پاکستانی فوج کے ایک مبینہ سابق افسر عمران علی کے بیان نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا، صحافتی حلقوں اور عوامی سطح پر شدید بحث و مباحثے کو جنم دیا ہے۔ عمران علی نے خود کو پاکستانی فوج کا سابق کپتان ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے عوام پر فائرنگ کے حکم کو ماننے سے انکار کیا کیونکہ اس کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ نہتے شہریوں پر گولیاں چلائی جائیں۔

عمران علی کے مطابق اسے اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اس نے اس حکم کو مسترد کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ انسانیت کے قتل میں شریک نہیں ہو سکتا تھا، اسی لیے اس نے ذاتی نقصان کے باوجود انکار کا راستہ اختیار کیا۔

اپنے بیان میں عمران علی یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ اس نافرمانی کے نتیجے میں اسے گرفتار کر لیا گیا اور اس پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس کے مطابق وہ باقاعدہ فوجی تفتیش کا سامنا کرنے سے قبل ملک چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا اور بیرونِ ملک چلا گیا۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب افغانستان انٹرنیشنل کے صحافی رحمان بونیری نے عمران علی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو نشر کیا۔ اس انٹرویو میں عمران علی نے خود کو ایک اصول پسند فوجی افسر کے طور پر پیش کیا اور اپنے اقدامات کو ضمیر کی آواز قرار دیا۔

انٹرویو کے نشر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ متعدد صارفین نے عمران علی کے دعوؤں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اس کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھائے اور اسے ایک من گھڑت کہانی قرار دیا۔

کچھ افراد نے کمنٹس میں دعویٰ کیا کہ وہ عمران علی کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان کے مطابق وہ کبھی بھی پاکستانی فوج میں افسر نہیں رہا۔ ان افراد نے اس کے ماضی کے حوالے سے تفصیلی الزامات بھی عائد کیے۔

ایک تفصیلی تبصرے میں کہا گیا کہ عمران علی کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ سے ہے اور اسے سن دو ہزار چودہ میں بونیر کے علاقے سلطانوس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت اس کے پاس مبینہ طور پر جعلی فوجی شناختی کارڈ اور وردی موجود تھی۔

اس تبصرے کے مطابق اس دور میں بونیر میں سیکیورٹی صورتحال نہایت خراب تھی اور آپریشن جاری تھا، جس کے باعث ہر آنے جانے والے کی سخت جانچ کی جاتی تھی۔ عمران علی کو بھی مین روڈ سے پکڑ کر حجرے میں لایا گیا اور اس سے باقاعدہ پوچھ گچھ کی گئی۔

دعویٰ کیا گیا کہ انٹرویو کے دوران واضح ہو گیا تھا کہ اس کے کاغذات جعلی ہیں، تاہم وہ مسلسل خود کو فوجی ظاہر کرتا رہا۔ بعد ازاں جب اسے بتایا گیا کہ فوج کو اطلاع دی جائے گی تو وہ ٹوٹ گیا اور اس نے حقیقت تسلیم کر لی۔

اسی بیان میں کہا گیا کہ عمران علی فوج کے نام اور وردی کا غلط استعمال کرتا رہا ہے۔ بعد میں شانگلہ میں اس کے مبینہ بڑوں سے رابطہ کیا گیا جنہوں نے بتایا کہ وہ ایک غیر سنجیدہ اور مسائل پیدا کرنے والا شخص ہے۔

بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا، جہاں کچھ عرصے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ تاہم دعویٰ کیا گیا کہ چند ماہ بعد اسے سوات میں ایک اور واقعے کے سلسلے میں دوبارہ حراست میں لیا گیا تھا۔
ایک اور تبصرے میں خود کو پشاور کینٹ سے وابستہ ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس شخص نے سن دو ہزار انیس میں عمران علی کا خود انٹرویو کیا تھا۔ اس کے مطابق عمران علی کا فوج سے کسی قسم کا باضابطہ تعلق نہیں تھا۔

اس تبصرے میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران علی اکثر فوجی وردی پہن کر گھومتا تھا، حالانکہ وہ نہ کپتان تھا اور نہ ہی سپاہی۔ تبصرہ نگار کے مطابق وہ ایک آوارہ گرد اور غیر متوازن ذہنی کیفیت کا حامل شخص تھا۔

مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ عمران علی کا اپنے خاندان سے بھی تعلق کشیدہ تھا اور اسے گھر سے نکالا جا چکا تھا۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں گھومتا رہا مگر کبھی کسی فوجی یونٹ کا حصہ نہیں رہا۔
ان تمام تبصروں میں عمران علی کے حالیہ بیانات کو بے بنیاد، جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی کہانی کا مقصد ہمدردی حاصل کرنا اور ذاتی فائدہ اٹھانا ہو سکتا ہے۔

اس معاملے میں صحافت کے کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ بعض حلقوں نے رحمان بونیری اور افغانستان انٹرنیشنل پر الزام لگایا کہ بغیر مکمل تصدیق کے اس قدر حساس نوعیت کا انٹرویو نشر کرنا صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ فوج جیسے حساس ادارے سے متعلق کسی بھی دعوے کو نشر کرنے سے پہلے متعلقہ ریکارڈ، سرکاری ذرائع اور آزاد شواہد سے تصدیق لازمی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب کچھ افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے اور الزامات بھی حتمی سچ نہیں ہوتے اور ممکن ہے کہ ذاتی دشمنیاں یا پرانے تنازعات ان بیانات کے پیچھے ہوں۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ریاستی اداروں سے متعلق بیانیے غیر معمولی حساسیت رکھتے ہیں۔ ایسے دعوے نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں، اسی لیے ان پر گفتگو میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔
عمران علی اس وقت برطانیہ میں مقیم ہے اور لندن میں رہ رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ وہاں سیاسی پناہ، یعنی اسائلم، کی درخواست بھی دے چکا ہے۔

بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر عمران علی نے اپنے اسائلم کیس کو مضبوط بنانے کے لیے خود کو ایک مظلوم، اصول پسند اور ریاستی جبر کا شکار شخص کے طور پر پیش کیا ہو۔ ان کے مطابق مغربی ممالک میں اسائلم حاصل کرنے کے لیے اس نوعیت کے بیانیے اکثر اختیار کیے جاتے ہیں۔

یہ معاملہ اب محض ایک انٹرویو تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ صحافت کی ساکھ، تحقیق کے معیار اور اسائلم کے ممکنہ غلط استعمال جیسے سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دے چکا ہے۔

اس پوری بحث نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی دعوے کو قبول کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں، شواہد، دستاویزی ثبوت اور متضاد آرا کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ناگزیر ہے، ورنہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق مٹتا چلا جاتا ہے اور عوام صرف قیاس آرائیوں کے سہارے رہ جاتے ہیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے