونت بھی کی گئی۔ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز نے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی سطح پر ماہانہ اجلاس منعقد کیے گئے، فنکاروں کے مسائل سنے گئے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ تنظیمی کارڈز اور پی ٹی وی کے لیے فنکاروں کے فارم بھی صوبائی دفتر جمع کروائے گئے۔میٹنگ کے دوران فنکاروں کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا، جن میں مختلف اضلاع میں ساؤنڈ سسٹمز کی بندش، پروگراموں کے دوران پولیس کی مبینہ ہراسانی، بغیر اطلاع فنکاروں کے گھروں پر چھاپے اور بے جا مقدمات کا اندراج شامل ہے۔شرکاء نے نشاندہی کی کہ تنظیمی کارڈز نہ ہونے کے باعث فنکاروں کو مزید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ فنکار برادری کا تعلق زیادہ تر غریب طبقے سے ہونے کے باعث مختلف فیسوں کی ادائیگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صوبائی کابینہ نے اعتراف کیا کہ محدود وسائل کے باوجود فنکاروں کی فلاح کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔اس موقع پر صوبائی صدر سعیدہ خان اور سرپرستِ اعلیٰ بلال خان عرف بے بو نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ فنکاروں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور اتحاد و اتفاق کے ذریعے تمام مسائل حل کیے جائیں گے۔ ضلعی صدور کو ہدایت کی گئی کہ وہ پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کر کے فنکاروں کے مسائل حل کرائیں، بصورتِ دیگر صوبائی کابینہ خود متعلقہ اضلاع کے پولیس سربراہان سے ملاقات کرے گی۔فنکاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کرائیں اور پروگراموں سے قبل این او سی حاصل کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ جن اضلاع میں تاحال تنظیم موجود نہیں، وہاں جلد تنظیمیں قائم کی جائیں گی جبکہ تمام رجسٹرڈ فنکاروں کو جلد نوٹیفکیشن اور تنظیمی کارڈز جاری کیے جائیں گے۔میٹنگ میں رمضان المبارک کے پیش نظر فنکاروں کے لیے خصوصی فلاحی پیکجز پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور سیاسی، سماجی اداروں اور صاحبِ حیثیت افراد سے رابطوں کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ کسی بھی مخالف تنظیم کے پروگرام میں بغیر اجازت شرکت کرنے والے عہدیداران یا فنکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ فنکاروں کے لیے صحت کارڈ، ہسپتالوں میں علیحدہ بیڈز، پی ٹی وی ڈراموں اور پروگراموں میں شمولیت، عمرہ اور ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔صوبائی صدر نے تجویز دی کہ ہر ضلع میں عہدیداران ماہانہ 100 یا 200 روپے فنڈ میں جمع کریں تاکہ فنکاروں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ انہوں نے وقت کی پابندی، باہمی احترام اور تنظیمی نظم و ضبط پر بھی زور دیا۔میٹنگ کے دوران ضلع مردان کے صدر نے ذاتی مصروفیات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے