
تحرير: سردار يوسفزٸى
مرحوم سعید شاہ بخاری کا شمار کوہاٹ کے اُن ممتاز اور باکردار افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے قانون، سماجی خدمت اور سیاست کے میدان میں اپنی الگ پہچان قائم کی تھی۔ وہ نہ صرف ایک قابل اور اصول پسند وکیل تھے بلکہ ایک متحرک سوشل ورکر اور مخلص و ایماندار سیاستدان کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔
ان کی زندگی جدوجہد، خدمت اور دیانت داری کی عملی مثال تھی۔
وہ 1965ء میں کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کوہاٹ ہی سے حاصل کی، میٹرک کرنے کے بعد پوسٹ گریجویٹ کالج کوہاٹ سے ایف ایس سی مکمل کیا۔ انہوں نے بی ایس سی کے بعد ایم ایس سی کیمسٹری کی ڈگریاں حاصل کیں، جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ تین سال بعد امریکہ سے واپسی پر انہوں نے ایل ایل بی کیا اور وکالت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ اپنی محنت، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے باعث جلد ہی ایک ممتاز اور قابل وکیل کے طور پر پہچان بنائی۔ وہ ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ اس کے علاوہ وہ کوہاٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
بطور وکیل، مرحوم سعید شاہ بخاری نے ہمیشہ قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور مظلوم طبقے کے حقوق کے تحفظ کو اپنا مشن بناۓ رکھا۔ ان کی وکالت میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ اخلاقی اقدار نمایاں نظر آتی تھی۔ وہ دولت یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق اور سچ کی بنیاد پر مقدمات لڑنے پر یقین رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں ان پر اعتماد کیا جاتا ہے اور انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اس دوران وہ عوامی نیشنل پارٹی میں ایک متحرک اور فعال رہنما کے طور پر سامنے آئے، اور اپنی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث عوامی نیشنل پارٹی ضلع کوہاٹ کے ضلعی صدر منتخب ہوئے۔
وہ کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل کے نائب ناظم بھی رہے، جہاں انہوں نے مقامی عوام کی بڑھ چڑھ کر خدمت کی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر کردار ادا کیا۔
سماجی خدمت کے میدان میں بھی سعید شاہ بخاری کا کردار نہایت قابلِ تحسین رہا۔ انہوں نے تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے اور نوجوانوں کی رہنمائی جیسے اہم شعبوں میں عملی خدمات انجام دی ہیں۔ غریب اور نادار افراد کی مدد، فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت اور معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ایک باشعور معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے، اسی لیے سماجی شعور اجاگر کرنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
بطور سیاستدان، سعید شاہ بخاری ایمانداری، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی علامت ہیں۔ انہوں نے سیاست کو ذاتی مفاد کے بجائے عوام کی امانت سمجھا۔ ان کی سیاست میں جھوٹ، منافقت اور کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ وہ عوامی مسائل کو ایوانوں تک پہنچانے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں پر یقین رکھتے تھے۔ کوہاٹ کے عوام کے مسائل، بالخصوص نوجوانوں، مزدوروں اور پسماندہ طبقوں کے حقوق، ان کی سیاسی جدوجہد کا مرکز رہے ہیں۔
سعید شاہ بخاری کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو ایک فرد بیک وقت قانون، سماج اور سیاست میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ محنت، دیانت اور خدمت کے ذریعے معاشرے میں باوقار مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سعید شاہ بخاری کوہاٹ کے اُن چند لوگوں میں سے ہیں جو قول و فعل کے تضاد سے پاک، عوام دوست اور اصولوں پر قائم رہنے والے انسان ہیں۔ ان کی خدمات اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مرحوم شاہ صاحب کا پورا خاندان خدمت کے جذبہ سے سرشار ھے اسکی بیوہ خورشید بیگم سعید ایک باوقار، باہمت اور عوام دوست خاتون سیاستدان کے طور پر قومی سطح پر پہچانی جاتی ہیں۔ وہ عوامی نشنل پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کی رکن رہیں، جہاں انہوں نے بالخصوص خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔ پارلیمان میں ان کی موجودگی وقار، سنجیدگی اور مثبت طرزِ سیاست کی علامت رہی۔ انہوں نے قانون سازی، سماجی انصاف اور عوامی فلاح سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا اور اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ خواتین قیادت، بصیرت اور خدمت کے جذبے کے ساتھ قومی سیاست میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خورشید بیگم سعید کی خدمات انہیں ایک ذمہ دار اور بااعتماد عوامی نمائندہ کے طور پر ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔
سعید شاہ بخاری کے دوسرے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد مختلف شعبۂ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ خاندان علم، خدمتِ خلق، سماجی بہبود اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں ایک روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ یہ اپنی محنت، دیانت اور عوامی خدمت کے جذبے کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار ادا کر رھیں ھیں اور سعید شاہ بخاری کی سماجی و اصلاحی سوچ کو عملی شکل دے رھیں ھیں۔
مرحوم سعید شاہ بخاری کے ایک بھائی ڈاکٹر فاروق شاہ بھی خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ایک دردمند اور انسان دوست شخصیت ہیں۔ بطور معالج وہ بلاامتیاز عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور خصوصاً غریب و نادار مریضوں کے لیے ان کا رویہ ہمدردانہ اور مخلصانہ رہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق شاہ نہ صرف بیماری کے علاج تک محدود رہتے ہیں بلکہ مریضوں کی ذہنی و سماجی دلجوئی کو بھی اہمیت دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں عوام میں بے پناہ عزت اور اعتماد حاصل ہے۔ ان کی طبی خدمات خاندانِ شاہ کی سماجی خدمت کی روایت کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور معاشرے کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
مرحوم سعید شاہ بخاری خصوصاً جنوبی اضلاع میں ایک بڑے مصلح کے طور پر بھی سامنے آئے، جہاں انہوں نے برسوں پرانی ذاتی دشمنیوں، قبائلی تنازعات اور رنجشوں کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ فریقین کے درمیان غیر جانبدار ثالث بن کر نہایت بردباری، حکمت اور انصاف کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کا مقصد صرف تنازع ختم کرنا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنا اور معاشرے میں امن، بھائی چارے اور اعتماد کی فضا قائم کرنا تھا۔ ان کی مخلصانہ کاوشوں کے نتیجے میں کئی خاندان دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آئے، خون ریزی کا راستہ رکا اور جنوبی اضلاع میں امن و آشتی کی ایک نئی مثال قائم ہوئی، جس نے انہیں ایک قابلِ احترام سماجی مصلح کے طور پر نمایاں مقام عطا کیا
مرحوم سعید شاہ بخاری دہشت گردی کے خلاف ایک سخت اور واضح موقف رکھتے تھے۔ جس دور میں دہشت گردی عروج پر تھی اور ان کی زوجۂ محترمہ قومی اسمبلی کی رکن تھیں، اسی دوران ایک دہشت گرد حملے میں سعید شاہ بخاری شدید زخمی ہو گئے۔ وہ تقریباً تین ماہ تک اسپتال میں زیرِ علاج رہے اور اس کٹھن مرحلے کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔
سال 2024ء، 11 اگست کا سورج شاہ صاحب کے خاندان کے لیے قہر بن کر طلوع ہوا۔ اسی روز سعید شاہ بخاری ایک مقدمے کی پیروی کے سلسلے میں کوہاٹ سے پارہ چنار جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی ایک درخت سے ٹکرا گئی۔ اس المناک حادثے کے نتیجے میں سعید شاہ بخاری ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
ان کی اچانک وفات نے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور دوست احباب کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ بلاشبہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، مگر کچھ جدائیاں دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
میرا ان کے ساتھ قدر و احترام پر مبنی ایک خاص تعلق تھا۔ میں ان کے اعلیٰ کردار، شرافت اور وضع داری کا دل سے معترف تھا، جبکہ وہ میری شاعری سے خصوصی رغبت رکھتے تھے ۔
ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل میں کوہاٹ گیا۔ وہاں مرحوم اعجاز خٹک، مرحوم سعداللہ خان حیران، حافظ داودگل مفتی ابرار سلطان اور دیگر احباب کے ساتھ نہایت خوشگوار اور یادگار ادبی نشستیں ہوئیں جن میں شاعری، ادب اور فکری موضوعات زیرِ بحث رہے۔
جب میں سعید شاہ بخاری کے حجرے پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی راضی نامے کے سلسلے میں لاچی کے ایک گاؤں گئے ہوئے ہیں۔ فون پر رابطہ ہوا تو انہوں نے نہایت محبت اور خلوص سے کہا کہ میں شام تک آ رہا ہوں، آپ نے آج رات میرے پاس ہی رہنا ہے، گپ شپ بھی ہوگی اور شاعری کی محفل بھی، جانا نہیں۔
مگر افسوس کہ کوہاٹ میں میرا یہ تیسرا دن تھا اور مجھے واپس اسلام آباد روانہ ہونا تھا۔ مجبوری کے عالم میں فون پر ہی اجازت لی اور یوں ان سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ اس کے بعد بھی ملاقات کا موقع نہ مل سکا، جو آج ایک کسک اور ادھوری خواہش بن کر دل میں رہ گئی ہے۔ بہرحال، وہ آج بھی اپنی سحر انگیز شخصیت، اعلیٰ اخلاق اور محبت بھرے رویّے کی بدولت میرے اور اپنے تمام چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اور ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
![]()